“Book Recommendation And Parenting”
“My goodness”, thought Milo. “Everybody is so terribly sensitive about the things they know best.”
(The Phantom Tollbooth)
اس بار میں نفسیات، نفسیاتی مسائل یا پھر ٹروما پر کوئی کتاب تجویز نہیں کروں گی بلکہ حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ بچوں کا ایک مشہور ناول ”دا فینٹم ٹول بوتھ“ پڑھنے کا اتفاق ہوا، اور میں تجویز کروں گی کہ آپ خواہ والدین ہیں یا نہیں، جو بھی آپ کی عمر ہے، اس ناول کو ضرور پڑھیے۔ خاص کر والدین اسے اپنے بچوں کے ساتھ ضرور پڑھیں۔ بہت ممکن ہے کہ آپ میں سے کئی لوگوں نے اسے پڑھ بھی رکھا ہوگا۔
ناول میں مائیلو نامی ایک دس سالہ بچہ جو کہ بوریت کا شکار ہے، زندگی اور دنیا میں دلچسپی کھو چکا ہے، اسے سب بے معنی لگتا ہے، ایک دن اسکول سے واپسی پر اپنے کمرے میں ایک پیکج ملتا ہے جس میں ایک ”ٹول بوتھ“ ہوتا ہے جہاں سے وہ اپنی ایک چھوٹی الیکٹرک کار میں عجیب لیکن خوبصورت سفر پر ”ماوراء الملک“ (Lands Beyond) کی جانب روانہ ہوجاتا ہے۔
ناول کے لکھاری نورٹن جسٹر جس خوبصورتی کے ساتھ تخلیقی الفاظ کا استعمال کرکے مختلف کرداروں کو دلچسپ نام دیتے اور انہیں بیان کرتے ہیں کہ وہ کردار آپ کے دماغ میں رہ جاتے ہیں۔ میں ناول پر تبصرہ نہیں کروں گی کیونکہ اصل مزہ اسے پڑھنے میں ہے اور یہ آپ کو خود پڑھنا ہوگا۔
اس ناول کو پڑھنے کا لطف شاید اس لیے آیا کیونکہ مجھے اپنے بیٹے کے ساتھ وقت گزارنے، اپنے حقیقی تجربات، احساسات اور واقعات کو بانٹے کا موقع ملا۔ ہم میں سے اکثر والدین بچوں کو اپنی غلطیاں یا پھر حقیقی واقعات بتانے سے گرہیز کرتے ہیں، اس طرح سے ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے ہم پرفیکٹ اور مکمل انسان ہیں۔ ایک بچہ اپنے ارد گرد بالغ افراد کو دیکھتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ جو بےبسی، جذبات اور احساسات وہ محسوس کررہا ہے شاید وہ صرف اس کے ساتھ ہی ہورہا ہے، اور اس کے ارد گرد موجود بالغ افراد نے شاید بچپن جیسا وقت دیکھا ہی نہ ہو۔ جب ہم اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، مختلف کہانیوں کے ذریعے انہیں زندگی اور دنیا کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں تو اس سے انکی ذہنی نشونما پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
آپ جب بھی بچوں کو کہانیاں سنائیں یا انہیں کچھ سمجھانا سکھانا چاہتے ہیں توحقیقی زندگی سے مثال دے کر سمجھائیں،اگر اپنے بچپن یا اپنی زندگی سے مثال دے کر سمجھائیں گے، بچے کو براہِ راست تنقید کا نشانہ نہیں بنائیں گے تو وہ بہتر طور پر آپ کی بات کو نہ صرف سمجھے گا بلکہ اسکے عمل کرنے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
مثال کے طور پر اس ناول میں ایک سبق جسکا میرے بیٹے کی نفسیات پر بہت گہرا اثر ہوا اور وہ اس بات کو نہ صرف سمجھ سکا بلکہ اس پر عمل کرنے کے قابل بھی ہوا، وہ تھا — ”نقطہ نظر“ (Point of View)….. ہر انسان کا نقطہ نظر منفرد ہوسکتا ہے، ہم جس جگہ اور اونچائی (یہاں جگہ اور اونچائی نفسیات کے زمرے میں ہے) سے چیزوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں ضروری نہیں کہ سب بھی ویسے ہی دیکھ سکیں۔ میری ایک بہت بری عادت رہی ہے اور وہ ہے دوسروں پر ”اپنے نظریات مسلط کرنے“ اور ”دوسروں کی پسند ناپسند پر تنقید“ کرنے کی۔ اس سبق کو سمجھانے کے لیے میں نے اپنے بیٹے کو اپنی مثال دی کہ مجھے ہمیشہ دوسروں کے نظریہ کو سمجھنے اور انکی خواہش کا احترام کرنے میں دقت ہوتی ہے، اور کس طرح میں اس سبق سے اتفاق کرتی ہوں کہ ”ہر انسان کا منفرد انتخاب اور نظریات ہوسکتے ہیں“، میرے بیٹے نے بھی کھل کر اس بات کا اظہار کیا کہ کیسے اسے بلکل اچھا نہیں لگتا کہ میں اس پر اور اسکے ابا کے انتخاب پر اکثر بےجا تنقید کرتی ہوں اور وہ مجھ سے اپنا انتخاب یا نظریات شیئر کرنے سے گرہیز کرتا ہے۔ اب اگر غلطی سے بےخیالی میں کسی پر تنقید کروں (عادت سے مجبور ہوں) تو فوراً سے جوابی تیر آتا ہے کہ ”مما! سب کا اپنا ”پوائنٹ آف ویو“ ہوتا ہے۔
ایک ماں اور نفسیات دان ہونے کے ناطے میں نے سیکھا کہ ہم اپنے بچوں کو وہی دے سکتے ہیں جو ہمارے پاس موجود ہے، جیسے اگر کوئی بچہ کسی ایسے گھرانے میں پیدا ہوتا ہے جہاں ”آبائی دولت“ موجود ہے تو اس کے لیے مزید سرمایہ کاری کے مواقع کھل جاتے ہیں بلکل اسی طرح اگر کسی بچے کے والدین کے پاس بھرپور ”جذباتی ذخیرہ“ (emotional reservoir) موجود ہے تو وہ اس کے ساتھ صحتمندانہ جذباتی تعلق بناسکتے ہیں، ”جذباتی لحاظ سے غریب والدین “کے بچوں میں جذباتی نشونما کی کمی ہوتی ہے۔
اگر والدین کے پاس ”ایموشنل انٹیلیجنس“ نہیں تو یہ ناممکنات میں شامل ہے کہ وہ بچوں کے جذبات سمجھ سکیں یا انہیں جذبات کو سمجھنے میں مدد کرسکیں۔ جو خوبیاں آپ اپنے بچوں میں دیکھنا چاہتے ہیں وہ اگر آپ میں نہیں تو ان میں ان خصوصیات کا نظر آنا قدرے مشکل ہے (چند ایسی مثالیں ہونگی جہاں یہ تھیوری اپلائی نہ ہوتی ہو اور وہاں بھی بہت ممکن ہے کہ بچے کو آباء واجداد سے اچھے جنیات کی شکل میں لاٹری ملی ہو)۔ میری والدہ سے مجھے ”ایموشنل انٹیلیجنس“ نہیں ملی، مجھے سیکھنی پڑی اپنے بیٹے کے جذبات کو سمجھنے اور اس کے لیے دل میں ”ہمدردی“ لانے کے لیے، میں جذباتی طور پر غربت کا شکار رہی ہوں، مجھے اپنے جذباتی ذخیرہ کو بھرنے کے لیے کافی محنت کرنی پڑی اور آج بھی کرنی پڑتی ہے۔
اکثر والدین ”حیاتیاتی وابستگی“ (Biological Attachment) کو ”ہمدردی“ (empathy) جبکہ ”اضطراب“ (anxiety) کو ”خیال کرنا/فکر“ (care/love)سمجھتے ہیں، جبکہ ان تمام احساسات میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ ان جذبات کو سمجھنا اور انکا شعور ہونا ہی ”ایموشنل انٹیلیجنس“ ہے۔
خیر! بات کہاں سے کہاں نکل گئی……
کئی بیشمار مثالیں، اپنی ذاتی زندگی، بچپن، موجودہ ٹیکنالوجی کا دور، سوشل میڈیا اور سرمایہ دارانہ نظام سے متعلق نظریات کو اس ناول کو پڑھتے ہوئے اپنے بیٹے کے ساتھ زیرِ بحث لائی۔ مجھے شاید اس لیے بھی پڑھنے میں مزہ آیا کیونکہ نورٹن جسٹر کے خوبصورت تخلیقی کرداروں ، پرکشش تیز فہم الفاظ کو اپنے بیٹے کے ساتھ پڑھنے اور تجربہ کرنے کے ساتھ مجھے کئی بظاہر معمولی دکھنے والی البتہ اہم باتوں پر غور کرنے کا موقع بھی ملا۔


