زمین کو سانس لینے دو/علی عباس کاظمی

دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور تباہی کے درمیان لکیر دن بدن دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔ جدید انسان نے اپنی سہولت، رفتار اور آسائش کے لیے جو راستے اختیار کیے، وہی اب اس کے وجود کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ماحولیاتی بحران اب کوئی دور کا اندیشہ نہیں رہا بلکہ ایک زندہ، واضح اور سنگین حقیقت بن چکا ہے۔ بدلتا موسم، بگڑتی زمین، بڑھتی آلودگی اور قدرتی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار۔۔۔یہ سب مل کر ایک ایسے طوفان کی صورت اختیار کر چکے ہیں جس کے سامنے انسانی بقا کا سوال کھڑا ہے۔ہر سال 22 اپریل کو منایا جانے والا یومِ ارض (Earth Day) محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک اجتماعی یاددہانی ہے کہ زمین صرف ایک سیارہ نہیں، بلکہ ہمارا واحد گھر ہے۔ یہ دن ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لیں اور سوچیں کہ ہم اس زمین کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ دن اکثر تقاریر، سیمینارز اور سوشل میڈیا مہمات تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے، جبکہ عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔

یہ معاملہ ہمیشہ غور طلب رہتا ہے کہ یہ سب قدرتی عمل ہے یا انسانی غفلت کا شاخسانہ؟ اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو جواب واضح ہےکہ یہ سب ہماری اپنی پیدا کردہ صورتحال ہے۔ صنعتی ترقی، جنگلات کی کٹائی، فوسل فیول کا بے تحاشا استعمال، پلاسٹک کی آلودگی اور بے ہنگم شہری پھیلاؤ۔۔۔یہ سب انسانی ہاتھوں کی کارستانیاں ہیں۔ ہم نے زمین کو ایک ایسی مشین سمجھ لیا ہے جو بغیر رکے ہمیں وسائل فراہم کرتی رہے گی، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ماہرین ماحولیات بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر یہی روش جاری رہی تو آنے والی دہائیوں میں زمین کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جائے گا، سمندری سطح بلند ہوگی، زرعی پیداوار متاثر ہوگی اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو جائیں گے۔یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے جس کے اثرات ہم روز محسوس کر رہے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جہاں پہلے ہی وسائل محدود ہیں، اس بحران سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ کبھی شدید گرمی کی لہریں، کبھی غیر متوقع بارشیں اور کبھی تباہ کن سیلاب۔۔۔یہ سب اسی بگڑتے توازن کی نشانیاں ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے اکثر دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ہر فریق اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے دوسرے کو قصوروار ٹھہراتا ہے—حکومتیں، عالمی طاقتیں اور عام لوگ سب اسی روش پر ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس تباہی میں ہم سب کا حصہ ہے۔ جب ہم پلاسٹک بیگز استعمال کرتے ہیں، پانی ضائع کرتے ہیں، درخت کاٹتے ہیں یا فضائی آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں تو ہم خود اس بحران کو بڑھا رہے ہوتے ہیں۔یومِ ارض کا اصل پیغام یہی ہے کہ تبدیلی کا آغاز فرد سے ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنی سطح پر چھوٹے چھوٹے اقدامات کرے تو ایک بڑی تبدیلی ممکن ہے۔ مثلاً درخت لگانا، پلاسٹک کے استعمال میں کمی، پانی اور بجلی کی بچت اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا۔۔۔یہ سب ایسے اقدامات ہیں جو بظاہر معمولی لگتے ہیں مگر ان کا اجتماعی اثر بہت بڑا ہوتا ہے۔تاہم صرف انفرادی کوششیں کافی نہیں۔ اس مسئلے کا حل اجتماعی اور پالیسی سطح پر بھی درکار ہے۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروائیں، قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دیں اور شہری منصوبہ بندی کو ماحول دوست بنائیں۔ تعلیمی اداروں میں ماحولیاتی شعور کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھ سکے۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنی ترقی کے تصور پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ کیا واقعی ترقی کا مطلب صرف زیادہ کارخانے، زیادہ گاڑیاں اور زیادہ کھپت ہے؟ یا پھر اصل ترقی وہ ہے جو انسان اور فطرت کے درمیان توازن قائم رکھے؟ اگر ہم نے اس سوال کا درست جواب نہ ڈھونڈا تو ہماری تمام تر ترقی ایک دن ہمارے اپنے ہی خلاف کھڑی ہو جائے گی۔قدرت کا نظام نہایت متوازن اور حساس ہے۔ جب ہم اس میں مداخلت کرتے ہیں تو اس کے نتائج بھی شدید ہوتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ زمین ہمیں بار بار اشارے دے رہی ہے۔۔۔کبھی موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں، کبھی قدرتی آفات کی شکل میں۔ مگر ہم ان اشاروں کو نظر انداز کر کے اپنی ہی دھن میں مگن ہیں۔ اگر یہی روش جاری رہی تو وہ وقت دور نہیں جب زمین واقعی ہمارے لیے ناقابلِ رہائش ہو جائے گی۔

اگر زمین محفوظ نہیں تو انسانی زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم زمین کے مالک نہیں بلکہ اس کے نگہبان ہیں۔ یہ امانت ہمیں آئندہ نسلوں تک منتقل کرنی ہے اور اگر ہم نے اس میں خیانت کی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یومِ ارض ہمیں محض ایک دن کے لیے نہیں بلکہ پورے سال کے لیے ایک پیغام دیتا ہے۔ یہ پیغام ہے شعور، ذمہ داری اور عمل کا۔۔۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف تقریروں اور نعروں تک محدود رہیں گے یا واقعی کچھ بدلنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ اب وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے اور اگر ہم نے ابھی قدم نہ اٹھایا تو شاید کل بہت دیر ہو جائے۔زمین کا درد سمجھنا اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔ یہ صرف ماحول کا مسئلہ نہیں۔۔۔ یہ ہماری بقا کا سوال ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں