نصف شب /علی عبداللہ

نصف شب میں ابھی کچھ دیر باقی ہے- میں سونے کے ارادے سے چھت پہ کھلے آسمان تلے بستر بچھا چکا ہوں- لیکن آسمان پر آوارہ بادلوں اور چاند کی چاندنی کے بیچ جاری کشمکش دیکھتے ہی نیند سے الجھ پڑا ہوں اور ماضی دل و دماغ پر دستک دینے لگا ہے- اب اس دستک کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے، کیونکہ ماضی زمان و مکان کی قید سے ماوراء ہوتا ہے-

رات کے اس پہر ماضی کی سیج میں یادوں کی بارات سجائی تو امراء القیس چند لمحوں کے لیے پاس آن بیٹھا، اور کہنے لگا،
فَجِئْتُ وَقَدْ نَضَّتْ لِنَوْمٍ ثِيَابَهَـا
لَـدَى السِّتْرِ إلاَّ لِبْسَةَ المُتَفَضِّـلِ
فَقَالـَتْ : يَمِيْنَ اللهِ مَا لَكَ حِيْلَةٌ
وَمَا إِنْ أَرَى عَنْكَ الغَوَايَةَ تَنْجَلِـي

ماضی کا ذکر آئے تو کون ہے جس کی نیند متاثر نہ ہو؟ کون ہے جو اس کا اسیر نہ ہو؟ انسان کا حال، اس کے فیصلے، اس کی سوچ سب اس کے گزرے ہوئے کل کی پرتوں میں سے ہی جنم لیتے ہیں- شاید اسی لیے ماضی کی گرفت، چاہے شعوری ہو یا لاشعوری، بہرحال قائم رہتی ہے-
یادیں، چاہے وقت کی گرد میں کہیں دب بھی جائیں، دل سے کبھی محو نہیں ہوتیں- ماضی کی اس دستک میں کتنے ہی چہرے ابھرے, کچھ نے رشتوں کی مٹھاس یاد دلائی، کچھ نے کڑواہٹ کا ذائقہ پھر سے چکھایا۔ کہیں ہجر کے زخم جاگ اٹھے، کہیں وصل کی ساعتیں مدھم دھنوں کی طرح لوٹ آئیں۔ پرانی یادیں اگر اس کرہ ارض سے مٹ بھی جائیں تو دل و جاں سے نہیں نکل سکتیں- میں کس کس خیال کو بیان کروں ۔۔۔پھر کچھ ایسے چہرے بھی اترے جن کے بارے خسرو نے کہا تھا،
اے چہرہ زیبائی تو رشک بتان آذری
ہر چند وصفت میکنم در حسن ازاں بالا تری

سو رات کے پچھلے پہر، ماضی کے در پر دستک دے کر دل نے پرانے درد تو چھیڑ دیے ہیں، لیکن یاد رہے کچھ درد بڑے شفا بخش ہوا کرتے ہیں-

———————————————————-
شعر کا ترجمہ:
میں اس کے پاس ایسے وقت میں پہنچا، جبکہ وہ چلمن کے پاس جامہء خواب کے علاوہ سونے کے لیے (سب) کپڑے نکال چکی تھی۔

(جب میں اس کے پاس پہنچا) تو وہ بولی، خدا کی قسم تیرے لیے اب کوئی عذر نہیں اور میں نہیں خیال کرتی کہ تجھ سے یہ (عشق کی) گمراہی زائل ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں