ہماری میڈیکل فیلڈ کا المیہ /ڈاکٹر محمد شافع صابر

ایک اچھے کولیگ سے ملاقات ہوئی۔ وہ شہر لاہور کے ایک مشہور پرائیویٹ ہسپتال میں جنرل سرجری کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کر رہے ہیں۔ ان کو ماہانہ وظیفہ (stipend) صرف ساٹھ ہزار ملتا ہے، جبکہ ہسپتال میں ہاسٹل کی سہولت موجود نہیں۔ چنانچہ وہ ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں تیس ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے رہ رہے ہیں۔ جبکہ اسی پرائیویٹ ہسپتال میں ایک appendectomy (آپینڈکس کا آپریشن) کے چارجز کوئی مبلغ دو لاکھ روپے سے بھی زائد ہیں۔ اسی ہسپتال سے منسلک میڈیکل کالج کی ایم بی بی ایس کی فیس ایک کروڑ سے زائد ہے، اور یہ لوگ اپنے ہی ہاؤس آفیسرز کو زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار روپے دے رہے ہیں۔ یہ ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج و ٹیچنگ ہسپتال کی کہانی نہیں، پنجاب سمیت پاکستان بھر میں یہی چل رہا ہے۔

شہر لاہور میں تو اتنے جعلی نام نہاد aesthetic کلینکس نہیں ہیں جتنے پرائیویٹ میڈیکل کالج کھل گئے ہیں اور دھڑا دھڑ کھل رہے ہیں۔ ایک اینٹ اکھاڑو تو ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج نکل آتا ہے۔

آپ فیروزپور روڈ پر چڑھ کر قصور تک جائیں، آپ کو ہر بیس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج کھلا نظر آئے گا۔ قصور شہر، جس میں ہم مچھلی کھانے جاتے تھے، اب اس شہر میں ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج کھل چکا ہے۔ ایک سابق وکٹ کیپر کے نام پر بنا ایک میڈیکل کالج اب اپنا ایک “سسٹر میڈیکل کالج” بنا چکا ہے، جو کہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ اب میڈیکل کالج صرف پیسہ بنانے کی مشین بن چکے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے سب سے بڑے گاؤں نما تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں چار پرائیویٹ میڈیکل کالجز کھل چکے ہیں۔ فیصل آباد کے نواحی ٹاؤن میں واقع ایک میڈیکل کالج میں ڈاکٹرز اور فیکلٹی ممبران کا جس طرح استحصال کیا جا رہا ہے، وہ آدمی سن لے تو رونا آ جاتا ہے۔

ان میڈیکل کالجز کے ارب پتی مالک سیٹھوں کی پہنچ اتنی زیادہ ہے کہ اس سال جب ان کے ڈاکٹرز بنانے کے کارخانوں میں سیٹس بچ گئیں تو انہوں نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو زبردستی مجبور کر کے ایم بی بی ایس میں داخلے کا میرٹ 55 فیصد اور بی ڈی ایس میں داخلے کا میرٹ 51 فیصد کروا لیا تاکہ کوئی سیٹ خالی نہ بچ جائے، اور پی ایم ڈی سی والوں نے یہ بات مان بھی لی۔ لیکن اس دفعہ پاکستانی ان کالجز کے مافیا مالکان کے جھانسے میں نہیں آئے اور کافی سیٹیں خالی رہ گئی ہیں، کیونکہ عوام کو پتا چل گیا ہے کہ اس فیلڈ میں ڈیمانڈ کی نسبت پروڈکشن میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے۔ تو اب میڈیکل فیلڈ میں نہ وہ چارم رہا ہے اور نہ ہی وہ پہلے والی کشش باقی رہی ہے۔ یہ سب کچھ ان گلی محلوں میں کھلے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی بدولت ممکن ہوا ہے۔

یہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے سیٹھ مالکان، جو کہ فیسوں اور ڈونیشن کے نام پر کروڑوں کماتے ہیں، یہ بے حیا لوگ اپنے ہی گریجویٹس کو ہاؤس جاب میں پورا وظیفہ نہیں دیتے۔ اپنے ہی گریجویٹس کو ٹریننگ دیتے وقت ان سے اشٹام (سٹامپ) پیپر پر سائن کرواتے ہیں کہ تم نے ہم سے پورے چار سال وظیفہ/تنخواہ نہیں مانگنا، اگر مانگو گے تو فوراً ٹریننگ ختم کر دی جائے گی۔ ان substandard میڈیکل کالجز کی وجہ سے ڈاکٹرز کی پروڈکشن حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ یہی سیٹھ مالکان ریٹائرڈ پروفیسرز کو لاکھوں کے پُرکشش پے پیکج پر دوبارہ رکھ لیتے ہیں، اور یوں سرکاری ہسپتالوں کے یہ فرعون پروفیسرز ان سیٹھوں کے ڈائریکٹ نیچے کام کرتے ہیں، اور یہ حضرات اپنے ہی ینگ ڈاکٹرز کا استحصال ہوتا دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں۔ آج تک کسی پرائیویٹ کالج کے پروفیسر نے اس استحصال پر کوئی بات کی ہو؟ تو جواب نفی میں ہو گا۔

اگر یہ کالج مالکان لوگوں سے کروڑوں روپے فیسوں کی مد میں لے رہے ہیں تو ینگ ڈاکٹرز کا استحصال کیوں کرتے ہیں؟ کیوں یہ لوگ ان کو ان کا جائز حق دینے کو تیار نہیں؟ ستم یہ ہے کہ ہمارے بڑوں میں سے کوئی بھی اس پر بولنے کو تیار نہیں۔ مایوسی… بس مایوسی۔

اپنا تبصرہ لکھیں