عظیم کساد بازاری دنیا بھر کی معیشتوں (خاص طور پر مغربی دنیا اور اس سے وابستہ ممالک میں) میں مارکیٹ کی گراوٹ کا دور تھا جو 2007 کے آخر سے 2009 کے وسط تک 2008 کے مالیاتی بحران سے جڑے ہوئے تھے۔ کساد بازاری کا پیمانہ اور وقت ملک کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے اس وقت، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ 1930 کی دہائی کے عظیم کساد بازاری کے بعد سب سے شدید معاشی اور مالیاتی بحران تھا۔
عظیم کساد بازاری بہت سی کمزوریوں کی وجہ سے ہوئی جو عالمی مالیاتی نظام میں دھیرے دھیرے پروان چڑھتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ متحرک واقعات کا ایک سلسلہ جو 2005-2012 میں ریاستہائے متحدہ کے ہاؤسنگ بلبلے کی طرح پھٹنے سے شروع ہوا تھا۔ جب مکانات کی قیمتیں گر گئیں اور گھر کے مالکان نے اپنے رہن کو چھوڑنا شروع کیا تو 2007-2008 میں سرمایہ کاری بینکوں کے پاس رہن کی حمایت یافتہ سیکیورٹیز کی قدر میں کمی واقع ہوئی، جس کی وجہ سے ستمبر 2008 میں کئی بینک دیوالیہ ہو گئے-پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کی 2008 سے 2013 تک کی معاشی کارکردگی کو اکثر یکساں طور پر “زبردست” کارکردگی کے بجائے اہم ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور شدید اقتصادی چیلنجوں کے مرکب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جب کہ حکومت نے عالمی کساد بازاری کے مشکل حالات میں کام کیا، جس میں ایف ڈی آئی میں نمایاں کمی اور توانائی کی قلت بڑھ گئی، اس نے اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے جیسے قابل ذکر سنگ میل بھی حاصل کیے۔
اب ہمُ اعداد و شمار کے ساتھ جاہزہ لیتے ایکسپورٹ امپورٹ اور تجارتی خسارہ کا پیُ پی پی حکومت کا باقی حکومتوں کے ساتھ تقابلی جائزہ
2008 میں پی پی پی حکومت میں پاکستان کی برآمدات 24.01 ارب ڈالر، درآمدات 45.44 اور تجارتی خسارہ 21.43 بلین ڈالر۔ 2009 میں ایکسپورٹ 23.31، امپورٹ 39.22 اور تجارتی خسارہ 16.01 بلین امریکی ڈالر تھا۔ 2010 میں ایکسپورٹ 24.99، امپورٹ 38.12 اور تجارتی خسارہ 13.23 بلین ڈالر تھا۔ 2011 میں برآمدات 31.11، درآمدات 43.57 اور تجارتی خسارہ 12.46 بلین امریکی ڈالر تھا جو کہ 3 حکومتوں میں 2008 سے 2025 تک سب سے کم تجارتی خسارہ ہے۔ 2012 میں برآمدات 29.73، درآمدات 48.69 اور تجارتی خسارہ 1813 ارب ڈالر تھا۔ ، درآمد 48.45 اور تجارتی خسارہ 16.92 امریکی ڈالر۔2013 میں ایکسپورٹ 31.53, امپورٹ 48.45 اور تجارتی خسارہ 16.92 ارب ڈالر تھا-
2013 سے 2018 تک مسلم لیگ ن کی حکومت 2014 میں ایکسپورٹ 30.42، امپورٹ 49.66 اور تجارتی خسارہ 19.24 رہی۔ 2015 میں برآمدات 29.96، درآمدات 50.21 اور تجارتی خسارہ 20.24 بلین امریکی ڈالر تھا۔ 2016 میں ایکسپورٹ 27.43، امپورٹ 50.12 اور تجارتی خسارہ 22.69 بلین امریکی ڈالر تھا۔ 2017 میں ایکسپورٹ 27.92، امپورٹ 58.38 اور تجارتی خسارہ 30.66 بلین ڈالر تھا۔ 2018 میں برآمدات 30.62، درآمدات 67.95 اور تجارتی خسارہ 37.33 بلین امریکی ڈالر تھا۔
پی ٹی آئی حکومت میں 2018 سے 2022 تک 2019 میں برآمدات 30.22، درآمدات 62.81 اور تجارتی خسارہ 32.58 بلین امریکی ڈالر۔ 2020 میں برآمدات 27.97، امپورٹ 52.40 abd تجارتی خسارہ 24.43 بلین ڈالر۔ 2021 میں برآمدات 31.58، درآمدات 62.73 اور تجارتی خسارہ 31.15 بلین امریکی ڈالر۔ 2022 میں برآمدات 39.60، درآمدات 84.49 اور تجارتی خسارہ 44.89 بلین امریکی ڈالر جو کہ پاکستانی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ 2023 میں برآمدات 35.47، درآمدات 61.33 اور تجارتی خسارہ 25.86 بلین امریکی ڈالر تھا۔
مسلم لیگ ن کی حکومت میں 2024 سے 2026 تک 2024 میں ایکسپورٹ 38.67، امپورٹ 63.96 اور تجارتی خسارہ 25.29 بلین امریکی ڈالر 2025 میں ایکسپورٹ 40.69، امپورٹ 70.09 اور تجارتی خسارہ 29.40 بلین ڈالر – پی پی پی کی حکومت میں اوسط” سالانہ اوسطاً 27.41 بلین ڈالر سالانہ ایکسپورٹ ہوا۔43.91 اوسط” سالانہ ،امپورٹ اور تجارتی خسارہ اوسط” سالانہ 16.50 بلین امریکی ڈالر ہے جو کہ 2008 سے 2025 تک 3 حکومتوں میں سب سے کم ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت میں 2013 سے 2018 تک اوسطاً 5 سال کی گورنمنٹ ایکسپورٹ 29.27، امپورٹ 55.30 بلین ڈالر اورتجارتی خسارہ 26.032 اوسط” ارب ڈالر ہے۔ پی پی پی حکومت سے اوسط سالانہ تجارتی خسارہ 57.77% فیصد اضافہ- پی ٹی آئی 4 سال حکومت کی برآمدات 32.34، درآمدات 65.60 اور تجارتی خسارہ 33.26 بلین امریکی ڈالر۔
جو کہ ppp gov سے101.57% % فیصد زیادہ اور مسلم لیگ gov سے 27.76% فیصد زیادہ ہے۔ 2024 سے 2026 تک 2 سالہ مسلم لیگ 2 سالہ گورنمنٹ اوسطاً سالانہ ایکسپورٹ 39.68، امپورٹ 67.02 اور تجارتی خسارہ 27.34 بلین ڈالر ہے۔ پی ٹی آئی حکومت سے تجارتی خسارہ 17.78 % فیصد کم اور پی پی پی
حکومت سے 65.68 % فیصد زیادہ ہے-
عالمی کساد بازاری کا اثر: حکومت نے عالمی مالیاتی بحران کے دوران چارج سنبھال لیا، جس کے ساتھ تیل اور اشیاء کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس نے اندرونی اقتصادی دباؤ کو بڑھا دیا۔ اس کے برعکس، کارکنوں کی ترسیلات مضبوط رہیں، 19.5 فیصد اضافہ ہوا۔ حامیوں نے دیہی معیشت میں 2008 میں 50 بلین روپے سے 2013 میں 800 بلین روپے تک اضافے کی طرف اشارہ کیا، جس کی حمایت بینظیر ٹریکٹر سکیم جیسے اقدامات سے کی گئی۔ گندم کی پیداوار میں پانچ سال میں پانچ گنا اضافہ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 158 فیصد تک اضافہ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 75 لاکھ مستحق خاندانوں میں 70 ارب روپے کی تقسیم اور پاکستان بیت المال کی جانب سے سویٹ ہومز کے ذریعے 135,000 مستحق افراد کی مالی مدد۔پاک ایران گیس پائپ لائن کا معاہدہ، چین کے ساتھ گوادر پورٹ پر معاہدہ، زرمبادلہ کے ذخائر 2008 میں 6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2013 میں 16 بلین ڈالر، ایکسپورٹ 2008 میں 18 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2012 میں 29 ارب ڈالر، اسٹاک مارکیٹ میں 5,220 پوائنٹس سے 2008 میں اضافہ اور 2008 میں 1813 میں 1800 پوائنٹس تک پہنچ گئے۔ 2008 میں شرح سود 17 فیصد سے 2013 میں 9 فیصد ہوگئی۔ پی پی پی حکومت نے 500,000 صنعتی کارکنوں میں حصص بھی تقسیم کیے، بے نظیر ٹریکٹر سکیم کے ذریعے کسانوں کو سستے ٹریکٹر، دیہی معیشت کو 2008 میں 50 ارب روپے سے بڑھا کر 2013 میں 800 ارب روپے کر دیا۔
SOURCE:WORLD ECONOMIC SITUATION AND PROSPECTS 2013 BY ANALYSIS DIVISION OF UN
15 Jan 2013
STATISTICS BUREAU OF PAKISTAN
FINANCE DIVISION OF PAKISTAN


