جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988 کو اپنی ہی منتخب کردہ اسمبلی کو 58 (2) (بی) کی مدد سے تحلیل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اسی سال نومبر میں ایک مرتبہ پھر غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا انعقاد ہوگا، مگر وہ اس پر عمل نہیں کروا سکے کیوں کہ 17 اگست کو وہ طیارہ حادثے میں ہلاک ہوگئے۔اور پاکستان کو کالی عفریت سے نجات مل گئ۔ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں اس بار بھی ایک اتحاد موجود تھا جسے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے نام سے جانا جاتا ہے۔16 نومبر کو ہونے والے قومی اسمبلی کے انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی 207 نشستوں میں سے 94 پر کامیابی حاصل کرکے ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی جبکہ آئی جے آئی نے 56 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ نتیجتاً بے نظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن گئیں۔بدقسمتی سے بے نظیر بھٹو کی حکومت زیادہ عرصے نہیں چل سکی کیونکہ اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان نے آٹھویں ترمیم کے تحت صدر کو ملنے والی 58 (2) (بی) کی طاقت کی مدد سے اگست 1990 میں ان کی حکومت کو ختم کردیا۔ لیکن اس 21 مہینوں میں بے شمار رکاوٹوں کے ملک کی ترقی جاری رکھی -صرف بجلی کی پیداوار کو دیکھ لیں۔
1988 میں ٹوٹل بجلی کی پیداوار 5549 میگاواٹ۔ جس میں سے 2897 میگاواٹ ہائیڈرل اور 2652 میگاواٹ تھرمل
1989 میں ٹوٹل بجلی کی پیداوار 5549 میگاواٹ۔ جس میں سے 2897 میگاواٹ ہائیڈرل اور 2652 میگاواٹ تھرمل
1990 میں ٹوٹل بجلی کی پیداوار 6409 میگاواٹ۔ جس میں سے 2897 میگاواٹ ہائیڈرل اور 3512 میگاواٹ تھرمل
اس بدترین دور میں بھی پیپلزپارٹی کی حکومت نے 1060 میگاواٹ بجلی پیدا کی۔
نواز شریف کی حکومت میں بجلی کی پیداوار جس کی حکومت کو ہر طرح کا فری ہینڈ ملا تھا -اس دور کے اعدادوشمار کو دیکھتے ہیں-
1991 میں ٹوٹل بجلی کی پیداوار 7053 میگاواٹ۔ جس میں سے 2897 میگاواٹ ہائیڈرل اور 4156 میگاواٹ تھرمل
1992 میں ٹوٹل بجلی کی پیداوار 7453 میگاواٹ۔ جس میں سے 3329 میگاواٹ ہائیڈرل اور 4164 میگاواٹ تھرمل
نواز شریف کی 2 سال کی حکومت میں 440 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہوئی جو پیپلز پارٹی کی حکومت کے 1063 میگاواٹ کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم –
6 اکتوبر 1993 میں منعقد ہوئے جس میں پاکستان پیپلزپارٹی نے دوبارہ حکومت بنائی۔ جس میں پیپلز کی حکومت نے وزیر اعطم بے نظیر بھٹو کی قیادت پہلی پاور پالیسی بنائی جس کو 1993-1994 پاور پالیسی کا نام دیا گیا ۔ اس میں آئی پی پی IPP (INDEPENDENT POWER PROJECTS) کے نام سے پرائیویٹ سرمایہ کاروں کو بجلی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی گئی –
امریکی سکریٹری انرجی ہیزل اولیری Hazel O’Leary نے دنیا میں توانائی کی پالیسی میں پاکستان کی پاور پالیسی 1994 کو بہترین قرار دیا -دوسرے ممالک جیسے ہندوستان ، بنگلہ دیش نے پاکستان کی پاور پالیسی 1994 کو کاپی کیا
شہید بینظیر بھٹو نے مستقبل کی توانائی ضروریات کو سمجھتے ہوئے 1994 میں پاور پالیسی بنائی جس کے تحت The Private Power and Infrastructure Board (PPIB) بنایا گیا۔ اس بورڈ نے 26,000 MW بجلی منصوبوں کیلئے دنیا بھر سے سرمایہ کار بلائے۔ $20 بلین ڈالرز کی پاور انویسٹمنٹ کے اگریمنٹ ہو گئے۔اسٹیبلشمنٹ میڈیا عدلیہ اور نواز لیگ یہ کہتے میدان میں آگئے کہ ہمیں اتنی بجلی کی ضرورت نہیں، شہید بینظیر بھٹو نے تب کہا تھا میری مخالفت میں ملک سے دشمنی نہ کرو زائد بجلی ہم بھارت، ایران افغانستان کو بیچ دیں گے لیکن بینظیر بھٹو شہید کے گھٹیا مخالفوں نے عدالتوں کو استعمال کیا، غیر ملکی سرمایہ کاروں کیخلاف مقدمے بنائے، انھیں ہراساں کر کے پاکستان سے بھگا دیا۔خوش قسمتی سے نواز لیگ کی ان سازشوں کے دوران ہی پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں حب کے مقام پر جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا پاور پراجیکٹ Hub Power Company Limited حبکو کو کسی نہ کسی طرح مکمل کروا لیا 1320 میگاواٹ MW کا یہ پلانٹ پاکستان کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نکالنے میں اہم جز تھا – کسی حد تک پاکستان کو روشن رکھے ہوئے ہے جو پیپلز پارٹی کا اس ملک اور اس قوم پر احسان ہے۔پاور پالیسی 1994 کی کامیابی کا بنیادی جزو
نجی پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کی تشکیل تھی
(پی پی آئی بی) بطور ‘ون ونڈو’ سہولت کار-متحرک اور سرمایہ کار دوست کے تحت
ے نظیر بھٹو کی حکومت نے 1994 میں 24000 میگاواٹ بجلی کے منصوبے منظور کیئے تھے لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 1997 میں17000میگاواٹ کے منصوبے منسوخ کر دیئے جسکی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا عذاب 10 سال بعد دوبارہ آگیا۔ 1999-2000 میں اس پالیسی کی بدولت ہم انڈیا کو بجلی ایکسپورٹ کرنے کی پوزشین میں تھے۔1994 کی پاور پالیسی کے تحت 16 کمپنیوں نے 50 ارب 80 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔


