اظہار کی آزادی اور ذہنی آزادی/ناصر عباس نیر

یہ درست ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر شخص کو اپنی بات کہنے اور لاکھوں کروڑوں لوگوں تک پہنچانے کی ایک ایسی سہولت حاصل ہے،جس کا اس سے پہلے تصور بھی نہیں تھا۔

سوشل میڈیاپس ماندہ ،درماندہ ، بے آواز ، محروم طبقوں کا سہار ا بھی بناہے؛ سوشل میڈیا نے ان کی صدیوں پرانی خاموشی کو گویائی کا موقع دیا ہے۔ انھوں نے اپنی بات اپنی زبان میں ، اپنے انداز میں کہنا شروع کی ہے۔اپنی زبان میں، اپنے منتخب پیرائے میں ،اپنی بات کہنے سے انھیں صرف طاقت ہی نہیں ملی، انھیں سائبر سپیس کے ساتھ سوشل سپیس میں ’جگہ ‘ بھی ملی ہے۔

ان کے لیے یہ ایک تاریخی لمحہ ہے؛مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔

اپنی بات کہنے کی آزادی سے پہلے ، ’اپنی بات ‘ کا مرحلہ آتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اظہار کی آزادی بعد میں ہے، ذہن وخیال کی آزادی پہلے ہے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ذہن میں ہر خیال خود آدمی کی آزادانہ منشا سے پیدا ہوتا ہے؟ہمیں باہر کی زنجیریں ، ریاست کے سخت گیر قوانین، سماج کے محاسبے کی مختلف صورتیں آسانی سے دکھائی دے جاتی ہیں، مگر ہمارے ذہن جن نظریاتی ، عقیدتی ، تعصباتی زنجیروں کے ساتھ ، کئی طرح کے خوف، نفسیاتی پیچیدگیوں میں جکڑے ہیں، ان کی طرف ہماری نگاہ شاید ہی جاتی ہو۔

ہم انھیں زنجیریں سمجھتے ہی نہیں، انھیں اپنے نفسیاتی تحفظ کی ناگزیر صورتیں قرار دیتے ہیں۔ چناں چہ ان پر سوال کے بجائے، نہ صرف انھی کے تحت اور اندر سوچتے ہیں، بلکہ ان کا مسلسل دفاع بھی کرتے ہیں۔حقیقت میں،ہم ذہنی آزادی ہی کا خوف رکھتے ہیں۔

ہم اپنی محفوظ ذہنی پناہ گاہوں پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالنے کی شاید ہی جرأت کرتے ہوں، جس کے بغیر ہم ذہنی آزادی کا تجربہ کر ہی نہیں سکتے۔ ذہنی آزادی کے بنیادی سوال کو ، سوشل میڈیا پر حاصل اپنی بات کہنے کی آزادی کے خیال سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت سوشل میڈیا پر جتنانفرت انگیز مواد ،ہر لمحے ظاہر ہورہا ہے اور وائرل بھی ہورہا ہے، اسے ذہنی آزادی ہی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

( زیر طبع،’’سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا ‘’ؒ سماجی ذرائع ابلاغ پر شائع شدہ تحریروں کا انتخاب کے دیباچے سے اقتباس)۔

اپنا تبصرہ لکھیں