ہماری میڈیکل فیلڈ کا المیہ
شہر لاہور میں تو اتنے جعلی نام نہاد Aesthetic کلینکس نہیں ہیں جتنے پرائیویٹ میڈیکل کالج کھل گئے ہیں اور دھڑا دھڑ کھل رہے ہیں۔ ایک اینٹ اکھاڑو تو ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج نکل آتا ہے۔
آپ فیروزپور روڈ پر چڑھ کر قصور تک جائیں، آپ کو ہر بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج کھلا نظر آئے گا۔ قصور شہر، جس میں ہم مچھلی کھانے جاتے تھے، اب اس شہر میں ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج کھل چکا ہے۔ ایک سابق وکٹ کیپر کے نام پر بنا ایک میڈیکل کالج اب اپنا ایک “سسٹر میڈیکل کالج” بنا چکا ہے، جو کہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ اب میڈیکل کالج صرف پیسہ بنانے کی مشین بن چکے ہیں۔
صوبہ پنجاب کے سب سے بڑے گاؤں نما تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں چار پرائیویٹ میڈیکل کالجز کھل چکے ہیں۔ فیصل آباد کے نواحی ٹاؤن میں واقع میڈیکل کالج، جس میں ڈاکٹرز اور فیکلٹی ممبران کا جس طرح استحصال کیا جا رہا ہے، وہ آدمی سن لے تو رونا آ جاتا ہے۔
ان میڈیکل کالجوں کے ارب پتی مالک سیٹھوں کی پہنچ اتنی زیادہ ہے کہ اس سال جب ان کے ڈاکٹرز بنانے کے کارخانوں میں سیٹس بچ گئیں تو انہوں نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو زبردستی مجبور کر کے ایم بی بی ایس میں داخلے کا میرٹ 55 فیصد اور بی ڈی ایس میں داخلے کا میرٹ 51 فیصد کروا لیا تاکہ کوئی سیٹ خالی نہ بچ جائے، اور پی ایم ڈی سی والوں نے یہ بات مان بھی لی۔ لیکن اس دفعہ پاکستانی ان کالجز کے مافیا مالکان کے جھانسے میں نہیں آئے اور کافی سیٹس خالی رہ گئی ہیں، کیونکہ عوام کو پتا چل گیا ہے کہ اس فیلڈ میں ڈیمانڈ کے مقابلے میں پروڈکشن میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے، تو اب میڈیکل فیلڈ میں نہ وہ چارم رہا ہے اور نہ ہی وہ پہلے والی کشش باقی رہی ہے۔ یہ سب کچھ ان گلی محلوں میں کھلے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے بدولت ممکن ہوا ہے۔
یہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے سیٹھ مالکان، جو کہ فیسوں اور ڈونیشن کے نام پر کروڑوں کماتے ہیں، یہ بے حیا لوگ اپنے ہی گریجویٹس کو ہاؤس جاب میں پورا وظیفہ نہیں دیتے۔ اپنے ہی گریجویٹس کو ٹریننگ دیتے وقت ان سے اشٹام سائن کرواتے ہیں کہ تم نے ہم سے پورے چار سال وظیفہ / تنخواہ نہیں مانگنی، اگر مانگو گے تو فوراً ٹریننگ ختم کر دی جائے گی۔ ان substandard میڈیکل کالجز کی وجہ سے ڈاکٹرز کی پروڈکشن حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔
بات یہی ختم نہیں ہوئی، یہی سیٹھ مالکان ریٹائرڈ پروفیسرز کو لاکھوں کے پُرکشش پے پیکج پر دوبارہ رکھ لیتے ہیں اور یوں سرکاری ہسپتالوں کے یہ فرعون پروفیسرز ان سیٹھوں کے ڈائریکٹ نیچے کام کرتے ہیں اور یہ حضرات اپنے ہی ینگ ڈاکٹرز کا استحصال ہوتا دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں۔ آج تک کسی پرائیویٹ کالج کے پروفیسر نے اس استحصال پر کوئی بات کی ہو؟ تو جواب نفی میں ہوگا۔
اگر یہ کالج مالکان لوگوں سے کروڑوں روپے فیسوں کی مد میں لے رہے ہیں تو ینگ ڈاکٹرز کا استحصال کیوں کرتے ہیں؟ کیوں یہ لوگ ان کو ان کا جائز حق تک دینے کو تیار نہیں؟ ستم یہ ہے کہ ہمارے بڑوں میں سے کوئی بھی اس پر بولنے کو تیار نہیں ہے۔ مایوسی، بس مایوسی۔


