خود جئیں اور دوسروں کو جینے دیں/ڈاکٹر محمد شافع صابر

میرے ایک دوست ہیں، ڈاکٹر ہیں، پی جی آر ہیں اور جنوبی پنجاب کے اچھے سرکاری ہسپتال میں ٹریننگ کر رہے ہیں ۔ انکی منگنی کی تصاویر میں نے انسٹاگرام پر دیکھی، اسی سال کے آخر میں انکی رخصتی ہے۔
اچانک مجھے پتا چلا کہ انکی طبعیت نہیں ٹھیک، میں نے کہا کہ کوئی نہیں ٹھیک ہو جائے گی۔ پھر سننے میں آیا کہ انہوں نے ٹرینگ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے،استعفیٰ جمع کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ انکے قریبی رشتہ داروں سے فون پر بات ہوئی، وہ کہتے بلکل ٹھیک تھا،اچانک ایسا ہو گیا۔
مجھ سمیت انکے کچھ کامن فرینڈز لاہور میں ہوتے ہیں، ہم سبھی ڈاکٹرز ہیں، ہم سب نے سوچا کیوں نا اسکی صحت کے متلعق ڈسکس کیا جائے تو ہم سبھی سر گنگارام ہسپتال میں اکھٹے ہوئے۔
ایک ڈاکٹر صاحب اٹھے اور بولے اس کی تین وجوہات ہیں ۔ پہلی انکے نکاح کے معاملات ٹھیک نہیں،دوسری انکا افئیر ہے، تیسری اسکی ہونے والی بیوی کا افیئر ہے۔ایک اور ڈاکٹر صاحب اٹھے اور کیا میں اس بات کی تائید کر سکتا ہوں۔ ایک نوجوان ڈاکٹر انزائٹی و ڈپریشن کا شکار صرف ایک عورت کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
میں اٹھا اور دونوں کو موٹی گالی دی اور کہا یار تم لوگ چ ہو کیا؟ ایسے ہی دونوں پر تہمت لگا رہے ہو۔ وہ بولے اور کوئی وجہ نہیں ہو سکتی،ہماری اس بات پر شرط لگ گئی۔ میں نے اپنے دوست کو کال کی، تفصیل سے ساری بات کی، بعد میں پتا چلا کہ اس کی ٹرینگ کے دوران اسے کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،جسکی وجہ سے وہ انزائٹی و ڈپریشن کا شکار ہوا۔ لیکن اس کی منگیتر نے اسکا بھرپور ساتھ دیا ، وہ اسے ماہر نفسیات کے پاس لیکر جاتی رہی جبکہ سائیکالوجسٹ سے کونسلنگ سیشن بھی اسی کے کہنے پر اس نے لیا، جبکہ اس کے دو دوست ججمینٹل ہو کر دونوں کے افئیرز بنا کر بیٹھے تھے۔
اس نے کہا لو اپنی بھابھی سے بات کرو اور اسے بھی ساری بات بتاؤ، میری بات سنکر وہ بیچاری ہنسی بھی اور افسرده بھی ہوئی کہ لوگ کتنی جلدی افیئر بنا کر میاں بیوی کا رشتہ کمزور کر دیتے ہیں ۔ میں نے اگلے دن اپنے دوستوں کو کال ملائی اور انکی خوب بے عزتی کی اور وہ بچارے شرم کے مارے اپنے سر نہیں اٹھا پا رہے گے ۔
صاحبو! اس دنیا میں سب سے بڑی نعمت ایک باوفا عورت کا ساتھ ہونا ہے۔ جو دکھ درد،غمی،بیماری میں آپکا ساتھ دے۔ آپ کا ہاتھ تھام کر،آپکو احساس کا تحفظ دلائے۔ آپ کے دکھ بانٹے۔ تب آپکو سنبھالے جب دنیا آپکو ریجیکٹ کر چکی ہو۔ آپ کو کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ ہو،وہ آپکی ہمنوا ہو۔ آپ کو جج نا کرے۔ وہ تب تک سکون سے نہیں بیٹھے گی، جب تک آپ اپنے پیروں پر کھڑے نا ہو جاؤ۔ میں بہت خوش ہوں کہ میرا دوست اتنا خوش قسمت ہے کہ اسے ایک بے وفا عورت کا ساتھ ملا،جو اسے مایوسی سے نکال کر دوبارہ زندگی کی طرف لے آئی ہے۔
کچھ دوست کہتے ہیں کہ لڑکی بس خوبصورت ہونی چاہیئے، میں اس سے اتفاق نہیں کرتا،لڑکی بے شک زیادہ خوبصورت نا ہو،بس ساتھ نبھانے والی ہونے چاہیے ۔ جس دن آپکو ایسی لڑکی مل گئی آپ کی زندگی جنت بن جائے گی۔ استاد محترم کہا کرتے تھے کہ عورت عشق کی معراج ہے ۔ ایک دفعہ اسے اپنے مرد سے عشق ہو گیا نا،وہ اسکی خاطر دریا میں کودنے سے بھی گریز نہیں کرے گی،تب ہم ایف ایس سی کے لونڈے تھے،ہنس کر بات سنی ان سنی کر دی تھی، آج مدتوں بعد احساس ہوتا ہے کہ استاد محترم نے کیا کمال بات کی تھی۔
ہم بحثیت قوم مجموعی لوگ کے متعلق بہت جلدی ججمینٹل ہو جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ لوگوں کی پرسنل لائف کو افئیرز کا نام دیکر انکو ڈسکس کرتے ہیں، وقتی مذاق کے لئے ہم تو لوگوں پر تہمتیں تک لگا دیتے ہیں ۔
وہ میرے دونوں دوست،جنہوں بے یہ فضول لاجک دی تھی، وہ دونوں چھڑے ہیں، جیسے ان کے حالات ہیں ان دونوں کی شادی کبھی ہونی بھی نہیں،ایسے مردوں کے متلعق،شادی کے موقع پر خواتین انہیں کہہ رہی ہوتی ہیں،جا پائی جا کر مردوں کے بیچ بیٹھو۔
تحریر : ڈاکٹر محمد شافع صابر

اپنا تبصرہ لکھیں