ایران پر ممکنہ ایٹمی حملہ اور پاکستان پر جنگ کے اثرات/سعد مکی شاہ

ٹرمپ فقط پاگل نہیں، نرگسیت زدہ اور بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار بھی ہے۔ اس وقت وہ شدید کھسیاہٹ اور اضطراب کا شکار ہے اور اس کے حالیہ بیانات اور فیصلے اس اندرونی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں۔ عالمی سیاست میں ایسے رہنما جو اپنی انا اور جذبات کے زیرِ اثر فیصلے کرتے ہیں، اکثر دنیا کو خطرناک موڑ پر لے جاتے ہیں۔
نفسیات کی رو سے بھی شدید غصہ، ناکامی اور بدنامی کا خوف اور اس پر مستزاد حالتِ اضطراب و اضطرار انسان کو کسی بھی انتہا پسندانہ اقدام کی طرف لے جا سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس سے کچھ بعید نہیں کہ وہ ایران کے خلاف ٹیکٹیکل نیوکلیئر ویپنز کے استعمال جیسے انتہائی اقدام کی طرف بھی جا سکتا ہے۔
تین ہفتے 8، 17 اور 26 اپریل 2026 تک اگر یہ ایران پر نیوکس استعمال نہیں کرتا تو یہ جنگ طوالت اختیار کر جائے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جنگیں ابتدائی مرحلے میں فیصلہ کن ثابت نہ ہوں تو وہ لمبی، تھکا دینے والی اور تباہ کن شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ دوسری طرف ایران اس جنگ کو اپنی بقاء کی آخری جنگ سمجھ کر لڑ رہا ہے۔
بقول ناچیز
بقا کا راستہ تھا یہ
تبھی تو میں فنا ہوا
اس کے لیے یہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ اپنی خودمختاری، نظریاتی بقاء اور خطے میں اثر و رسوخ کی جنگ ہے۔
وہ ٹرمپ کے اتحادی ہر ملک کو رگیدے گا، آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا، آبنائے مندب بھی بند کرے گا، اتحادی ممالک کی ایندھن اور پانی کی تنصیبات بھی تباہ کرے گا، امریکی کمپنیز پر بھی حملے کرے گا، انٹرنیٹ آپٹک فائبر کیبل بھی کاٹے گا۔ ایران اپنی ہر ممکنہ تباہی کے امکانات کے باوجود دس بیس سال بھی جنگ لڑنے کے لیے آمادہ ہے۔ اس کی حکمت عملی روایتی جنگ سے ہٹ کر غیر متوازن جنگ پر مبنی ہے، جہاں وہ براہ راست محاذ کے بجائے مخالف کے کمزور مقامات کو نشانہ بناتا ہے۔
اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں اور مزید پڑیں گے۔ توانائی کی سپلائی، عالمی تجارت، انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور مالیاتی نظام سب اس کشیدگی کی زد میں آ سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں، اس صورتحال سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی عرب ممالک سے ورک فورس واپس آ سکتی ہے۔ ایندھن، بجلی کے ساتھ ساتھ فوڈ سیکیورٹی کے مسائل بھی پاکستان پر آ پڑیں گے۔ انٹرنیٹ بند ہونے کی صورت میں کم از کم 90 لاکھ پاکستانی نوجوان بے روزگار ہو جائیں گے۔ پاکستان کی معیشت میں اربوں ڈالرز کی سالانہ ریمیٹنسز آنا بند ہو سکتی ہیں۔ دوسری طرف افغانستان اور انڈیا بھی کوئی پنگا چھیڑ سکتے ہیں، جس سے پاکستان کے لیے سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
ایسے میں ایک نہایت اہم اور چونکا دینے والا پہلو ایران کے اندرونی حالات کا ہے، جسے عام طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ایران پر ہزاروں میزائل اور فضائی حملوں اور اس کے نتیجے میں ہزاروں ہلاکتوں اور تباہی کے باوجود ایران میں خوراک، ادویات اور اشیائے صرف نہ صرف بہ آسانی دستیاب ہیں بلکہ مہنگے اور ذخیرہ اندوزوں کی دست برد سے بھی محفوظ ہیں۔
تہران، چالوس، نوشہر، قم، بندر عباس اور چابہار میں بیٹھے میرے پاکستانی دوست اور کولیگز روزانہ کام پر باقاعدگی سے جا رہے ہیں، پیسے کما کر پاکستان بھی بھجوا رہے ہیں۔ ان کے مطابق روٹی کئی سالوں سے مفت مل رہی ہے جس کا مشاہدہ تو راقم بذاتِ خود اپریل 2025 میں کر کے آیا ہوں، ہزاروں گروسری اور ڈیپارٹمنٹل اسٹورز امدادی قیمتوں پر عوام کو اشیائے خوردونوش و صرف مہیا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران نے گزشتہ چالیس سال میں اپنی معیشت اور سپلائی سسٹم کو اس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ وہ شدید ترین پابندیوں اور جنگی حالات میں بھی بنیادی ضروریات کی فراہمی برقرار رکھ سکے۔
ذرا وہاں اور یہاں پاکستان میں ایمرجنسی یا ہنگامی صورتحال ہونے کی صورتحال کے تقابل کا تصور ذہن میں لائیے کہ کیا منظرنامہ بنتا ہے۔ پاکستان میں جیسے ہی کسی بحران کی خبر آتی ہے، ذخیرہ اندوزی شروع ہو جاتی ہے۔ گندم بلیک میں فروخت ہونے جا رہی ہے، ممکن ہے کہ حکومت کو گن پوائنٹ پر کسانوں سے خریداری کرنا پڑے۔ مہنگائی ذاتی سطح پر شروع کر دی جاتی ہے، بلیک مارکیٹئے کھیتوں میں کھڑی گندم کے سودے کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتے ہیں۔
جنگ اگر طوالت کی طرف جاتی محسوس ہوئی تو ہڑبونگ، افراتفری اور انتشار پھیلتا نظر آتا ہے۔ پاکستان میں بحران کے وقت ریاستی ردِعمل اکثر عوام پر بوجھ ڈالنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ حکومت ہر ہنگامی صورتحال میں براہ راست عوام کو اپنی معاشی آمدنی کا ہدف بناتی ہے۔ خدا کی پناہ، 460 روپے پٹرول اور 521 روپے فی لیٹر ڈیزل کر کے عوام سے کیا توقعات ہیں کہ وہ اسے کیسے برداشت کر پائیں گے؟
کچھ بعید نہیں کہ آئندہ بجلی کے بل اس قدر تباہ کن آئیں کہ عامۃ الناس خود اپنی پیدائش پر ہی نفرین بھیجنے لگے کیونکہ حکومت و ریاست کو تو لعنت و ملامت کرنے سے کوئی عملی فرق نہیں پڑتا۔ ایسے حالات میں عوامی اضطراب، بے چینی اور سماجی بے یقینی میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔
ہمیں وسیع تر ریاستی معاملات کا کچھ اس قدر علم نہیں ہے مگر ایران نے چالیس سالوں سے اپنی آٹھ ممالک کی متصل سرحدات کو بارٹر ٹریڈ کے لیے کھلم کھلا کھول رکھا ہے۔ پاکستان کے بارڈر تک ایران نے معاہدے کے تحت گیس پائپ لائن بچھا رکھی ہے تو ایران سے کھلم کھلا بارٹر ٹریڈ کی کوئی صورت بنائیے۔ اب جبکہ آقائے امریکہ نے ایران کو تیل اور گیس کی فروخت کی جزوی اجازت دی ہوئی ہے اور انڈیا اس سے فائدہ بھی اٹھا رہا ہے تو پاکستان کیوں پیچھے رہ رہا ہے؟
یومیہ سینکڑوں گیس باؤزر (گیس ٹینکرز) تو ویسے بھی دہائیوں سے ایران سے آ ہی رہے ہیں تو ان کی تعداد سینکڑوں سے ہزاروں میں لے جائیے۔ عوام قطرہ قطرہ مر رہی ہے تو کچھ مضبوط مردوں والے فیصلے حکومت کو بھی کرنے چاہئیں۔
موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان محض تماشائی بن کر نہ بیٹھے بلکہ ایک عملی، جراتمندانہ اور قومی مفاد پر مبنی حکمت عملی اپنائے۔ ایران کے ساتھ معاشی تعاون، بارٹر ٹریڈ اور توانائی کے منصوبے نہ صرف فوری ریلیف دے سکتے ہیں بلکہ طویل المدتی استحکام کی بنیاد بھی بن سکتے ہیں۔
دنیا اس وقت ایک غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے جہاں فیصلے تاخیر کا شکار ہوں تو ان کے نتائج کئی گنا زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں وہی ریاستیں کامیاب ہوتی ہیں جو بروقت، حقیقت پسندانہ اور جرات مندانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
بہرکیف پاکستانی عوام کو متوقع پیش آمدہ سخت مشکل حالات کے لیے ذہنی طور پر بھرپور تیار رہنا چاہیے۔ اور ریاست کو بھی عوام کے حق میں جرات مندانہ اقدام و فیصلے لینے کی طرف جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں