تامل ناڈو: وجے کی جیت، انتخابی سراب اور طبقاتی جدوجہد کا راستہ
تامل ناڈو کے حالیہ انتخابی نتائج اور سی جے وجے کی ‘تامل ناگا ویٹری کژگم’ (TVK) کی کامیابی کو محض ایک سیاسی تبدیلی کے طور پر دیکھنا تاریخی مغالطہ ہوگا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی انقلابی تبدیلی نہیں بلکہ ایک روایتی “بورژوا انتخابی لہر” ہے، جس کی بنیادیں فلمی گلیمر، سستی جذباتیت اور عوامی بیزاری پر کھڑی ہیں۔
اگرچہ ہم تاریخ کے طالب علم ہونے کے ناطے عوامی فیصلے کو یکسر مسترد نہیں کر سکتے، لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وجے کی یہ جیت دراصل تامل ناڈو کی سیاست میں موجود اس گہرے تضاد اور دراڑ کا نتیجہ ہے جو برسوں کی موروثی بدعنوانی اور نیولبرل معاشی جمود کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ تامل عوام نے دراوڑی سیاست کی دہائیوں پرانی دو طرفہ اجارہ داری کو مسترد کر کے اپنی تڑپ کا اظہار تو کیا ہے، مگر وہ منزل اب بھی بہت دور ہے جس کا خواب اس دھرتی کے محنت کشوں نے دیکھا تھا۔
وجے کی سیاست کا جوہر وہی پرانا “اصلاح پسندی” کا نسخہ ہے جو درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کو آکسیجن فراہم کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ محنت کش طبقے اور دلتوں کو یہ حقیقت جان لینی چاہیے کہ سرمایہ دار نواز پالیسیوں کے ساتھ کبھی بھی ذات پات کے جبر یا طبقاتی استحصال کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا۔ جو تحریکیں نظام کی بنیادوں پر ضرب لگانے کے بجائے محض چہرے بدلنے کی بات کرتی ہیں، وہ بالآخر اسی نظام کا حصہ بن جاتی ہیں۔ آج ضرورت محنت کشوں کی آزادانہ تنظیم کاری کی ہے، نہ کہ کسی سِنی سٹار کے ساتھ ‘ویٹری’ کی تصاویر بنوانے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہونے کی۔
آج اگر وجے جیسا ایک فلمی ستارہ سیاسی خلا کو پُر کر رہا ہے، تو اس کے ذمہ دار وہ نام نہاد بائیں بازو اور سیکولر محاذ ہیں جنہوں نے عوامی جدوجہد کے ساتھ سنگین غداری کی۔ سی پی آئی جیسی پارٹیوں نے وزارتی کرسیوں اور اقتدار کی ہوس میں طبقاتی جدوجہد کے پرچم کو لپیٹ کر رکھ دیا ہے۔ دوسری طرف ڈی ایم کے نے دراوڑی تحریک کی آڑ میں خاندانی موروثیت اور جاگیردارانہ سیاست کا ایسا کاروبار چمکایا جس نے پیریار اور امبیڈکر کے نظریات کی روح کو ہی بیچ ڈالا۔ ان پارٹیوں نے اقتدار کے ٹکڑوں اور انتخابی اتحادوں کے لیے تمل محنت کش طبقے کے مفادات کا سودا کیا۔ اسی سیاسی دیوالیہ پن نے وہ خلا پیدا کیا جس پر وجے نے اپنی سیاست کی عمارت کھڑی کی ہے۔
انتخابی ہوائیں تو بدلتی رہتی ہیں، کبھی ایک چہرہ ابھرتا ہے تو کبھی دوسرا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب تک “ذرائعِ پیداوار” کی تبدیلی کے ذریعے طبقاتی جبر کا خاتمہ نہیں ہوتا، سماج کی تقدیر نہیں بدلتی۔ وجے اور ان جیسے دیگر اداکاروں کو ایوانوں میں حکومت کرنے دیں، لیکن ہمارا راستہ واضح ہے۔ ہماری منزل پارلیمنٹ کی راہداریاں نہیں بلکہ وہ فیکٹریاں، وہ کھیت اور وہ کچی بستیاں ہیں جہاں محنت کش اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم اس نظام کی باقیات پر ایک حقیقی سوشلسٹ انقلاب کی تعمیر جاری رکھیں گے۔ تاریخ کا پہیہ آگے کی طرف بڑھ رہا ہے، اور آخری فتح محنت کش طبقے کی ہی ہوگی!
*عمر شاہد*


