کیا بچوں کے ساتھ درپیش مسائل کی وجہ صرف والدین ہوتے ہیں؟-ندا اسحاق

سوال:

السلام علیکم ورحمتہ اللہ محترمہ ، میں نے آپ کی کئی ساری ویڈیوز دیکھی ہیں اور میں فی الحال آپ پر تنقید نہیں کر رہا لیکن میرا ایک سوال ہے کہ آپ کی بات اِنسان کے مسائل سے شروع ہوکر اُس کے والدین کی نااہلی یا کوتاہیوں پر ہی ختم کیوں ہوتی ہے ، کیا اِنسان کے مِزاج و انداز و نظریات يا اُس شناخت پر والدین کے علاوہ کسی اور شئے کا کوئی اثر نہیں پڑتا ، کیا کوئی انسان اپنے مسائل کیلئے کم از کم خود بھی. بالکل بھی ذمّہ دار نہیں ہوسکتا…؟

جواب:

وعلیکم اسلام،

امید کرتی ہوں کہ آپ خیریت سے ہونگے۔

تنقید کرنے میں کوئی برائی نہیں، کیونکہ مجھے ہر گز ایسا نہیں لگتا کہ میں عقلِ کل ہوں یا جو بھی کہتی ہوں وہ صحیح ہوتا ہے۔ ہر انسان زندگی میں نفسیاتی اعتبار سے ارتقائی منازل سے گزرتا ہے اور اسکے نظریات میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں، میں بیشک کئی بار بہت غلط بھی ہوتی ہوں۔

میں اپنی وڈیوز میں صرف والدین نہیں بلکہ جنیات (genetics)، سرمایہ دارانہ نظام، سسٹم، حکومتِ پاکستان، چور کرپٹ سیاستدان اور افسران، حتیٰ کہ ان تمام عوامل کو الزام دیتی ہوں جو باہری یا بیرونی ہیں اور ہمارے کنٹرول میں نہیں ہوتے زیادہ تر۔ البتہ ان عوامل پر بات کرنا میرا کام ہے جو ہمارے کنٹرول میں ہیں، جیسے کہ ہماری نفسیات اور ہمارے گھر کا ماحول۔ انسان کے کنٹرول میں سوائے اسکی نفسیات “ذہن“ کے اور کچھ بھی نہیں، جبکہ ماڈرن انسانوں کا تو اور بھی برا حال ہے، انکا تو ذہن بھی سرمایہ دارانہ نظام کے قابو میں چلا گیا ہے۔

اب اگر والدین کی بات کریں تو چونکہ میں نفسیات دان ہوں اور مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ کسی بچہ کی نفسیات پر مکمل نہ سہی پر البتہ کتنا گہرا اثر ہوتا ہے والدین کے مزاج، شخصیت اور سوچ کا، یہی وجہ ہے کہ میں اکثر والدین کو اس بات کا شعور دینے کی کوشش کرتی ہوں کہ انکا کردار کتنا اہم ہے بچوں کی زندگی میں۔ والدین جس نظر اور سوچ سے آپ کو دیکھتے ہیں، آپ کے ساتھ رویہ رکھتے ہیں وہی آپ کی ”شخصیت و حقیقت“ بن جاتا ہے۔

پھر آپ دنیا کے کسی بھی بہتر ملک بہتر جاب یا بہتر زندگی کو حاصل کرلیں لیکن آپ کی نفسیات میں موجود آپ کے والدین کی آوازیں انکا آپ کے متعلق تصور، آپ کے بچپن کے تجربات آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔

آپ غریب اور ایسے ملک کو چھوڑ کر جاسکتے ہیں جہاں لاقانونیت اور پسماندگی ہے، آپ سرمایہ دارانہ نظام کو بھی سمجھ کر اس کے اثر سے شاید کسی حد تک بچ جائیں، آپ سیاستدانوں اور افسران کو گالیاں دے کر دل ہلکا کرلیں……. لیکن کیا والدین کو چھوڑا جاسکتا ہے؟ کیا آپ ٹاکسک ماں باپ کو پاکستان کی طرح چھوڑ جاسکتے ہیں؟؟ ہرگز نہیں، یہ ایسا بانڈ ایسا کنکشن ہے جو ساتھ سمندر پار جانے پر بھی آپ کے ساتھ نفسیات، جنیات، سوچ، عادات، احساسات، شخصیت کی صورت میں موجود ہوگا، اور اسے ہم استبطان (internalisation) کہتے ہیں۔

یوں سوچیں کہ خدا خود زمین پر نہیں آسکتا تھا تو اس نے ماں باپ کو بنایا، اور پھر اس لحاظ سے انہیں طاقت اور عہدہ بھی دیا۔ لیکن افسوس کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ طاقت اور عہدے کا غلط استعمال اور اسکا استحصال کرتے ہیں۔ یا پھر زیادہ تر والدین لاشعوری طور پر پرورش کے انہی طریقوں پر عمل پیرا ہورہے ہوتے ہیں جو انہوں نے اپنے والدین سے حاصل کیں، جیسے دولت نسل در نسل منتقل ہوتی ہے ویسے ہی ہمارے آباء و اجداد کی عادات اور پرورش کے طریقے (یا پھر ٹروما) بھی منتقل ہوتے رہتے ہیں۔

والدین بننا بہت آسان ہوتا ہے، البتہ ”ماں باپ “ بننا نہیں، اس کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔

آپ کا سوال ایک ایسے وقت پر آیا، جب میں ایک ناول پڑھ رہی ہوں ”دا سائیلینٹ پیشنٹ“، جو کہ ایک سائیکالوجیکل تھریلر ناول ہے، اور آپ کے سوال سے منسلک ایک پیراگراف میری نظر سے گزرا، ایسے واقعات کو سائیکاٹرسٹ کارل ینگ “ہم آہنگی” (synchronicity) کہتے ہیں۔ تصویر میں پیراگراف کو میں نے ہائی لائٹ کیا ہے، اسے لازمی پڑھیے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں