عادات، طبیعت اور مزاج کے حوالے سے انسان کی بے شمار اقسام ہیں۔ لیکن کاموں کو سر انجام دینے اور اپنی ذمے داریوں کی ادائی کے معاملے میں دو طرح کے طرح دار لوگوں کی تعداد زیادہ توجہ کی مرکز دکھائی دیتی ہے۔ ایک قسم ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو کاموں کی انجام دہی میں انتہائی جلد بازی، عجلت پسندی اور تیزرفتاری کے قائل ہوتے ہیں۔ وہ نا صرف خود اپنی بھاگ دوڑ میں سریع ا لحرکت دوڑ دھوپ کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ دوسروں سے بھی یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی ان کے امور کو بھاگ بھاگ کر اور بلا توقف انجام کو پہنچائیں۔ وہ سبقت لینے کے چکر میں اپنے تمام کام اتنی تیز رفتاری سے کرتے ہیں کہ ان کا سانس پھول جاتا ہے اور بسا اوقات ان کے ہاتھ پاؤں بھی پھول جاتے ہیں۔ اس تیزی کے باوجود انکے بہت سے کام ادھورے رہ جاتے ہیں، یا کسی نقصان کی وجہ بن جاتے ہیں۔ مثلاً گھروں میں تیزی سے کام کرنے والی ماسیاں شییشے کے برتن دھوتے اور کنگھالتے وقت جلدی کے مارے برتنوں کو پوری طرح صحیح صحیح نہیں دھو پاتیں اور ان پہ وم یا صابن لگا چھوڑ دیتی ہیں، یہ عمل حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تیز روی کی وجہ سے نازک گلاس اور شیشے کی پلیٹیں بھی توڑ بیٹھتی ہیں۔ برتنوں کے ساتھ انکے ایسے معاندانہ سلوک سے خاتون خانہ کا دل بھی ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ انہیں برتنوں سے والہانہ پیار ہوتا ہے۔ مگروہ برتن ٹوٹنے پر بہت جز بز تو ہوتی ہیں، لیکن کام والی کو کچھ کہے بغیر صبر کر کے بیٹھ رہتی ہیں، کیونکہ انہیں ہر وقت یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ کہیں ان کی ڈانٹ ڈپٹ کے جواب میں وہ بے رشتے کی ماسی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ برتن ٹوٹنے پر ہر بار جلد باز و تیز طرار کام والی یہی کہتی ہے، ” باجی جی ! برتن دھلیں گے تو ٹوٹیں گے بھی, تساں کم کرانا اے تے کراؤ، نئیں تے میرا حساب کر دیو”. یہ دھمکی کار گر ثابت ہوتی ہے اور بیگم صاحبہ یہ سوچ کر خاموش ہو جاتی ہیں کہ اگر ماسی کام چھوڑگئی تو دوسری ماسی کے آنے تک گھر کے برتن کون دھوۓ گا؟
انسانوں کی دوسری قسم سست الوجود لوگوں کی ہوتی ہے۔ وہ ہر دم پوستیوں کی طرح پڑے رہتے ہیں اور اپنا ہر کام کرنے کا سوچ کر بیٹھے رہ جاتے ہیں۔ ہوں فوری نوعیت کے کاموں کا وقت گزر جاتا ہے۔ کچھ لوگ صبح آفس جانے کی تیاری میں اتنی دیر لگا دیتے ہیں کہ ہر روز آفس پہنچنے میں انہیں تاخیر ہو جاتی ہے۔ انہیں کہیں کسی دعوت میں جانا ہو تو بلا وجہ سب سے آخر میں کھانے پہ پہنچتے ہیں، وہ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ ان کے لیت و لعل کے اس فعل پر نہ جانے کتنے مدعوئین کی آنتیں قل ھو اللہ پڑھ رہی ہوتی ہیں۔ ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ سفر کی خاطر اسٹیشن پہنچنا ہو یا ائر پورٹ جانا مقصود ہو، وہ سامان باندھنے یا گھر سے نکلنے میں سستی کے باعث وقت کی پابندی نہیں کر پاتے۔ راستے میں ٹریفک جام ملے یا کہیں روٹ لگا ہو، وہ اتنی تاخیر سے اسٹیشن یا ہوائی اڈے پہنچتے ہیں کہ ان کی ٹرین یا فلائٹ ہی مسٹر سے مس ہوجاتی ہے۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ سستی کا مظاہرہ کرنے والے ہمیشہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ان کی کاہلی اور عدم چستی سے بعض اوقات انہیں ٹکٹ کی منسوخی اور کٹوتی کا نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ ان کا نام الگ بدنام ہوتا ہے، کیونکہ وہ نام کے کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہو، لوگ انہیں لیٹ لطیف کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ آرام سے کام کرنے والے اس وقت بہت بے آرام ہوتے ہیں جب انکے کام ادھورے رہ جاتے ہیں۔ پھر وہ یہ سوچ کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں کہ کاش وہ آلکس مارے نہ ہوتے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ طلباء امتحان میں اتنا slow لکھتے ہیں کہ امتحان کا وقت ختم ہونے پر پتا چلتا ہے کہ وہ صرف ایک سوال کا جواب ہی لکھ پائے ہیں اور وقت اپنی چال چل چکا ہوتا ہے۔ مگر اب پچھتاۓ کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جو ہمہ وقت سستی کی نیند سوتے ہیں وہ دراصل وقت کو کھوتے ہیں، کیونکہ گزرا وقت دوبارہ ہاتھ نہیں آتا۔
عموماً صبح کو دیر سے سو کر اٹھنے کی عادت کے شکار بہت سے لوگ کاموں پہ بھی دیر سے جاتے ہیں۔ وہ تمام کاروباری لوگ جو آئے دن شادیوں کی تقریبات میں شرکت کے شوق میں دوڑ دوڑ کر جاتے ہیں، وہ اپنی دکانیں کھولتے کھولتے دن کے بارہ بجا دیتے ہیں۔ پھر بھی شام گئے شادی میں شرکت کرنے کی خاطر دکان بند کرکے گھر لوٹتے ہیں تو ان کی جیبیں نوٹوں سے بھری ہوتی ہیں۔ وہ کم وقت میں بھی اتنی ہی دولت کما چکے ہوتے ہیں جتنی کہ رات بارہ بجے تک اپنا کاروبار نہ سمیٹنے والے کماتے ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں توکل علی اللہ۔ کراچی والوں کے شب و روز زیادہ تر غم روزگار سے مبرا اسی طرح گزرتے ہیں۔
کچھ جلد باز لوگ اپنی گفتگو موٹر وے سے گزرتی گاڑی کی اسپیڈ سے بھی کہیں زیادہ تیز رفتاری سے اس طرح کرتے ہیں، گویا انہوں نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پی رکھا ہو۔ سننے والوں کو ان کی آدھی بات سمجھ آتی ہے اور آدھی سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔ بھلا اتنی جلد بازی کا کیا فائدہ، کہ جو کہا جا رہا ہو وہ کسی کے کچھ پلے نہ پڑے۔ پلے باندھنے والی بات یہ ہے کہ گفتگو ٹہر ٹہر کر ایسی خوبصورتی سے کی جانی چاہئے کہ وہ دوسروں کے دل موہ لے اور لوگ ہمہ تن گوش ہو کر آپ کو سنیں۔ کیونکہ جو بات اچھے ڈھنگ سے کہی جاتی ہے اثر رکھتی ہے۔
ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ ہوا کے گھوڑے پر سوار بعض نمازی نماز کی ادائی میں بھی انتہائی عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انکے قیام و قعود اور رکوع وسجود اس طرح ہو رہے ہوتے ہیں جیسے وہ نماز نہیں پڑھ رہے بلکہ دھواں دھار بارش میں تیز تیز ایکسر سائز کر رہے ہوں۔ نماز تو ایسی عبادت ہے جس میں ایسا تصور کیا جاتا ہے، جیسے مصلی اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہے جہاں ادب و احترام اور خشوع و خضوع درکار ہوتا ہے۔ نماز کو بلا وجہ بے سکونی اور تعجیل کے ساتھ پڑھنا بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس سے گریز کرنا چاہئے۔ اسی طرح رمضان المبارک میں بعض حفاظ تراویح جلد ختم کرنے کے چکر میں ہائی سپیڈ سے اس طرح دوڑ رہے ہوتے ہیں کہ قرآن کے الفاظ کی صحیح ادائی کے تقاضے پورے نہیں ہو پاتے۔ قرآن کو ٹہر ٹہر کر اور خوش الحانی کے ساتھ پڑھنا چاہئے تاکہ سننے والوں کو واضح سمجھ آ رہا ہو۔ کچھ روزہ دار سحری کھاتے وقت بے جا سستی کا مظا ہرہ کرتے ہوۓ سائرن اور آذان کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جبکہ کئی روزہ دار افطار پارٹیوں میں افطاری کے حصول کے لئے چھینا جھپٹی کرتے ہیں اور اتنی بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ روزہ کھلنے کا وقت ہوۓ بغیر وہ روزہ افطار کر بیٹھتے ہیں۔ کیا بات ہے ایسی جلد بازی اور بے صبری کی؟


