میں آج صبح چار بجے لاہور کے لیے نکلا۔ رات اور صبح کے درمیان کا وہ مبہم وقت، جب نیند ابھی آنکھوں سے پوری طرح جدا نہیں ہوتی اور زندگی اپنے حساب کتاب کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹانے لگتی ہے۔ ٹرین کی اکانومی کلاس کی سیٹ 2200 روپے کی تھی۔ ڈائیوو اور فیصل موور بھی تقریباً اسی قیمت کے آس پاس تھے۔ نیو حبیب خان بس سروس والے نے 1600 روپے مانگے، مگر 1200 روپے میں بات طے ہوگئی۔ یہ سودا نہیں تھا، یہ مجبوری کی ایک خاموش دستاویز تھی۔
37 نمبر سیٹ ملی۔ ٹانگیں اگلی نشست کے ساتھ لگی لوہے کی راڈ میں اس طرح الجھ رہی تھیں جیسے جسم نہیں، کوئی سامان رکھا گیا ہو۔ بس نسبتاً بہتر تھی، مگر احساس یہ تھا کہ 1982 سے اب تک کچھ بھی نہیں بدلا۔ صرف کرایہ بڑھا ہے، تکلیف وہی ہے۔ 40 روپے کا سفر اب 1200 اور 1600 میں ڈھل چکا ہے، مگر مسافر کی بے بسی ابھی تک اپنی جگہ قائم ہے۔
پانچ گھنٹے بعد جب ٹھوکر نیاز بیگ اترا تو شہر نے میرا استقبال قیمتوں سے کیا۔ کوئی رکشے والا 650 یا 700 روپے سے کم پر نیو جوڈیشل کیمپس جانے کو تیار نہ تھا۔ میٹرو کا راستہ اختیار کرتا تو وقت بھی لگتا اور پیسہ بھی وہی خرچ ہوتا۔ چنانچہ میں نے 650 روپے میں ایک رکشہ لیا۔ ایوان عدل چوک پر اترا۔ بھوک نے یاد دلایا کہ جسم بھی ساتھ ہے، سو ایک ریڑھی والے سے 50 روپے کا سلاد لیا اور کھا لیا۔
پھر میں نے سیڑھیاں چڑھنا شروع کیں۔
یہ سیڑھیاں صرف اینٹ اور سیمنٹ کی نہیں تھیں۔ یہ تاریخ کی سیڑھیاں تھیں، سوالوں کی سیڑھیاں تھیں۔ ہر قدم کے ساتھ ایک نام ذہن میں ابھرتا تھا۔ بھگت سنگھ، جتین داس، چندر شیکھر آزاد، راج گرو، مدن لال ڈھینگرا، اودھم سنگھ، جلیانوالہ باغ کے شہید، غدر کے وہ لوگ جو برسوں جلاوطنی کاٹتے رہے۔ کیا انہوں نے اپنی جانیں اس لیے جوکھوں میں ڈالیں کہ آج یہاں محل نما عمارتیں کھڑی ہوں اور ان کے اندر بیٹھنے والے ان ہی لوگوں کی اولادوں کی غربت پر خاموشی سے مسکراتے رہیں؟
ان عمارتوں کے باہر کھڑی سینکڑوں گاڑیاں ایک الگ داستان سناتی ہیں۔ یہ گاڑیاں صرف سواری نہیں، یہ اس نظام کی علامت ہیں جس میں عوام کے نام پر اکٹھا ہونے والا سرمایہ عوام سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ انصاف کے نام پر قائم ادارے کبھی کبھی انصاف سے زیادہ فاصلے پیدا کرتے محسوس ہوتے ہیں۔
میں پہلے غلطی سے سول کورٹ کی 144 سیڑھیاں چڑھ گیا۔ پھر واپس اترا، لمبا فاصلہ طے کیا اور دوبارہ اتنی ہی سیڑھیاں چڑھ کر جج آصف حیات کی عدالت پہنچا۔ وہاں وقت رکا ہوا تھا۔ 12 بجے سے تین بجے تک انتظار کیا۔ پھر بتایا گیا کہ وکیل صاحب نہیں ہیں، اگلی تاریخ لے لیجیے۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا۔ میں اس مقدمے میں بطور گواہ پہلے بھی کئی بار آ چکا تھا۔ ہر بار یہی ہوا۔ انتظار، تھکن، اور آخر میں ایک نئی تاریخ۔ انصاف جیسے ایک ایسے دروازے میں بدل گیا تھا جو ہر بار قریب آ کر بھی بند ہی رہتا ہے۔
یہ مقدمہ محض ایک کیس نہیں، ایک انسان کی بقا کی جنگ ہے۔ ایک بزرگ، جو اپنی بیماریوں، بڑھاپے اور محدود پنشن کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے، اپنے اوپر لگائے گئے جھوٹے اور غلیظ الزامات سے خود کو بری کرانا چاہتا ہے۔ اس کی لڑائی صرف عدالت میں نہیں، اپنے وجود کی بحالی کی لڑائی ہے۔ وہ ذہنی اذیت سے گزر رہا ہے، اور اپنی جمع پونجی اسی نظام کے سپرد کر رہا ہے جس سے اسے انصاف کی امید ہے۔
وہ چاہتا تو آسان راستہ اختیار کر سکتا تھا۔ اپنے نظریات سے دستبردار ہو کر ایک محفوظ زندگی چن سکتا تھا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے عدالت کا راستہ چنا، سچ کا راستہ چنا۔ مگر اب برسوں گزرنے کے باوجود انصاف اس کے ہاتھ سے دور ہے، جیسے کوئی سراب ہو۔
تب میں نے سوچا، اگر ایک نسبتاً باشعور، باخبر اور کسی حد تک وسائل رکھنے والا شخص اس نظام میں یوں الجھ سکتا ہے تو ایک عام، غریب، بے وسیلہ انسان کا کیا حال ہوتا ہوگا؟ وہ جو روز کی مزدوری کھو کر عدالت آتا ہے، وہ جو کرایہ بھی ادھار لے کر سفر کرتا ہے، وہ جو وقت اور پیسے دونوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اس کے لیے انصاف کہاں ہے؟
شاید انصاف صرف ایک تصور ہے، ایک خواب، جو ان سیڑھیوں کے اوپر کہیں رکھا ہوا ہے، مگر ہر کسی کی پہنچ میں نہیں۔
کمپلیکس کی سیڑھیاں اترتے ہوئے مجھے یوں لگا جیسے یہ صرف نیچے اترنا نہیں، ایک تلخ حقیقت میں واپس آنا ہے۔ میں ایک سیڑھی پر بیٹھ گیا۔ الفاظ خود بخود اترنے لگے۔ جیسے دن بھر کی تھکن، غصہ، کرب اور بے بسی ایک نظم کی صورت اختیار کر رہے ہوں۔
اور میں نے اسے وہیں محفوظ کرلیا، اس یقین کے ساتھ کہ شاید لفظ وہ کام کر سکیں جو نظام نہیں کر پا رہا۔
عدالتوں کے دریچوں سے ناامیدی کشید کرتے
تھکے ہوئے پاؤں اب پتھروں میں ڈھلنے لگے
وہ منصفوں کے رویوں سے منجمد ہوئے منظر
گھٹنوں کا درد اب صرف جسم کا حصّہ نہیں رہا


