شاباش وفادار نوکر /اقتدار جاوید

ہم نے ہوائی جہاز پر ایک آدھ بار ہی سفر کیا ہے مگر ہوائی جہاز سے ہماری شناسائی بہت پرانی ہے۔ کہ دور سے تو جہازوں کو کئی بار دیکھا تھا۔ ہوتا یوں کہ جب بھی ہوائی جہاز فضاوں میں نظر آتا تو صرف ہم کیا سارے چھوٹے بڑے اپنی جگہ پر جامد ہو جاتے ماتھے پر ہاتھ کی چھتری بنا کر آنکھیں فضا کی جانب جما دیتے۔اوپر کبھی جہاز نظر آتا کبھی نہ آتا۔مگر آواز آتی رہتی۔جدھر جدھر آواز جاتی ہم تمام پرکار کی صورت اس کی طرف منہ کرتے جاتے۔جب کبھی پوری دقتِ نظر سے بھی جہاز نظر نہ آتا تو کسی کی آواز آتی او ادھر ادھر دیکھو۔سب اس طرف نظریں کر لیتے اور اس وقت واپس اپنی دنیا میں نہ آتے جب تک جہاز آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جاتا یا کم از کم اس کی آواز کانوں میں آنا بند نہ ہو جاتی۔بسا اوقات ہم گھر یا سکول کے کسی کمرے میں ہوتے اور کسی وجہ سے عین موقع پر آسمان کی جانب نظریں جمانے کا موقع نہ ملتا تو انتہائی ملول سے ہو جاتے۔دوستوں سے کہتے آئندہ ایسی غلطی نہ کرنا اور ہمیں بروقت مطلع کرنا۔بعض اوقات جہاز دھوئیں کی ایک لمبی لکیر بنا کر غائب ہو جاتے تو ہم اس لکیر کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو جاتے۔جہاز فضا میں اتنی دور ہوتے کہ ان کی ساخت کا بالکل پتہ نہ چلتا۔وہ فضا میں کتنی بلندی پر ہوتے اس کی بھی خبر نہ ہوتی۔یوں معلوم ہوتا وہ اوپر آسمان کے قریب ہی ہے۔جیسے جہاز کا بھید آخر کار ہم پر کھل گیا اسی طرح آسمان کے پردے کی بھی تھوڑی سے سمجھ آ گئی۔پہلے آسمان کو سمجھ لیتے ہیں بعد میں ہوائی جہاز کے نظارے کی بات کر لیں گے۔سائنس کا کہنا ہے اوپر نیلی چھت وت کوئی شے نہیں۔زمین کے گرد ہوا کہ تہہ سو کلومیٹر تک ہے۔اس کے اوپر یعنی جہاں ہوا ختم ہوتی ہے وہاں نہ رنگ ہے نہ آواز۔وہاں مکمل سکوت ہے کہیں سے کوئی تنکے کے ہلنے تک کی آواز نہیں۔پن ڈراپ سائلنس ہے۔شاید خدا کے جلال کی وجہ سے وہاں ہر شے چپ ہے۔جتنا خدا سے دور ہوتے جاؤ گے اتنا شور مچانے کی اجازت ہے۔ شاید اسی وجہ دنیا میں بہت زیادہ شور ہے۔خلا کا رنگ شاہ کالا ہے۔قارئین بہت زیادہ سیاہ لکھنے سے بہتر ہے وہ لفظ استعمال کر لیا جائے جو مفہوم کو صحیح بیان کر سکے تو اس پر معترض ہونے کا کوئی محل نہیں۔سائنس کا یہ بھی ماننا ہے کہ کائنات 93 ارب نوری سال چوڑی ہے اور ابھی پھیلتی جا رہی ہے۔اصل میں سورج کی روشنی میں سات رنگ چھپے ہوتے ہیں مگر وہ سںب مل کر سفید ہوتے ہیں یعنی اس سفید میں سات رنگ ہوتے ہیں۔ان میں ایک نیلا بھی ہے جو سب سے کمزور اور تھوڑا ہے۔زمین کے اردگرد بہت سارے ذرات ہوتے ہیں یہی آکسیجن اور نائیٹروجن کے ذرے یعنی مالیکیول۔قاعدہ یہ ہے کہ جو رنگ سب سے کم ہوتا ہے وہ سب سے زیادہ پھیلتا ہے۔نیلا رنگ یا لہر سب سے چھوٹی ہوتی ہے وہ سب سے زیادہ بکھرتی ہے اور ہماری آنکھ میں پڑتی ہے۔شام کو سورج کو زیادہ ہوا پار کرنا پڑتی ہے راستے میں سارا نیلا رنگ بکھر جاتا ہے اور شفق کا رنگ بچ جاتا ہے۔آسمان کا یہ بھید تو سائنس نے کھولا مگر ہوائی جہاز والا بھید خود ہمارے مشاہدے سے آخر کار کھلا۔ہم نے خود اپنی آنکھوں سے جو جہاز دیکھا اس پر واضح اور جلی حروف میں وڑائچ طیارہ لکھا ہوا تھا۔اب اس سے بڑی شہادت اور کون سی ہونی ہے۔ہم نے تسلیم کر لیا اور ذہن مطمئن ہو گیا کہ یہی وڑائچ طیارہ اوپر فضا میں اڑتا ہے تو جہاز بن جاتا ہے اور سڑک یا زمین پر وڑائچ طیارہ اپنے اصل روپ میں ہی جلوہ گر ہوتا ہے۔پھر ہم نے وڑائچ طیارے کو زمین پر گویا اڑتے دیکھا۔جہاں سے بسوں کے ڈرائیورز کا چھوٹا سا گیٹ ہوتا ہے وڑائچ طیارہ پر اس کی جگہ پائلٹ گیٹ لکھا ہوا تھا۔اس طیارے کی پشت پر قدرتی ائیر کنڈینشنڈ بھی لکھا تھا۔وڑائچ طیارہ کے اندر بھی بہت کچھ لکھا تھا جو اس جہاز کے مزاج کو آشکار کرتا تھا۔مجھے ان میں سب سے زیادہ اتھرا اچھو پسند آیا۔اب ایک اور وڑائچ طیارے کی بھی خبریں آ رہی ہیں۔جس جہاز یا طیارے کی خبریں آ رہی ہیں وہ ایک عینو عین اسلامی ملک قطر نے دنیا کے طاقت ور ترین شخص اور صدر کو غیر مشروط پر تحفے میں دیا ہے۔اس طیارے کی جو تصاویر آ رہی ہیں وہ بظاہر تو اتنی دلکش نہیں ہیں مگر جو کچھ اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے وہ یقینا قابل غور ہے۔اس جہاز کی ٹرمپ نے رونمائی کر دی ہے۔یہ ایک فلائنگ محل ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس کے واش روم سونے کے بنے ہوئے ہیں۔مگر حقیقت حال یوں ہے کہ بھاری دھات جہاز پر استعمال نہیں کی جا سکتی اس سے جہاز کا وزن بڑھ جاتا ہے۔اس کے اندر باہر کوئی جملہ وملہ تحریر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اس کی شان ذرا گھٹ سی گئی ہے۔قطر والوں کی مرضی چلتی تو یہ بھی عین ممکن تھا۔جہاز کے تحفے کی سیاہی کم نہیں ہوئی ہے کہ فیصلہ ہو گیا کہ قطر کی سرزمین سے امریکیوں کا واقعتاً کوچ شروع ہو چکا ہے۔یہاں امریکا کے پچاس ہزار کے قریب امریکی فوجی موجود ہیں بلکہ یہ امریکا کا اس علاقے میں ہیڈکوارٹر تھا۔ایران امریکا معاہدے کے مطابق پوری خلیجی ریاستوں سے امریکی فوجی ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جائیں گے۔یہ تو ایران نے رنگ میں بھنگ ڈال دی ہے۔رنگ قطر کا اور بھنگ ایران کی۔کہاں ایک سونے ورگا جہاز پیش کرنا اور کہاں یہ نوبت کہ وہاں سے فوجی ٹھکانہ ہی لپیٹا جا رہا ہے۔اس جہاز پر کچھ تو تحریر نہیں کیا گیا مگر جس جہاز کی جگہ یہ نیا والا جہاز استعمال ہو گا اس کے بارے میں وائٹ ہاوس کے با ذوق افسران کچھ جملے لکھے ہیں۔ان میں ایک افسر کچھ ادبی ذوق کا گرویدہ لگتا ہے۔اس نے پرانے جہاز کے بارے میں ”شاباش نیک اور وفادار نوکر“ تحریر کیا گیا ہے۔یہ جملے اگرچہ پرانے جہاز کے بارے میں کہے گئے ہیں مگر امریکیوں کے نئے جہاز کے بارے میں جذبات بھی اسی طرح کے ہی ہوں گے۔اگر یہ جملے نئے جہاز پر بھی لکھوا دئے جائیں تو یہ نیا جہاز سچ مچ ہمارے دیس میں سڑکوں پر اڑنے والے وڑائچ طیارہ کی طرح کا ہو جائے گا۔بفرض محال یہ جملے تحریر نہ بھی ہوں تو مضائقہ نہیں۔ٹرمپ بذات خود عین مین یعنی ڈیل ڈول سے وڑائچ طیارہ ہی تو ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں