پاکستان آج تک کیوں بچا ہوا ہے؟ -شازار جیلانی

میں مدت سے لکھ رہا ہوں کہ پاکستان میں ہونے والی ہر سیاسی تبدیلی کچھ خاص عالمی وجوہات کی بناء پر وقوع پذیر ہوتی ہے۔ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کا دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسیوں یعنی چین، امریکہ، برطانیہ وغیرہ کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشنز موجود ہیں۔ ایران پر بھرپور حملہ ہونے جا رہا ہے، اس کا اندازہ پاکستان کو بہت پہلے ہوچکا تھا۔ عمران خان نے یوکرین پر حملے کے وقت روس کے ہاں رہنا پسند کیا تھا۔ یہ تو ماننے والی بات نہیں ہے، کہ جب سی آئی اے ایک مہینے پیشتر کہہ رہا تھا، کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے جا رہا ہے، تو ہماری ایجنسیاں حالات سے باخبر نہ تھیں۔ پھر ایران جاکر عمران خان نے کچھ ناخوشگوار اعترافات کردیے تھے، جس کی بناء پر اس کے اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے، عمران خان کی ایران میں موجودگی کے دوران، ایران کے خلاف بیان دیا تھا۔ ساتھ عمران خان نے ایران-امریکی مسئلہ میں پارٹی بننے کی بجائے عالمی ثالث بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ (مالیات سے لیکر حربیات تک ہر بات کیلئے دست نگر رہنے والے ممالک اتنی اچانک اپنے عالمی کردار سے دستبردار نہیں ہوسکتے)۔ پھر امریکی اڈے مانگنے پر ایبسلوٹلی ناٹ کہہ کر عمران خان نے پاکستان کی ہمیشہ سے جاری اور کامیاب نیم دلانہ خارجہ پالیسی کو ایک رخ پر موڑنے کی کوشش کی، اور افغانستان پر عالمی طاقتوں کی مرضی کے خلاف کھڑے ہوگئے۔ دنیا ابھی تک ٹرانزیٹیو دور سے گذر رہی ہے، ابھی اس کا کوئی فیصلہ کن ڈکلیئرڈ مالک نہیں ہے، اس لیے ملکی مفادات کی خاطر، آزمودہ دیرینہ خارجہ پالیسی تبدیل کرنے کی بجائے، عمران خان کو تبدیل کردیا گیا۔ جن کا کُل عالمی سیاسی اثاثہ ان کی تین سالہ نیم خود مختار حکومت تھی۔
پاکستان نے شکاری اور خرگوش کے ساتھ بیک وقت دوڑنے کی اپنی اس کامیاب خارجہ پالیسی کو آج تک، جس شاندار طریقے سے استعمال کرکے، اپنے مفادات اور ملک کو جارح امریکہ، اس کے جنگی مشیر اس رائیل، اور دیرینہ دشمن انڈیا کے ڈائرکٹ حملوں اور دشمنی سے بچایا ہوا ہے، اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ جتنی جنگیں عالمی قوتوں نے پاکستان میں لڑنی تھیں، وہ ساری جنگیں پاکستان نے اپنے ہاتھ میں لیکر، اپنی سرحدوں سے باہر کھینچ کر، لڑیں۔ تعلیم، صحت، اور توانائی کو پس پشت ڈال کر فوج اور ایٹمی ہتھیار بنا لیے، جو آج پاکستان کی سلامتی اور جنگ سے بچاؤ کی واحد ضمانت ہیں۔ جس کا توڑ انڈیا کے پاس موجود ہے، اور نہ اس رائیل بہت خواہش رکھنے کے باوجود پا سکا ہے۔

عراق گرا، لیبیا اور شام گرا، جو اس رائیل کے خلاف کسی نہ کسی لیول پر متحرک تھے۔ ایران پر ماضی میں خلیجی جنگ مسلط کرنے اور اب کی تھوپی ہوئی جنگ کی وجہ بھی یہی ہے، کہ اس کی پالیسیاں عالمی خواہشات اور مفادات کے ساتھ لیول نہیں ہیں۔ پاکستان نے ہر حالت میں اپنی بساط کے مطابق بین الاقوامی فورم پر فلسطینی حقوق کی بات کی ہے۔ آج جب آبراہام اکارڈ میں سارے عرب بندھنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں، پاکستان پرانے موقف پر کھڑا ہے۔ ‘اس پاسپورٹ پر اس رائیل کے علاؤہ تمام ممالک کا سفر کیا جاسکتا ہے’، کسی دوسرے ملک کے پاسپورٹ پر لکھا ہوا نہیں ہے۔ (میرا ذاتی خیال ہے کہ پاکستان کو اسرائیل سمیت تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے چاہیے)۔

ٹرمپ واپس آیا، تو تمام ممالک میں صرف پاکستان کی تعریفیں کرنا شروع کیں۔ ‘گریٹ گریٹ فیلڈ مارشل’ اور ‘عظیم وزیر اعظم’، آٹھ سے لیکر گیارہ انڈین جہاز گرانے کی قوالی، عالمی فورمز پر کسی امریکی صدر کی ایسی باتیں کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ہمیں ٹرمپ کو کیا گیا، شہباز شریف کا سلوٹ تو یاد ہے، لیکن کسی کو پاکستان کے بارے میں ٹرمپ کے کئے گئے، چاپلوسی سے بھرپور تبصرے اور بیانات یاد نہیں ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو امریکہ کی ضرورت ہے۔ وہ تو ہے۔ لیکن امریکا کو پاکستان کی ضرورت ہے، یہ کسی کو احساس نہیں۔ لگتا ہے ایران پر ہونے والے حملے سے پہلے صرف پاکستان دیوار بنا ہوا تھا۔ گریٹ اور فیورٹ فیلڈ مارشل اور عظیم وزیر اعظم جیسی تعریفیں صدر ٹرمپ کی وہ چاپلوسیاں تھی، جس کے ذریعے وہ پاکستان کو ایران پر ہونے والے حملے میں، ایران کے حق میں کسی بھی مثبت مداخلت سے روکنا چاہتے تھے۔ میں نے مجہول قسم کی پیجز کے ان پروپیگنڈا بیانات کو اس وقت قابلِ قبول نہیں سمجھا تھا، جب پچھلی ایران امریکی جنگ میں، وہ پاکستان کی ایرانی مدد کے بارے میں پروپیگنڈا کر رہی تھیں، لیکن لگتا ہے پچھلی جنگ میں واقعی پاکستان، ایران کو کسی نہ کسی طرح کی کوئی مثبت ان پٹ دے رہا تھا، جس سے ایران کو مدد مل رہی تھی۔ اس لئے ٹرمپ کی خواہش پر پاکستان بورڈ آف پیس کا ممبر بنایا گیا، جس کی فوری قیمت اس نے اپنے دوست سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی شکل میں اور دوسری طرف افغانستان میں مداخلت کی اجازت ملنے کی صورت میں وصول کی۔ لانگ ٹرم مفادات کی صورت گیری وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتے جائیں گے۔

پاکستان، ایک طرف چھنگاڑتے ہوئے آگ اُگلنے والے ڈریگن کی ضرورت بنا ہوا ہے، تو دوسری طرف اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے، کہ اس نے اپنی عالمی پی آر اور لابینگ کیلئے ٹرمپ جیسے اونچے سروں میں سوچنے والے طاقتور شخص کو ہائر کیا ہوا ہے۔

یاد رکھیں، ایٹمی اسلحہ کے علاؤہ ایران اور پاکستان کے درمیان فرق، پاکستان کی یہی حقیقت پسندانہ اور عملی خارجہ پالیسی ہے۔ جس کے تحت وہ شکاری اور خرگوش دونوں کے ساتھ بیک وقت دوڑنے کا ہنر سیکھ چکا ہے۔ امریکا بد مست ہاتھی ہے، اس رائیل اس ہاتھی کا مہاوت ہے، اور پاکستان اس ہاتھی کا ہمہ وقت دوست۔

دنیا بھر کے جرنیل، جنگ کیسے لڑیں گے، سیکھتے ہیں، جبکہ ہمارے جرنیل جنگ سے کیسے بچائیں گے، میں ماہر ہیں۔ (جب مجبوری بنی تو اصحاب الرافیل کا تماشا بھی بنایا)۔ ہر تعصب، رفاقت اور تعلق سے بالاتر ہوکر، کوئی بھی ہماری ملٹری ایسٹبلشمنٹ کے اس وسیع کامیاب کردار کا تجزیہ کرے گا، جس کی وجہ سے ہمارے گھر، بچے، اور زندگی اج بچی ہوئی ہے، تو میری طرح سوچے گا، اور مشکور رہے گا۔

دنیا اس وقت تبدیل ہو رہی ہے، ابھی اس کا کوئی تسلیم شدہ مالک سامنے نہیں آیا۔ اس میں بچے گا وہی جو ٹھنڈا کھائے گا اور ہوش سے کام لیگا۔ صدام، قذافی اور بشار جیسا رویہ نہیں رکھے گا۔ بہتر ہے ہم بھی ٹھنڈا کھائیں اور دیکھیں کہ ہماری بچت کس کردار میں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں