پاکستان کی سیاست میں بعض کردار ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ محض ایک جماعت یا حلقے کی نمائندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ خود ایک مستقل حوالہ بن جاتے ہیں۔ آج کے سیاسی منظرنامے میں جو ارتعاش محسوس ہو رہا ہے، اس کا مرکز ایک بار پھر مولانا فضل الرحمان کی ذات ہے۔ یہ کوئی اتفاقی امر نہیں بلکہ اس نظام کی داخلی کمزوریوں کا فطری اظہار ہے، جہاں جب معاملات الجھنے لگتے ہیں تو نگاہیں از خود ایک ایسے شخص کی طرف اٹھتی ہیں جو نہ صرف ماضی کے تجربات کا امین ہو بلکہ حال کے پیچیدہ مسائل کو سلجھانے کی بصیرت بھی رکھتا ہو۔
گزشتہ دو ہفتوں کی سرگرمیوں کو اگر سرسری نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ محض ملاقاتوں کا ایک سلسلہ معلوم ہوتا ہے، مگر گہرائی میں اتر کر جائزہ لیا جائے تو یہ ایک مربوط اور سوچا سمجھا سیاسی عمل دکھائی دیتا ہے۔ مولانا کی رہائش گاہ ایک بار پھر اس مرکز میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں رسمی فیصلے نہیں تو کم از کم فیصلوں کی سمت کا تعین ضرور ہو رہا ہے۔ یہ وہ خاموش تدبیر ہے جو بظاہر دکھائی نہیں دیتی مگر اس کے اثرات پورے نظام پر محیط ہوتے ہیں۔
اسی تسلسل میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کی اسلام آباد میں مولانا سے ملاقات ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی۔ اس نشست میں ڈیرہ اسماعیل خان میں نئے انٹرنیشنل کارگو ایئرپورٹ سمیت متعدد ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بظاہر یہ ایک ترقیاتی گفتگو تھی، لیکن سیاست کی باریکیوں سے واقف حلقے جانتے ہیں کہ ایسے مواقع محض منصوبہ بندی تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان کے پس منظر میں سیاسی ہم آہنگی، اعتماد سازی اور آئندہ کی صف بندی کے اشارے بھی پنہاں ہوتے ہیں۔ یہ ملاقات دراصل اس حقیقت کا اعتراف تھی کہ ریاستی نظم کے بعض اہم پہلوؤں میں اب بھی مولانا کی رائے اور شمولیت کو وزن حاصل ہے۔
مولانا کی حالیہ سرگرمیوں کا آغاز اگرچہ لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات سے ہوا، مگر اس کے بعد واقعات کی رفتار نے اس ملاقات کو ایک ابتدائی سنگِ میل میں بدل دیا۔ سپیکر قومی اسمبلی سے گفتگو ہو یا پارلیمانی روابط، ہر قدم ایک منظم دائرے میں آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ جب انہوں نے عالمی سطح پر ایران پر حملوں کو فلسطین کے تناظر میں دیکھتے ہوئے امتِ مسلمہ کے مشترکہ موقف کی بات کی، تو یہ محض ایک بیان نہیں تھا بلکہ ایک ایسا سیاسی و فکری پیغام تھا جس نے انہیں ایک بار پھر وسیع تر اسلامی بیانیے کے نمائندہ کے طور پر پیش کیا۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ سیکیورٹی کے نازک حالات اور ذاتی خطرات کے باوجود سیاسی سرگرمیوں کا یہ تسلسل برقرار ہے۔ ان کے قریبی حلقے کو پیش آنے والے حادثات نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ سیاست کسی محفوظ میدان میں نہیں بلکہ ایک ایسی تنی ہوئی رسی پر ہو رہی ہے جہاں ہر قدم ناپ تول کر رکھنا پڑتا ہے۔
سیاسی بساط پر ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سندھ اور بلوچستان میں شراکت اقتدار کی پیشکش سامنے آئی۔ مگر یہاں بھی مولانا نے جلد بازی کے بجائے مشاورت کو ترجیح دے کر اپنی سیاسی اہمیت کو مزید مستحکم کیا۔ یہ وہ حکمت ہے جو وقتی مفاد کے بجائے طویل المدتی اثرات کو پیش نظر رکھتی ہے۔
اسی دوران بین الاقوامی سطح پر بھی ایک غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی جب چینی سفیر جیانگ زیڈونگ نے مولانا کی رہائش گاہ پر آ کر علاقائی سلامتی اور پاک چین تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ یہ محض سفارتی آداب کی ملاقات نہیں تھی بلکہ اس امر کا اظہار تھی کہ عالمی قوتیں بھی انہیں ایک مؤثر اور قابلِ اعتنا سیاسی مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ اسی طرح جی ڈی اے کے وفد کی آمد نے سندھ کی سیاست میں ایک نئی صف بندی کی جھلک دکھائی، جو مستقبل قریب میں مزید واضح ہو سکتی ہے۔
داخلی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے مولانا کا دوٹوک مؤقف ہمیشہ ان کی پہچان رہا ہے۔ افغان پالیسی میں ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی بات ہو یا سیاسی مخالفین کے لیے انسانی ہمدردی کا اظہار، یہ وہ طرزِ فکر ہے جو سیاست کو محض اقتدار کی کشمکش سے نکال کر ایک اخلاقی اور اصولی دائرے میں لے آتا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو ان کے سیاسی قد کو دیگر معاصرین سے ممتاز کرتا ہے۔
ان تمام ملاقاتوں، روابط اور بیانات کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے کہ موجودہ حکومتی ڈھانچہ اپنی کمزوریوں کے باعث ایک ایسے سہارے کی تلاش میں ہے جو اسے سہارا دے سکے۔ اس تناظر میں مولانا فضل الرحمان ایک ایسے مدبر کے طور پر ابھر رہے ہیں جو بظاہر اقتدار سے باہر ہو کر بھی اقتدار کے توازن کو متعین کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس وقت ملکی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں فیصلے ایوانوں کے شور میں کم اور بند کمروں کی خاموش ملاقاتوں میں زیادہ طے ہو رہے ہیں۔ اور ان ملاقاتوں کا سب سے اہم مرکز اگر کوئی ہے تو وہ مولانا کی رہائش گاہ ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر اتنا طے ہے کہ اس کروٹ کے تعین میں مولانا کا کردار محض اہم نہیں بلکہ فیصلہ کن ہوگا۔


