عجیب زمانہ آ گیا ہے۔
اب انسان کی قدر اس کے اخلاق سے نہیں، اس کی وابستگی سے کی جاتی ہے۔ اس کی نیت جاننے سے پہلے اس کی سیاسی وابستگی دیکھی جاتی ہے اور اس کے کردار کو پرکھنے سے پہلے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ وہ “اپنا” ہے یا “دوسرا”۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ قبرستانوں میں دفن لوگ مختلف جماعتوں، مختلف مسالک اور مختلف نظریات سے تعلق رکھتے تھے مگر مٹی نے سب کو ایک جیسا کر دیا۔ موت نے کسی کے ماتھے پر یہ نہیں لکھا کہ یہ فلاں پارٹی کا کارکن تھا یا فلاں عقیدے کا ماننے والا۔ مگر زندہ انسان آج بھی انہی لیبلز کے گرد دیواریں کھڑی کیے بیٹھا ہے۔
ہم ایک دوسرے کے ساتھ برسوں رہتے ہیں۔ ایک ہی گلی میں بچپن گزرتا ہے، ہم ایک ہی شہر کی ہوا میں سانس لیتے ہیں، ایک ہی موسم ہمیں سردی اور گرمی کا احساس دلاتا ہے مگر پھر اچانک کوئی سیاسی نعرہ، کوئی مذہبی اختلاف، کوئی اشتعال انگیز تقریر یا کوئی سوشل میڈیا پوسٹ ہمیں ایک دوسرے کا دشمن بنا دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
کیا واقعی انسان اتنا سستا ہو گیا ہے کہ چند نعروں، چند وڈیوز، چند تقریروں یا چند افواہوں کے ہاتھوں اپنا ضمیر بیچ دے؟
کیا ہماری عقل اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ ہم اپنے برسوں کے تعلقات کو ایک سیاسی اختلاف کی بھینٹ چڑھا دیں؟
کیا واقعی مذہب انسان کو نفرت سکھاتا ہےیا ہم نے مذہب کو اپنے غصے، انا اور تعصب کا ہتھیار بنا لیا ہے؟
المیہ یہ نہیں کہ لوگوں کے نظریات مختلف ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم اختلاف کو دشمنی سمجھنے لگے ہیں حالانکہ دنیا کی خوبصورتی ہی اختلاف میں ہے۔ اگر ہر شخص ایک جیسا سوچنے لگے تو معاشرہ قبرستان بن جائے۔ ایک باغ میں مختلف رنگوں کے پھول ہی اسے حسین بناتے ہیں۔ اگر سارے پھول ایک ہی رنگ کے ہوں تو خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح معاشرے میں مختلف سوچیں، مختلف نظریات اور مختلف عقائد انسانیت کے تنوع کی علامت ہیں۔۔۔ خطرہ نہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ہمیں برسوں سے نفرت سکھائی جا رہی ہے۔
کبھی مذہب کے نام پر۔۔۔کبھی سیاست کے نام پر۔۔۔کبھی زبان کے نام پر۔۔۔کبھی نسل کے نام پر۔
ہمیں یہ بتایا گیا کہ تم صرف اسی سے محبت کرو جو تم جیسا ہے، باقی سب خطرہ ہیں۔ یہی سوچ معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ نفرت ہمیشہ پہلے انسان کی عقل کو مارتی ہے پھر اس کے دل کو اور آخر میں پورے معاشرے کو۔
آج اگر غور کریں تو محسوس ہو گا کہ ہم سب کسی نہ کسی نفسیاتی جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہمیں تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ ہم کبھی متحد نہ ہو سکیں۔ کیونکہ جو قوم آپس میں لڑتی رہتی ہے وہ کبھی ترقی نہیں کرتی۔ اسے صرف نعروں، جذبات اور خوف کے ذریعے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے طاقتور طبقے ہمیشہ عوام کو چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم رکھتے ہیں۔ تاکہ لوگ اصل مسائل بھول جائیں۔ انہیں یہ یاد نہ رہے کہ مہنگائی، بے روزگاری، جہالت، ظلم اور ناانصافی سب کا مشترکہ مسئلہ ہیں۔
ایک غریب مزدور اگر مختلف مذہب رکھنے والے غریب مزدور سے نفرت کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے ہی جیسے انسان سے نفرت کر رہا ہے۔ ایک عام آدمی اگر دوسرے عام آدمی کو صرف اس لیے دشمن سمجھتا ہے کہ اس کا سیاسی نظریہ مختلف ہے تو وہ انجانے میں ان قوتوں کو مضبوط کر رہا ہے جو عوام کو تقسیم رکھنا چاہتی ہیں۔ کیونکہ جب عوام ایک دوسرے سے لڑتے ہیں تو طاقتور طبقے سکون سے حکومت کرتے ہیں۔
تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، دنیا کی بڑی تباہیاں ہمیشہ نفرت کے بیج سے پیدا ہوئیں۔ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں ہوتیں، جنگیں ذہنوں میں پیدا کی جاتی ہیں۔ پہلے انسان کے دل میں دوسرے انسان کے خلاف نفرت ڈالی جاتی ہے، پھر اسے یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ مخالف انسان نہیں۔۔۔ دشمن ہے اور جب انسان دوسرے انسان کو انسان سمجھنا چھوڑ دے تو پھر ظلم آسان ہو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس آگ کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اب ہر شخص ایک چھوٹا سا منبر لے کر بیٹھا ہے۔ بغیر تحقیق، بغیر سوچ، بغیر سمجھ کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف زہر بانٹ رہے ہیں۔ ایک ویڈیو، ایک پوسٹ یا ایک کلپ پورے معاشرے میں نفرت کی لہر دوڑا دیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ لوگ سچ جاننے سے زیادہ اپنے غصے کو سچ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دلیل کم اور شور زیادہ ہے۔
ہمیں سوچنا ہو گا کہ آخر ہم کہاں جا رہے ہیں؟
اگر ایک شخص صرف اس لیے برا ہے کہ اس کا عقیدہ مختلف ہے، تو پھر دنیا میں اچھا انسان بچے گا کون؟
اگر سیاسی اختلاف دشمنی بن جائے تو پھر رشتے، دوستیاں اور انسانیت کہاں جائے گی؟
اگر ہر شخص دوسرے کو مٹانا چاہے گا تو آخر بچے گا کون؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے انسان کو انسان سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے انسان کو صرف “شناختوں” میں تقسیم کر دیا ہے۔ حالانکہ انسان کی اصل پہچان اس کا کردار ہونا چاہیے، اس کا اخلاق ہونا چاہیے، اس کی انسانیت ہونی چاہیے۔ ایک اچھا انسان اگر مختلف عقیدہ رکھتا ہے تو وہ پھر بھی اچھا انسان ہے اور ایک ظالم اگر آپ کے نظریے سے اتفاق کرتا ہے تو وہ پھر بھی ظالم ہے۔
مذہب اگر انسان کو عاجزی، محبت، انصاف اور برداشت نہ سکھائے تو پھر وہ صرف رسم بن کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح سیاست اگر انسان کو شعور، انصاف اور خدمت نہ دے تو وہ صرف اقتدار کی جنگ بن جاتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے دونوں چیزوں کو انسانیت کے بجائے انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔
اختلاف جرم نہیں ہوتا۔۔۔ ہر وہ شخص جو تم جیسا نہیں سوچتا، ضروری نہیں کہ وہ تمہارا دشمن ہو۔ دنیا میں بڑے ذہن ہمیشہ برداشت والے رہے ہیں۔ تنگ نظر لوگ ہمیشہ نفرت کے قیدی بنے رہے۔ ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں سب ایک جیسا سوچتے ہوں بلکہ وہ ہے جہاں مختلف لوگ امن کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکیں۔
ذرا سوچیں، اگر ایک دن اچانک یہ تمام سیاسی پارٹیاں ختم ہو جائیں، یہ تمام نفرت انگیز نعرے خاموش ہو جائیں، تو آخر میں بچے گا کیا؟
صرف انسان۔
صرف رشتے۔
صرف محبت۔
صرف وہ یادیں جو ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ بنائی تھیں۔
سیاسی جماعتیں بدلتی رہتی ہیں، اقتدار بدلتا رہتا ہے، نعرے بدلتے رہتے ہیں۔۔۔ مگر نفرت کے زخم نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ ایک اشتعال انگیز جملہ، ایک غلط الزام، ایک نفرت بھرا رویہ کبھی کبھی برسوں کے تعلقات ختم کر دیتا ہے اور پھر انسان بڑھاپے میں بیٹھ کر سوچتا ہے کہ آخر ہم نے حاصل کیا کیا؟
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے ذہنوں کی صفائی کریں۔ اپنے اندر چھپے تعصب کو پہچانیں۔ اپنے دل سے نفرت کا بوجھ اتاریں۔ کیونکہ نفرت انسان کو طاقتور نہیں بناتی۔۔۔ اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ محبت کمزوری نہیں۔۔۔سب سے بڑی بہادری ہے۔ برداشت شکست نہیں۔۔۔شعور کی علامت ہے۔
انقلاب صرف حکومتیں بدلنے سے نہیں آتا۔۔۔ اصل انقلاب ذہن بدلنے سے آتا ہے اور جس دن عام انسان یہ سمجھ گیا کہ اسے مذہب، سیاست اور شناخت کے نام پر ایک دوسرے سے لڑایا جا رہا ہے۔۔۔ اسی دن نفرت کے سوداگر شکست کھا جائیں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو دوبارہ انسان سمجھنا شروع کریں۔
کسی کے عقیدے سے پہلے اس کے کردار کو دیکھیں۔
کسی کی پارٹی سے پہلے اس کی انسانیت کو پہچانیں۔
مٹی نہ مذہب پوچھتی ہے، نہ زبان، نہ نظریہ
آخرکار سب نے اسی مٹی میں مل جانا ہے
اور مٹی کے سینے میں نفرت نہیں ہوتی۔۔۔


