جنگیں کبھی بھی انسانوں کے لئے بھلائی لیکر نہیں آتیں۔ جنگوں کا تسلسل خواہ علاقائی ہو یا عالمی سطح پردونوں صورتوں میں متحارب فریقین کے لئے سخت نقصان اور تباہی کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ جنگوں کی پاداش میں اکثر متعلقہ فریقوں کے علاوہ غیر متعلقہ ممالک کی سیکیورٹی اور معیشت و تجارت کو بھی دھچکا پہنچتا ہے۔ اس کی بئین مثال حالیہ امریکہ – اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ہے۔ یہ محاربہ اندوہ ناک بمباریوں، میزائلوں کی حشر سامانیوں اور ڈرونز کی آتش فشانیوں کے علاوہ انسانی جانوں کے بڑے پیمانے پر نقصانات کی بھیانک تصویر پیش کر رہا ہے۔ بیشتر خلیجی ممالک کی آئل ریفائنریز پر حملوں اور جہاز رانی کی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا کے کثیر ممالک میں پیٹرول کی ترسیل کا خوفناک بحران پیدا کردیا ہے۔
بحری راستوں سے گزرنے والے آئل ٹینکروں پر حملوں کی وجہ سے آئل کی عالمی قیمتوں میں بھی معتد بہ اضافه ہوگیا ہے۔ گیس درآمد کرنے والے ممالک کو بھی گیس کے حصول میں سخت مسائل در پیش ہیں۔ اس سے گیس کی عدم ترسیل کے باعث متاثرہ ملکوں میں گیس کی قیمتوں میں عمودی اصافہ ہو رہا ہے۔
تجارتی سامان کی بہم رسانی میں بھی آبنائے ہرمز کی بندش سے سنگین دشواریوں کا سامنا ہے۔ بہت سارے ممالک کے فضائی حدود کی پابندیوں اور ائرپورٹس پر فضائی حملوں سے فلائٹ آپریشنز بھی متاثر ہوۓ بغیر نہیں رہ سکے۔ بہت سے ممالک کی فضائی کمپنیاں خسارے سے دوچار ہیں۔ درآمدات و برآمدات کی بنیاد پر ہونے والی بین الاقوامی تجارت بھی دباؤ کا شکار ہے، جبکہ کئی ممالک کی اسٹاک ایکسچینج روبہ زوال ہیں۔
پاکستان، انٹرنیشنل کمیونٹی کا حصہ ہونے کے حوالے سے اور جغرافیائی اعتبار سے ایران اور خلیجی ممالک سے قریب تر واقع ہونے کی وجہ سے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مصائب اور مشکلات کا شکار ہے۔ ایک طرف پاکستان نسبتاً کم معاشی استحکام رکھتا ہے، جبکہ دوسری طرف ملک میں جاری دہشت گردی اور انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگ اور بعد میں پاک افغان کشاکش نے ملکی معیشت میں کمزوری کو مزید وسیع کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی نے عوام کے لئے پہلے سے موجود مسائل کو دگنا کر دیا۔ مگر حالیہ دنوں میں فیول آئل کی درآمد میں کمی اور اس کی قیمتوں میں اضافے نے لوگوں کی کمر توڑ دی۔ مہنگائی کا مزید طوفان امڈ آیا ہے، جس نے حکومت کے خلاف احتجاج اور کڑی تنقید کو فروغ دے دیا ہے۔
حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 55 روپے کااضافہ اس وقت بھی کردیا تھا جب تک زیادہ قیمت پہ آئل در آمد نہیں ہوا تھا، جب کہ بعد میں ایک سو سینتیس روپے مزید بڑھا کر اس کی قیمت 458 روپے فی لیٹر کردی گئی۔ اس اضافے کا حکومت کے خلاف سخت رد عمل آیا، جس کے نتیجے میں چوبیس گھنٹے بعد ہی بڑھی ہوئی قیمت میں سے اسی روپے کی کمی کر دی گئی۔ اگرچہ اب بھی موجودہ قیمت عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ حکومت نے ان حالات میں پٹرول کی بچت کے لئے کچھ اقدامات کا اعلان بھی کیا ہے، جن کے مطابق دفاتر میں حاضری سے استثناء دے کر ورک فرام ہوم کی اجازت دے دی ہے، دفاتر میں ہفتے میں صرف چار دن کام ہوگا، ماسوائے بنکوں کے۔ انرجی کی بچت کے لئے شام چھ بجے دکانیں بند کرنے کا فیصلہ لئے جانے کی تجویز بھی زیرغورہے پنجاب کی حکومت نے لاہور میں چلنے والی تمام سرکاری بسوں میں مسافروں کو فری سفر کرنے کے اجازت دے دی ہے۔ وفاقی حکومت نے بھی پنڈی اسلام آباد میں سفر کرنے والوں کو مفت سفر کی سہولت دینے کا اعلان کیا ہے۔ موٹرسائیکلوں کے مالکان کو ایک خاص طریق کار کے مطابق ایک سو روپے فی لیٹر کی چھوٹ دی جارہی ہے۔ تاکہ انہیں کسی حد تک ریلیف دیا جا سکے۔
پٹرول کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے انٹر سٹی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ بار برداری کے ذرائع، ٹرکوں وغیرہ نے بھی کراۓ بڑھا دئے ہیں۔ ان کی وجہ سے اشیائے ضروریہ بھی مہنگی ہوگئی ہیں۔ شنید ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایل پی جی کے سیلنڈرز کی قیمتوں میں اضافے کے لئے متعلقہ ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے بھی میٹنگ کی کال دیے رکھی ہے تاکہ قیمتوں پر از سر نو غور کیا جا سکے۔
پاکستان میں مہنگائی، آمدن سے بڑھ کر اخراجات کی روش، حکومتی عمائدین کی شاہ خرچیاں، سرمایہ کاری میں کمی، مختلف اداروں کی غیر تسلی بخش پیداواری کارکردگی، قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، سیاسی ابتری، امن و امان کی بگڑتی صورتحال، بیروزگاری اور سماجی مجرمانہ سرگرمیوں نے عوام میں بیچینی اور اضطراب کا طوفان بپا کیا ہوا ہے۔ ٹیکسوں کی بھرمار، بجلی، گیس، اور اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافے نے جینا دشوار کیا ہوا ہے۔۔
بے بسی کی اس کیفیت میں پاکستان کو ایک ایسی کامیابی ملی ہے، جس کا حصول تقریباً نا ممکن نظر آرہا تھا۔ لیکن اللہ کا کرم ہوا کہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا دور ہوا۔ پاکستان کا امریکہ اور ایران کو طویل اور کامیاب ڈپلومیسی کے ذریعے مذاکرات کی میز پر لانا انتہائی دشوار کام تھا، جس کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی کر کے دنیا کو امن کا پیغام دیا گیا۔ اس سلسلے میں پاکستان کی انتھک کوششوں کا دنیا بھر میں اعتراف کیا جارہا ہے۔
امریکا اور خود ایران نے بھی پاکستان کی جانب سے کی گئی امن کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ اب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ایک اور کوشش جاری رکھے ہوۓ ہے، اس پر بھی فریقین نے بھر پور اعتماد کا اظہار کیا پے۔ امید کی جارہی ہے کہ بہت جلد ناصرف جنگ بندی کی مدت بڑھا دی جائے گی بلکہ مذاکرات کرنے والی اقوام کسی نہ کسی معاہدے پر اتفاق کر لیں گیں۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے ساتھ ہونے والے ممکنہ معاہدے کا اسرائیل پرکس حد تک اطلاق ہوتا ہے۔ اگر متوقع معاہدہ کامیابی سے طے پا جاتا ہے تو یہ عالمی سطح پاکستان کی ڈپلومیسی کی بڑی جیت ہوگی۔ جس کا کریڈٹ پاکستان کی سیایسی اور فوجی قیادت کو جاۓ گا۔ ان شاء اللہ۔


