مدام نسیم تھیبو: زندگی، ادب اور ورثہ/کلوانتی راجہ

مدام نسیم تھیبو (1 اپریل 1948 – 19 مارچ 2012) جدید سندھی ادب کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار کی جاتی ہیں۔ وہ سندھ کے ضلع مہر کے علاقے گھری (تھیبو گاؤں) میں پیدا ہوئیں اور ایک ایسے خاندان میں پرورش پائی جو فکری اور ثقافتی سرگرمیوں سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔ ان کے والد میر عبدالباقی تھیبو مہر کے ایک باوقار اور معزز مقامی شخصیت تھے، جنہوں نے ایک ایسا ماحول فراہم کیا جہاں تعلیم، سماجی شعور اور اجتماعی خدمت کو اہمیت حاصل تھی۔ ان کی والدہ بیگم بادام نتوان (مدام تھیبو) شیکاپور سے تعلق رکھتی تھیں، جو سندھ کی تاریخ اور ثقافت کا ایک اہم مرکز ہے۔ بیگم بادام نتوان خود ایک پیشرو خاتون ادیبہ تھیں اور اپنی کتاب “خوش خصلت خاتون” کی وجہ سے سندھی ادبی حلقوں میں پہچانی جاتی تھیں۔ انہوں نے اپنے بچوں میں ادبی شعور کی بنیاد رکھی۔
نسیم تھیبو کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں ادب اور ترقی پسند خیالات ساتھ ساتھ پروان چڑھ رہے تھے۔ ان کا خاندان نہ صرف ثقافتی طور پر سرگرم تھا بلکہ سیاسی شعور بھی رکھتا تھا۔ وہ میر تھیبو کی بہن تھیں، جو سندھ کے ایک معروف کمیونسٹ رہنما اور ترقی پسند سیاسی کارکن تھے، جن کی جدوجہد سماجی انصاف، برابری اور عوامی سطح پر تنظیم سازی کے گرد گھومتی تھی۔ اس گھرانے نے ادبی نفاست اور سیاسی شعور کو یکجا کر دیا تھا، جس نے نسیم کی شخصیت اور ان کی تحریروں پر گہرا اثر ڈالا۔
1968 میں نسیم تھیبو نے معروف سیاستدان رسول بخش پلیجو سے شادی کی، جو قانون کے ماہر اور بعد ازاں سندھ کی ترقی پسند سیاسی جماعت عوامی تحریک کے بانی تھے۔ اس رشتہ نے انہیں سندھ کی سماجی اور سیاسی زندگی کے قریب کر دیا، تاہم ان کی تحریر زیادہ تر انسانی تجربات پر مرکوز رہی اور براہِ راست سیاسی نعرہ بازی سے گریز کرتی رہی۔ اس ازدواجی تعلق سے ان کی دو بیٹیاں ہوئیں: تانیا تھیبو (بعد ازاں تانیا سلیم) اور انیتا تھیبو (بعد ازاں انیتا اعجاز منگی)۔ تانیا ادبی اور سماجی موضوعات پر لکھتی رہی ہیں، جبکہ انیتا، جو کالم نگار اعجاز منگی کی اہلیہ ہیں، نسبتاً کم عوامی زندگی رکھتی ہیں۔
نسیم تھیبو نے تعلیمی میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ سندھ یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات میں اسسٹنٹ پروفیسر رہیں اور 2000 میں ریٹائر ہوئیں۔ ساتھ ہی وہ ایک اہم ادبی شخصیت کے طور پر بھی ابھریں، خاص طور پر افسانہ نگاری میں۔ ان کی ادبی سرگرمیوں کا عروج 1970 اور 1980 کی دہائی میں ہوا، جب سندھی ادب جدیدیت کی طرف بڑھ رہا تھا۔ انہوں نے تقریباً 25 افسانے لکھے، جو سماجی حقیقتوں، خواتین کی داخلی زندگی اور انسانی نفسیات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کی تحریر کی خاص بات اس کی نفسیاتی گہرائی، سماجی اقدار پر نرم تنقید اور عورت کے تجربے کی باریک عکاسی ہے۔
ان کا سب سے معروف افسانوی مجموعہ “اُبھرجنڈ پس پرین” ان کی وفات کے بعد 2013 میں سندھ ادبی بورڈ نے دین محمد کلہورو کی تدوین کے ساتھ شائع کیا۔ ان کی تحریروں میں ان کی پرورش کے اثرات واضح ہیں: والد کی سماجی شعور کی روایت، والدہ کی ادبی تربیت، اور بھائی و شوہر کی سیاسی فکر۔ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ شیکاپور میں گزرا، جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کراچی کے علاقے سچل گوٹھ میں مقیم ہو گئیں، جو سندھ کے ایسے تعلیم یافتہ خاندانوں کی عکاسی کرتا ہے جو دیہی اور شہری زندگی کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔
نسیم تھیبو 19 مارچ 2012 کو 64 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ وہ اپنے پیچھے ادبی حساسیت، سماجی شعور اور انسانی نفسیات کی گہری تفہیم پر مبنی ایک ورثہ چھوڑ گئیں۔ وہ سندھی ادب میں ایک باوقار، باشعور اور جرات مند آواز کے طور پر یاد کی جاتی ہیں۔ ان کی تحریریں اگرچہ تعداد میں کم ہیں، مگر آج بھی خواتین کے تجربات، انسانی نفسیات اور سندھ کی سماجی حقیقتوں کو سمجھنے میں اہم سمجھی جاتی ہیں۔
خاندانی خلاصہ اور تعلیمی اثرات
والد: میر عبدالباقی تھیبو — مہر کے معزز سماجی رہنما اور فکری شخصیت
والدہ: بیگم بادام نتوان (مدام تھیبو) — شیکاپور کی پیشرو سندھی ادیبہ، کتاب “خوش خصلت خاتون” کی مصنفہ
بھائی: میر تھیبو — کمیونسٹ رہنما اور سیاسی کارکن
شوہر: رسول بخش پلیجو — وکیل، سیاستدان، عوامی تحریک کے بانی
بیٹیاں:
تانیا تھیبو (تانیا سلیم) — ادیبہ اور سماجی مبصر
انیتا تھیبو (انیتا اعجاز منگی) — اعجاز منگی کی اہلیہ، کم نمایاں عوامی کردار
پیشہ ورانہ اور تعلیمی ورثہ
سندھ یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات میں اسسٹنٹ پروفیسر
2000 میں ریٹائرمنٹ
تقریباً 25 افسانے، جن میں نفسیاتی گہرائی اور سماجی بصیرت نمایاں ہے
اہمیت
نسیم تھیبو سندھ میں علمی سنجیدگی، ادبی صلاحیت اور سماجی شعور کے امتزاج کی ایک نادر مثال ہیں۔ ان کا خاندان کئی نسلوں پر مشتمل فکری اور ثقافتی روایت کی نمائندگی کرتا ہے—ان کی والدہ کی ادبی جدت سے لے کر ان کی اپنی ادبی و تعلیمی خدمات اور ان کی بیٹیوں کی ادبی وابستگی تک۔ ان کی وفات کے بعد بھی وہ سندھ کے ادبی منظرنامے میں ایک حساس، باوقار اور فکری طور پر مضبوط آواز کے طور پر زندہ ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں