محترم قارئین، یہ مضمون محدود علاقائی مسائل پر مبنی ہے، لیکن عموماً پورے گلگت بلتستان میں اس طرح کے واقعات وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ معاشرتی عدم برداشت اور نااہل افراد کے ہاتھوں معاشرتی نظم و نسق کا ہونا ہے۔ یقیناً مہذب معاشروں میں مسائل مکالمے کے ذریعے حل ہوتے ہیں اور مکالمہ ہی معاشرتی مسائل کے حل کا بہترین راستہ ہے۔
چلیں، ہم اپنے اصل موضوع کی طرف چلتے ہیں۔ قوموں کے درمیان تنازعات کا نہ ہونا غیر ممکن اور غیر فطری ہے، لیکن مہذب اور سمجھدار قوموں میں تنازعات کا حل افہام و تفہیم، قانونی تقاضوں، تاریخی حقائق، معاشرتی رواج اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی لگام اگر سیاسی، معاشی اور معاشرتی طور پر مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں چڑھ جائے تو وہ معاشرہ ہر قسم کے معمولی مسائل پر آپس میں دست و گریبان ہو جاتا ہے۔
آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ مہذب قومیں سوشل میڈیا کو مثبت کاموں کے لیے استعمال کرتی ہیں، لیکن لاشعور معاشروں میں سوشل میڈیا تنازعات میں ایندھن کا کام کرتا ہے۔ یہ ایندھن معاشرے کی بنیادوں کو اس حد تک بے دردی سے جلا دیتا ہے کہ اس معاشرے سے اسلامی اصول اور یہاں تک کہ انسانیت کے تقاضے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ پھر بھی معاشرہ روایتی طور پر اسلامی نظر آتا ہے۔
بنیادی طور پر میرا تعلق موضع غاسنگ کھرمنگ بلتستان سے ہے، لیکن ننھال کی طرف سے موضع منٹھوکھا کا بھی دو کھیوٹ دار ہوں۔ لہٰذا ان علاقوں کے مسائل پر ہمیشہ بغیر کسی فریق بنے بانگ دہل لکھتا رہا ہوں۔ اس وجہ سے معاشرے میں شدید تنقید کا سامنا رہتا ہے۔ بطور ایک ادنیٰ قلم کار کے، زمانۂ طالب علمی سے معاشرتی مسائل پر مسلسل لکھنے اور خاص طور پر مسئلہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے لکھنے کی “جرم” میں الزامات کا اتنا عادی ہو گیا ہوں کہ اب کوئی فرق نہیں پڑتا۔ البتہ میرے والدین جب اس قسم کی باتیں سن کر پریشان ہو جاتے ہیں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس معاشرے اور ان لوگوں سے نفرت کرتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس معاشرے میں انسانوں کی تربیت دینِ محمدی ﷺ کے بجائے شیطانی مکتب سے ہوتی ہے۔
اب اگر موضوع پر بات کریں تو میں ہمارے علاقے کے کچھ تنازعات پر روشنی ڈالوں گا، جن کی وجہ سے معاشرہ تقسیم ہوا اور عام آدمی دست و گریبان ہے۔ آج تک کی تاریخ میں خواص کے علاوہ عام آدمی کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔پہلا تنازعہ موجودہ ضلعی ہیڈ کوارٹر کھرمنگ کی ملکیت کا ہے، جو اہلیانِ مادھوپور اور ساداتِ گوہری کے درمیان سبق آموز ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کھرمنگ جسے عرف عام میں گوہری تھنگ کہتے ہیں، کم از کم چار کلومیٹر طول و عرض پر پھیلا ہوا ہے۔ اب یہ مکمل طور پر سرکاری قبضے میں چلا گیا ہے اور دہائیوں تک اس میدان کی ملکیت کے لیے مقدمہ لڑنے والوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ مجھے یاد نہیں یہ تنازعہ کب شروع ہوا تھا، لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ اس میں نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ باقاعدہ طور پر ایک دوسرے کے خلاف دورِ جاہلیت کی طرح پتھروں سے حملہ آور ہوئے۔ غالباً اہلیانِ مادھوپور کا پہلا مطالبہ گوہری تھنگ میں مویشی چرائی اور قبرستان کے لیے زمین کا تھا، جسے اہلیانِ ساداتِ گوہری نے مزاحمت کے ساتھ مسترد کر دیا۔ نتیجتاً عام آدمی خسارے میں چلا گیا اور دونوں طرف کے خواص نے اس کیس سے خوب فائدہ اٹھایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ موضع مادھوپور میں گروپ بندی ہو گئی اور اہلِ موضع دہائیوں تک ایک دوسرے کے ساتھ معاشرتی لین دین، غم اور خوشی میں قطع تعلق رہے۔ اب جب گوہری کا میدان سرکاری ہو گیا ہے تو صورتحال کچھ حد تک نارمل ہو گئی ہے۔ اگر اس وقت دونوں فریقین باہمی افہام و تفہیم سے مسئلے کو حل کر لیتے تو دونوں فریق کے پاس اگلی چار نسلوں کے لیے زمین باقی بچ جاتی۔ مگر ایسا نہ ہو سکا اور اب یہ میدان سوائے عبرت اور افسوس کے کچھ نہیں رہا۔
دوسرا اہم تنازعہ اہلیانِ مادھوپور اور اہلیانِ منٹھوکھا مالکانِ ندی کے درمیان حسین زمبہ تا لبِ دریا سندھ تک کی حد بندی کا تھا۔ اس کیس میں بھی فریقین اور ان کے وکلاء (جنہیں عرف عام میں سرکردگان کہتے ہیں) نے دونوں جانب سے قانونی اور شرعی جنگ لڑی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم چونکہ مزارعینِ ندی کے درجہ اول میں آتے ہیں (کیونکہ منٹھونالہ یا منٹھوکھا نالہ کے اطراف ہماری زمینیں کافی ہیں)، اس لیے جنگ بہت پیچیدہ ہو گئی۔ ہماری طرف سے رات کے اندھیرے میں ایک بڑے صاحبِ شریعت کو ایک صحت مند بکرا اور دیسی مکھن بطور ہدیہ لے جایا گیا۔ اس وقت ہم چھوٹے تھے، اس لیے سمجھ نہیں آئی، مگر آج سمجھتے ہیں کہ شیخ صاحب کو اپنے حق میں فیصلہ سنانے کے لیے رشوت دی گئی تھی۔خیر، اس کیس میں بھی عوام سے مسلسل چندے لے کر سرکردگان کیس کو مسلہ لگاتے رہے۔ مگر قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ ندی کے پانی نے قدرتی طور پر اپنی ڈائریکشن بدل لی اور مسئلہ خود بخود حل ہو گیا۔ تاہم دونوں طرف کے سازش کاروں کا بنیادی مقصد لبِ ندی کے اطراف کی زمینوں کو عوام میں تقسیم کرنا تھا۔ مادھوپور کی طرف تو یہ عمل درآمد ہو گیا، مگر منٹھوکھا کی طرف ہماری مزاحمت کی وجہ سے مقامی مافیا کے قبضے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ بالکل یہی صورتحال ندی کے اس طرف تا لبِ دریا گوہری تک کی حدود کا بھی ہے۔
اس تنازعے کے بعد ہماری زمینوں کی پہلی تقسیم ہوئی۔ ہم چھوٹے تھے اور والد صاحب گاؤں میں نہیں تھے۔ جب میں اپنی زمینوں کو پانی دینے گیا تو دیکھا کہ ہماری زمین (جسے عرف عام میں “داس” کہتے ہیں، دس کا مخفف) تقریباً بارہ حصوں میں تقسیم کر دی گئی تھی۔ پریشان ہو کر گھر پہنچا تو امی کو بتایا۔ امی نے شور کیا تو بتایا گیا کہ سرکردگان نے آپ کی زمینوں کو عوام میں تقسیم کر دیا ہے۔ خیر، ہماری مزاحمت کی وجہ سے نام نہاد سرکردگان پسپا ہو گئے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے بھی ہماری زمینوں پر قبضے کی کوشش کی گئی اور بعض جگہوں پر قبضہ بھی ہو گیا، جسے ہم نے کئی عرصے بعد چھڑایا۔ اس واقعے کا ذکر کرنے کا مقصد گریٹ گیم کو سمجھانا ہے تاکہ عام آدمی اس قسم کے تنازعات کے پیچھے چھپی حقیقت کو سمجھ سکے۔
تیسرا تنازعہ بالائی میدان ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کھرمنگ کا ہے۔ مرحوم شیخ محسن علی نجفی (اللہ ان کے درجات بلند فرمائے) نے 2009 میں اس کی آبادی کے لیے کوشش کی اور باقاعدہ سروے کر کے نجی طور پر اس بالائی میدان کو سرکاری کاغذات پر موجود ملکیت کے تحت پانی اور سڑک پہنچا کر منٹھوکھا، مادھوپور اور گوہری کے درمیان تقسیم کرنے کی تجویز دی۔ اس پر اہلِ علاقہ میں کافی میٹنگیں ہوئیں۔ اس وقت ضلعی ہیڈ کوارٹر گوہری کے مقام پر بنانے کا فیصلہ اخباری بیانات تک محدود تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ ہیڈ کوارٹر کے لیے سرکار اسی میدان کا انتخاب کرے گی، جس کے لیے فریقین کو مل بیٹھ کر کوئی حل نکالنا ہوگا۔ مگر کہانی الٹی ہو گئی۔ عمائدینِ مادھوپور نے بالائی میدان کی آبادی کی مخالفت اس بنیاد پر کی کہ “آپ پہلے گوہری تھنگ کا کوئی حل نکالیں، بصورت دیگر ہمارا اعتراض ہوگا”۔ بس اتنا کہنا تھا کہ شیخ صاحب پیچھے ہٹ گئے۔ آج وہ بالائی میدان جس کی تقسیم سے فی کس تقریباً چالیس کنال زمین حصے میں آتی تھی، سرکاری ریڈار پر ہے اور بہت جلد اس سے بھی عوام کو ہاتھ دھونا پڑے گا۔
چوتھا تنازعہ تقسیمِ غاسنگ بیاتھنگ کا ہے۔ اہلیانِ غاسنگ کے درمیان اس پر کافی خدشات پائے جاتے ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ دریائے سندھ کے کنارے یہ نئی آبادی مرحوم صوبیدار علی (اللہ ان کے درجات بلند فرمائے) کی دور اندیشی اور قوم کی خدمت تھی، جسے آباد کر کے پورے غاسنگ میں تقسیم کیا گیا۔ البتہ تقسیم کا طریقہ کار درست نہیں تھا، اس وجہ سے شکوک و شبہات موجود ہیں۔ عوام کی یہ شکایت ختم نہ ہوئی تھی کہ اس میدان پر سرکاری نظر پڑ گئی اور زمین بنامِ خالصہ سرکار مفت استعمال کر کے نوکریوں کا جھانسا دینا شروع کر دیا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ اس آبادی کو ہم نے دریا کا پانی روک کر آباد کیا ہے، اسے سرکار کو کیسے دے سکتے ہیں۔ خیر، عوامی شکایات ایک طرف رہ گئیں اور اس میدان کا وسیع علاقہ سرکار نے اٹھا لیا۔ آج یہ میدان بھی خالصہ کے طور پر سرکاری ریڈار پر ہے۔ جو زمین سرکار کو دی گئی تھی وہ زیرِ آب آ گئی، جس سے نہ سرکار کو فائدہ ہوا اور نہ اہلِ علاقہ کو۔
موضع غاسنگ کا دوسرا بڑا تنازعہ غاسنگ نالہ روڈ کی تعمیر کے حوالے سے جاری ہے، جو عوام اور عوام دشمن عناصر کے درمیان دہائیوں سے چل رہا ہے۔ اس کی وجہ سے غاسنگ نالہ غیر آباد ہو گیا۔ لوگوں نے کھیتی باڑی صرف سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ترک کر دی۔ حالانکہ غاسنگ نالہ گاؤں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور زراعت و سیاحت کے حوالے سے وسیع مواقع رکھتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں کی مسلسل کوششوں کے بعد، جب نالہ مکمل طور پر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا تھا، سڑک کی تعمیر کا کام شروع ہوا ہے۔ یہ یقیناً نیک شگون ہے اور علاقے کی معاشی ترقی، زراعت اور سیاحت کی فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔اسی طرح پولی کنال غاسنگ شاندار ماضی کی علامت سمجھی جاتی ہے، جو غاسنگ کی قدیم بندوبستی زمین ہے۔ مگر طویل و عریض رقبہ (تقریباً پانچ سو کنال) پر عوام کے درمیان اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے آج بھی یہ معاشرے کا اہم اور حل طلب مسئلہ ہے، کیونکہ نقصان براہ راست عوام کو ہو رہا ہے۔
اب اگر غاسنگ اور منٹھوکھا کے درمیان کول کلاں کے تنازعے کی بات کریں تو اس حقیقت سے انکار کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور معاشرے کے دشمن ہیں۔ انہوں نے نظامِ آبپاشی کے ایک قدیم ترین طریقے میں مداخلت کر کے عوام کو لڑایا۔ اگر یہ کول گزشتہ چند سالوں میں بنایا گیا ہوتا تو سوال پیدا ہو سکتا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ کول دونوں گاؤں کی آبادکاری کے وقت سے موجود ہے۔ البتہ یہ سوال ضرور کیا جا سکتا ہے کہ کول کلاں غاسنگ کا سربند قدیم سرکاری بندوبستی کاغذات میں کہاں سے شروع ہو کر کہاں تک ہے۔ اسے قدیم نظامِ آبپاشی کے قوانین اور کاغذات کی مدد سے حل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ موسم بہار شروع ہوتے ہی اس کول کی صفائی ستھرائی کے لیے اہلیانِ غاسنگ ہر سال آتے ہیں اور اس دوران کول کے راستے میں درختوں کے تنوں کو کاٹ کر راستہ صاف کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اہلیانِ منٹھوکھا یا کسی بزرگ نے احتجاج ریکارڈ کرایا ہو۔ الٹا، وہ انہیں ویلکم کیا کرتے تھے۔
دوسرا اہم سوال کول کلاں منٹھوکھا کی حدود کا تعین کرنا ہے، کیونکہقدیم نشانیاں آج بھی موجود ہے۔ اسے بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے باوجود غاسنگ کول میں منٹھوکھا کے لیے پانی کے حقوق (جس میں میں بھی شامل ہوں) قانون اور بندوبستی کاغذات کے مطابق ملنے چاہییں۔ مگر اس بنیاد پر معاشرے میں فساد پھیلانا اُس معاشرے سے دشمنی ہے جس سے ہم سب کا تعلق ہے۔
بدقسمی کی بات یہ بھی ہے کہ اس وقت معاشرہ غیر سنجیدہ لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ ہم نے دیکھا کہ اس جھگڑے میں چند تعلیم یافتہ لوگ بھی پیش پیش تھے اور انہوں نے جاہل اکثریت کو گویا کوئی انقلاب لا رہے ہوں کے مصداق، اس طرح بھڑکایا۔ نتیجتاً درجنوں جوان (جن میں طلبہ اور تعلیم مکمل کر کے روزگار کی تلاش میں تھے) مقدمات کے تحت قید ہو کر مجرم بن گئے۔ اس کا ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو دونوں طرف کے سادہ لوح عوام کو ورغلاتے ہیں۔ یہی عناصر اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے عوام کو لڑا کر رکھنا چاہتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ منٹھوکھا میں موجود کم از کم پانچ سو سال قدیم خانقاہ معلیٰ اس بات کی گواہی ہے کہ یہاں لوگ آباد تھے اور کول کلاں غاسنگ کی تاریخ بھی خانقاہ معلیٰ منٹھوکھا سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔ لہٰذا معاشرتی مسائل کو اسلامی اصولوں اور محکمہ مال کی ریکارڈ کی روشنی میں حل ہونا چاہیے۔ یاد رکھیں، گلگت بلتستان جیسے خطوں میں کسی بھی تنازعے میں سرکار کو شامل کرنے کا مطلب مسائل حل ہونے کے بجائے مزید خراب ہونا ہے۔ لہٰذا معاشرتی مسائل کو معاشرے کی سطح پر ہی حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس وقت غاسنگ تا ہلال آباد کا سب سے اہم مسئلہ میونسپل ایریا کا انتخاب ہے، جس کے لیے کوشش کرنا غاسنگ تا ہلال آباد تک کے عوام کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ لہٰذا اصل مسائل کی طرف عوام کو توجہ دلانے کے لیے علاقے کے باشعور، تعلیم یافتہ افراد اور علمائے کرام کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ وہ دن بہت قریب ہے جب اس علاقے کو ہیڈ کوارٹر کی گندگی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ گزشتہ سال لکھا ہوا میرا یہ کالم دونوں فریقوں نے صرف اپنی مرضی کے پوائنٹس اٹھا کر معاشرے میں میرے خلاف بھرپور پروپیگنڈا کیا۔ اس پروپیگنڈے کی وجہ سے جو ذہنی پریشانی اور دباؤ مجھ پر آیا، وہ ناقابل بیان ہے۔ جس طرح معاشرے نے مجھے اچھوت بنا کر پیش کیا، وہ یقیناً اس معاشرے کی مذہبی اور فکری تربیت کو عیاں کرتا ہے کہ ہم اب بھی اختلاف رائے پر یقین نہیں رکھتے اور مکالمہ معاشرے سے ختم ہو چکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ معاشرہ ان لوگوں کے ہاتھوں یرغمال ہے جن کی حقیقت میں کوئی حیثیت نہیں۔ ایسے معاشروں میں زوال قسمت بن جاتی ہے۔
اس مقالے کی دوبارہ اشاعت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ گزشتہ سال جو کچھ ہوا، اس سے کسی نے کچھ نہیں سیکھا۔ آج جب دنیا جنگ کی وجہ سے معاشی معاملات سے پریشان ہے، افسوس اُس معاشرے پر ہے جس کے پاس کچھ نہیں سوائے نفرتوں کے پرچار کے۔ ایک بار پھر کول کے تنازعے کو زندہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ چاہتے ہی نہیں کہ معاشرے میں لوگ باہمی بھائی چارگی کے ساتھ زندگی گزاریں۔ سمجھ نہیں آتا یہ لوگ کس مذہب کے پیروکار ہیں جنہوں نے ظاہری طور پر مکتب اہل بیت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، مگر ان کی فکر میں فرعونیت، یزیدیت اور اسرائیل صاف نظر آ رہا ہے۔ ان کی طولانی نمازوں میں شیطانی فکر نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس معاشرے میں آج کربلا شعور کے ساتھ نہیں بلکہ شور کے ساتھ زندہ ہے۔ کیونکہ غیر ضروری تنازعات سے کسی کو فائدہ نہیں سوائے دشمن کے۔
غیر ضروری طور پر کئی سو سالوں سے بغیر کسی تنازعے کے جاری نظامِ آبپاشی میں اچانک تبدیلی کی کوشش نہ صرف فساد فی الارض ہے بلکہ سرکار کو عوامی معاملات میں دخل اندازی کی دعوت بھی ہے، جس کا نقصان عوام کو ہی ہوگا۔ اس تنازعے کو لے کر عدالتوں کا رخ کرنے والے بھی اس غریب معاشرے کے دشمن ہیں۔ جہاں اکثریت محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پالتی ہے، وہاں مقدمہ لڑنے کے لیے فریقین کی جانب سے پیسے جمع کرنا کسی صورت میں عوام کے مفاد میں نہیں۔ ایک وقت آئے گا جب سرکار عوامی تنازعات کا فائدہ اٹھا کر عوامی مفاد کو طاقت کے استعمال سے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرے گی، جس کی مثال ضلعی ہیڈ کوارٹر کا میدان ہے۔ لہٰذا آج جو بھی اس تنازعے کو دفن کر کے قدیم بندوبستی نظامِ آبپاشی پر عمل درآمد کرنے کی بجائے تنازعے میں مزید ہوا پھونک رہے ہیں، وہ اس معاشرے کا دشمن ہے۔ یقیناً یہی لوگ معاشرے کے اصل مجرم اور انسانیت کے دشمن ہیں۔ ان کی وجہ سے معاشرہ فکری، سماجی اور مذہبی طور پر جمود کا شکار ہے اور معاشرے کی سوچ ترقی اور تعمیر کے بجائے اپنی تمام تر توانائیاں فساد پر صرف کر رہی ہے۔
نوٹ: میرے کسی بھی سوشل میڈیا پوسٹ یا مضمون کا میرے کسی فیملی ممبر سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ میری اپنی ذاتی رائے ہے جس سے اتفاق اور اختلاف کرنے کا ہر ایک کو حق ہے، مگر عزت نفس مجروح کرنے اور منفی پروپیگنڈے کا کسی کو اختیار نہیں۔


