میت کے ترکے کی اصل وارث اولاد ہے۔ اس لیےقرض کی ادائیگی، وصیت کے نفاذ اور دیگر اقربا کے حصے نکالنے کے بعد اولاد کا حصہ بقیہ ترکے میں سے دیا جائے گا، خواہ اولاد لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوں، یا صرف لڑکا یا لڑکی ہو یاصرف لڑکے یا لڑکیاں ہوں۔ اس اصول کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اولاد ‘ما ترک’ کی حق دار ہے، مگر ان کےحق میں’ ماترک’ عملاً’ مابقی’ ہے۔ چنانچہ ‘ماترک ‘کا مفہوم قرض، وصیت اور دیگر اقربا کے بیان ہونے ولے حصوں کے استدراکات کے ساتھ مفہوم ہوتا ہے، ایسے ہی جسے” الف سنۃ الا خمسین عاما” میں ‘الف ‘ اپنے استثنا “خمسین عاما’ کے ساتھ مل کر مکمل مفہوم دیتا ہے۔
سورہ النساء آیت 11 میں جب کہا گیا،” لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ،” “لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔” تو یہاں’ ما ترک’ یعنی “ترکے میں سے” بداہتاً مفہوم ہے، اور اسی لیے لفظاً مذکور نہیں۔ اس صورت میں بالا تفاق طے ہے کہ اولاد کو سارا ترکہ( ما ترک) نہیں ملے گا،بلکہ بقیہ ترکے (مابقی) ہی سے ملےگا،یعنی، وصیت کے نفاذ، قرض کی ادائیگی اور دیگر اقربا کے حصے نکالنے کے بعد وہ بقیہ ( مابقی) کے حق دار ہیں۔
اگر اولاد کے مزید حصے بیان نہ ہوتے اور بات اسی جملے پر ختم ہو جاتی تو اس سے از خود مفہوم ہوتا ہے کہ صرف ایک لڑکا یا لڑکی ہو یاصرف لڑکےیا لڑکیاں ہوں تب بھی سارا ترکہ (ماترک) ان کا ہے اور ان میں مساوی تقسیم ہوگا۔ چنانچہ ہر صورت میں انھیں بقیہ ( ما بقی) میں سے ہی ملتا، لیکن یہاں استدراک کرکے بتایا گیا کہ لڑکیوں کے معاملے میں ایسا نہیں ہوگا۔ وارث صرف ایک لڑکی یا لڑکیاں ہوں تو ترکے (ماترک)کا کچھ حصہ انھیں ملے گا۔ چنانچہ انھیں بھی عملاً (ما بقی) میں سے ہی ملے گا۔ یہاں لڑکیوں کے مستقل حصےبیا ن نہیں ہوئے کہ ان پر الگ اصول لاگو ہو۔
اس موقع پر دوسر ا از خود مفہوم کہ وارث صرف ایک لڑکا یا صرف لڑکے ہوں تو وہ سارے ترکے (ما ترک) کے حق دار ہوں گے، اس کی نفی میں استدراک نہیں لایا گیا، چنانچہ یہ بالاتفاق طے ہے کہ صرف ایک لڑکا یا لڑکے ہوں تو سارا ترکہ (ماترک) انھیں ملے گا، مگر درحقیقت انھیں بقیہ (مابقی) ترکہ ملتا ہے۔ اب اسی موقع پر لڑکیوں کے حصوں میں تبدیلی کا ذکر یہ ثابت کرتا ہے کہ لڑکیوں کے ان حصوں کا بیان اولاد کے حصوں کے ضمن میں بیان ہونے والا استدراک ہی ہے، اور یہ بھی طے ہو جاتا ہے کہ لڑکیوں کا حصہ بھی عملاً ما بقی میں سے دیا جائے گا ، نہ کل کہ ترکے میں سے۔
لڑکیوں کے حصوں کا بیان اولاد کے حصوں کے بیان کے بعد ‘فان’ سے شروع ہوا ہے ۔حرف “ف” کی دلالت سے واضح ہے کہ یہ اولاد کے حصوں کے ضمن میں لڑکیوں کے حصوں کی وضاحت ہے۔چنانچہ یہ اصول اور الفاظ کی دلالت دونوں سے یہ طے ہوجاتا ہے کہ صرف لڑکی یا لڑکیاں ہوں تو ان کا حصہ بھی اُنھیں اولاد کے حصوں کی طرح مابقی میں سے ہی دیا جائے گا ۔
“ف” کی دلالت سے یہ بھی طے ہو جاتا ہے کہ لڑکی یا لڑکیوں کے یہ حصے اس نئی صورت کے لیے بیان نہیں ہوئے جب لڑکی یا لڑکیاں ہی تنہا وارث ہوں۔ ایسا ہوتا تو حرف “ف” کی بجائے حرف استیناف “و” سے جملہ شروع ہوتا، نیز، اسلوب وہ ہوتا جو اس بیان قانون میں تنہا ررثا کی صورت بتانے کے لیے اختیار کیا گیاہے، یعنی، وورث ابواہ اور وھویرثھا۔ آیت 176 میں بہن بھائیوں کے حصوں کے بیان ہوئے ہیں، وہاں بھی ایسا کوئی قرینہ نہیں کہ یہ سمجھا جائے کہ وہاں بہن بھائی تنہا وارث ہیں۔
اولاد کے حصوں کے بعد والدین، بھائی بہن اور زوجین کے حصے بیان نہ کیے جاتے تو یہ طے تھا کہ وصیت اور قرض کی ادئیگی کے بعد سارا ترکہ اولادکا ہے۔ لیکن یہاں دوسرا استدراک لا کر بتایا گیا کہ اولاد کی موجودگی میں والدین کو بھی حصہ ملے اور ان کی غیر موجودگی میں بھی ملےگا۔
پھر تیسرا استدراک لا کر بتایا کہ مرحوم کے بہن بھائی ہوں تو ماں کا وہی حصہ لوٹ آئے گا جو اولاد کی موجودگی میں اس کے لیے مقرر ہے، یعنی چھٹا حصہ۔
پھر چوتھےاستدراک میں زوجین کے حصے بیان ہوئے ہیں۔
چنانچہ اولاد کا حصہ ترکے میں سے اِن تمام حصوں کو نکالنے کے بعد دیا جائے گا، خواہ اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوں، یا صرف ایک لڑکا یا لڑکی یا صرف لڑکے یا لڑکیاں۔
آیات وراثت میں اولاد کے حصوں کا بیان وصیت اور قرض کی ادائیگی کی ہدایت پر ختم ہوتا ہے۔ چنانچہ پورے جملے میں بیان ہونے والےتمام استدراکات کو شامل کر کے اولاد کے لیے’ ما ترک’ کا مفہوم متعین ہوگا۔
ترکے میں ان تمام حصوں سے پہلے سورہ نساء آیت 8 میں تقسیم وراثت کے وقت جمع ہونے والے اقربا، یتامی او مساکین کو بطور صلہ رحمی و تطوع کچھ دینے کی ترغیب دی گئی ہے:
وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا (النساء 4: 8)
“لیکن تقسیم کے موقع پر جب قریبی اعزہ اور یتیم اور مسکین وہاں آ جائیں تو اُس میں سے اُن کو بھی کچھ دے دو اور اُن سے بھلائی کی بات کرو۔ ”
یہ صدقہ ہے جو ظاہر ہے کہ تمام ورثا کی رضامندی کے ساتھ ہی دیا جا سکتا ہے۔
ترتیب کے لحاظ سے سب سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا، پھر وصیت اگر ہے تو اس پر عمل کیا جائے گا، پھر ورثا کی رضامندی سے بطور تطوع یتامی و مساکین اور ضرورت مند اقربا میں کچھ مال تقسیم کیا جائے گی، اس کے بعد اصل ورثا کے علاوہ دیگر ورثا کے حصے نکالے جائیں گے اور بقیہ ترکہ اصل ورثامیں تقسیم ہوگا۔
آیت “‘مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ’ میں قرض اگرچہ لفظاً موخر ہے ، لیکن حکم کے لحاظ سے اُسے مقدم ہی مانا جائے گا۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ قرض خواہ کا حق مرنے والے کی زندگی میں قائم ہو جاتا ہے اور جن کے لیے وصیت کی گئی ہے ، اُن کا حق مورث کی موت سے پہلے قائم نہیں ہوتا ۔ رہی آیت میں وصیت کی تقدیم تو یہ محض حسن بیان کے لیے ہے۔” (میزان)
جاری۔۔۔


