گور پیا کوئی ہور/علی عباس کاظمی

بعض لوگ مرنے کے بعد بھی نہیں مرتے۔
وہ اپنے جملوں، اپنی عادتوں، اپنی خوشبو، اپنے اندازِ گفتگو اور اپنے چھوٹے چھوٹے معمولات میں زندہ رہتے ہیں۔ وقت ان کے جسم کو تو مٹی میں بدل دیتا ہے مگر ان کی موجودگی انسان کے اندر کسی خاموش چراغ کی طرح جلتی رہتی ہے۔ میرے والد، سلیم شاہ سیّد بھی میرے لیے ایسے ہی انسان تھے۔ 2008ء میں اُن کا انتقال ہوا مگر آج اٹھارہ برس گزرنے کے باوجود میں جب کبھی شام کے دھندلکے میں حجرہ میں بیٹھ کر پرانی ڈائریاں کھولتا ہوں، اُن کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریریں پڑھتا ہوں یاجب کبھی بی بی سی اردو کی خبروں کا وہ پرانا مخصوص میوزک سنتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ابھی دروازہ کھول کر اندر آئیں گے اور اپنی دھیمی آواز میں کہیں گے:
باشی! وقت ضائع نہ کرو، کچھ پڑھو۔
میرے والد 1940ء میں روپوال گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ہمارے خاندان میں تدریس صرف پیشہ نہیں تھی، تہذیب تھی۔ دادا پردادا سے یہ سلسلہ چلا آ رہا تھا۔ والد صاحب نے بھی 1958ء میں شعبۂ تدریس سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور 1988ء تک چکوال شہر میں پڑھاتے رہے۔ ان کے سینکڑوں شاگرد آج بھی مختلف شہروں میں موجود ہیں۔ جب کبھی چکوال ساتھ جانا ہوتا تو بازار میں کوئی نہ کوئی شخص اچانک احترام سے رک جاتا، ہاتھ باندھ لیتا اور کہتا:
شاہ جی! آپ نے پانچویں جماعت میں پڑھایا تھا۔
یہ جملہ سنتے ہوئے میرے والد کے چہرے پر ایک عجیب سی نرم مسکراہٹ آ جاتی تھی۔ وہ فخر نہیں کرتے تھے، مگر اُن کی آنکھوں میں ایک خاموش اطمینان تیرنے لگتا تھا۔ شاید ایک استاد کی اصل کمائی یہی ہوتی ہے کہ برسوں بعد بھی اس کے شاگرد اسے عزت سے یاد رکھیں۔
وہ نرم گفتار، علم دوست اور روشن خیال انسان تھے۔پاکستان کے بلند پایہ مفکر، فلسفی اور تحریک خرد افروزی کے بانی قبلہ سیّد علی عباس جلال پوری سے کتابوں، فلسفے، مذہب، تاریخ اور سماج پر اکثر گفتگو ہوتی۔والد صاحب نے قبلہ سیّد علی عباس جلال پوری کی محبت میں میرا نام “علی عباس” رکھا۔ وہ اکثر مجھ سے کہتے:
“یہ نام شاہ جی کی محبت میں رکھا ہے، اسے مذہبی یا مسلکی نسبت نہ سمجھنا۔”
میں اُس وقت بچہ تھا، مگر اب سمجھتا ہوں کہ وہ ناموں سے زیادہ شعور کی اہمیت پر یقین رکھتے تھے۔ اُن کی پوری زندگی انسان دوستی، رواداری اور فکر کی آزادی کا استعارہ تھی۔ چکوال کے ادبی اور فکری حلقوں میں اُن کی بڑی دھاک تھی۔ پروفیسر چوہدری لیاقت صوفی، سیّد پرویز حیدر شاہ جی، احسان الٰہی احسان اور محمود فیض سمیت بہت سے لوگ اُن کے قریبی دوستوں میں شامل تھے۔ یہ لوگ جب اکٹھے ہوتے تو محفل صرف گفتگو نہیں رہتی تھی، ایک عہد بولنے لگتا تھا۔
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جس دن میں نے اپنے والد کو آخری بار سنا تھا۔میں بسلسلہ روزگار دبئی میں تھا۔ عصر کے وقت فون کیا کہ خیریت معلوم کر لوں۔ تقریباً آدھا گھنٹہ بات ہوئی۔ وہ بالکل نارمل انداز میں بات کرتے رہے۔ کبھی دبئی میں کام اور گاؤں کے حالات، کبھی موسم، کبھی کسی کتاب کا ذکر۔ ایک لمحے کے لیے بھی محسوس نہ ہوا کہ یہ ہماری آخری گفتگو ہے۔ اُن کی آواز میں کہیں موت کی پرچھائیں نہیں تھی۔
پھر تقریباً آدھے گھنٹے بعد چاچا سیّد ریاض حسین انوار کی کال آئی۔انہوں نے صرف اتنا کہا:
“علی عباس۔۔۔ سلیم شاہ فوت ہو گئے ہیں۔”
میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ اُس لمحے میرے اندر کیا ٹوٹا تھا۔ انسان بعض خبریں سنتا نہیں، ان کے نیچے دب جاتا ہے۔ میں مسلسل یہی سوچتا رہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ ابھی تو بات ہوئی تھی۔ ابھی تو وہ ہنس رہے تھے۔ ابھی تو انہوں نے کال کے دوران زُلفی شرال کو کہا تھا کہ “چاچا نثار کی دکان سےکیک رس لے آؤ کہ کل صبح تم نے ناشتہ میرے ساتھ کرناہے۔”
اگلے دن جب میں پاکستان پہنچا اور روپوال میں جنازے کے لیے گھر آیا تو یوں لگا جیسے پورا گاؤں سوگوار ہو۔ پروفیسر چوہدری لیاقت صاحب خاموش کھڑے تھے، سیّد پرویز حیدر شاہ جی کی آنکھیں نم تھیں، محمود فیض سر جھکائے ہوئے تھے۔ اُس دن میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے جانے سے صرف گھر نہیں، پورا ماحول ویران ہو جاتا ہے۔
آج پلٹ کر دیکھتا ہوں تو دل ایک اور اداسی سے بھر جاتا ہے۔
پروفیسرچوہدری لیاقت صاحب، پرویز حیدر شاہ جی، محمود فیض… سب راہیِ ملکِ عدم ہو چکے ہیں۔
یوں لگتا ہے جیسے ایک پوری محفل اُٹھ گئی ہو اور میں اُس خالی حجرہ میں اکیلا رہ گیا ہوں جہاں اب بھی اُن لوگوں کی آوازوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
وقت عجیب چیز ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وقت ہر زخم بھر دیتا ہے۔ مگر بعض غم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ اور گہرے ہو جاتے ہیں۔ والد کی جدائی بھی شاید ایسا ہی دکھ ہے۔ پہلے انسان روتا ہے، پھر خاموش ہو جاتا ہے، پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ معمول کے مطابق جینے لگتا ہے۔۔۔ مگر اچانک کسی پرانی کتاب سے گری ہوئی رسید، کسی خط کی خوشبو یا کسی گیت کی دھن اسے برسوں پیچھے لے جاتی ہے۔
میرے والدصاحب ہر بات نوٹ بک پر لکھتے تھے۔گھر کی تعمیر کا خرچ، ہماری “تقریبِ جھنڈ” کی تفصیل، رشتے داروں کے ہاں آنے جانے کا حساب، روزنامچہ۔۔۔سب کچھ۔ اُن کی ایک کاپی تھی جس پر لکھا تھا:
“سماجی تاوان”
ایک دن میں نے پوچھا:“شاہ جی! یہ سماجی تاوان کیا ہے؟”
وہ ہنسے اور بولے:
اس معاشرے میں رہنا ہے تو یہ تاوان بھرنا پڑتا ہے۔ آج فلاں کی شادی ہے، کل فلاں کا عقیقہ، پرسوں کسی کی فوتگی… یہ” بھاجی” اور لین دین دراصل معاشرتی ٹیکس ہے۔
پھر ذرا توقف کے بعد کہا:
لیکن یاد رکھنا، دوست کم رکھو مگر مخلص رکھو۔
اُن کی یہ بات اُس وقت محض نصیحت لگی تھی۔ آج زندگی کے اتار چڑھاؤ دیکھ کر سمجھ آتا ہے کہ وہ کتنی بڑی سچائی تھی۔ کبھی کبھی خوشگوار موڈ میں کہتے:
“زمانہ سب توں وڈا استاد اے، وقت نال نال بندے نوں تَتے ٹھَڈے دی سمجھ آ جاندی اے۔”
اور واقعی۔۔۔ وقت نے بہت کچھ سکھا دیا۔
ان کو بلراج ساہنی، گلزار صاحب اور ستیہ جیت رے کی فلمیں اور کلاسیکل موسیقی سے خاص شغف تھا۔ لتا منگیشکر کی غزلیں انہیں بے حد پسند تھیں، مگر شرط یہ تھی کہ آواز دھیمی ہو۔ اونچی آواز میں موسیقی سننا اُنہیں سخت ناپسند تھا۔ کہتے تھے:
اگر مجھے کوئی گیت پسند ہے تو میں خود سننا چاہتا ہوں، دوسروں پر کیوں مسلط کروں؟
رات کے وقت بی بی سی اردو کی خبریں سننے کا ایک باقاعدہ معمول تھا۔سیربین کا وہ مخصوص میوزک بجتا، پھر چند لمحے خاموشی رہتی اور والد صاحب فیصلہ کرتے کہ آگے خبریں سننی ہیں یا نہیں۔ اگر کوئی اہم عالمی واقعہ ہوتا تو پوری توجہ سے سنتے، ورنہ ریڈیو بند کر دیتےاورحجرہ میں بیٹھےحالاتِ حاضرہ کے بارے فکرمند ہمسایہ چاچا فضل خان کو کہتے کہ ” لالا ۔۔۔ وَت اللہ دے حوالے، جےخیر ہوئی تے کوئی امریکہ توں خیری دی خبر آئی تے سویلے میں تُساں نو دَس دیساں ،نئیں تے راضی بازی رہووے”۔چاچا فضل خان بھی اپنی لالٹین اٹھا کر گھر کیلئے اٹھتے اور کہتے جاتے کہ”لالا جی میں ھاڈ رکھساں پر اِنہاں (خبریں) سچی گل دَسنی جے کوئی نئیں”۔
ہمارے گاؤں روپوال میں اُس زمانے میں بجلی نہیں تھی۔ غالباً 1994ء کے آس پاس بجلی آئی۔ اُس سے پہلے ویسٹ جرمنی کی بنی ہوئی ایک لالٹین تھی، جس کی زرد روشنی میں والد صاحب رات گئے تک مطالعہ کرتے۔اکثر آدھی رات کو بھی دیکھتے تو وہ کتاب کے ساتھ جھکے بیٹھے ہوتے۔ صبح سویرے پھر جاگ جاتے۔
کہتے تھے:صبح کا پڑھا ہوا ہمیشہ یاد رہتا ہے، کیونکہ اُس وقت دماغ تازہ ہوتا ہے۔
اور واقعی، اُن کے حافظے کی مثال دی جاتی تھی۔ مگر صرف پڑھتے نہیں تھے، نوٹس بھی بناتے تھے۔ ہر کتاب کے ساتھ ایک رجسٹر رکھا ہوتا۔ کوئی حوالہ، کوئی اقتباس، کوئی خیال… فوراً نوٹ کر لیتے۔ آج بھی اُن کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریریں دیکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ میرے سامنے بیٹھے گفتگو کر رہے ہوں۔
میرے پاس اُن کے لکھے ہوئے خطوط اب بھی محفوظ ہیں۔میرے دبئی میں قیام کے دوران وہ باقاعدگی سے خط لکھتے تھے۔ اُن خطوط میں باپ کی محبت تھی، دوست کی شفقت تھی اور ایک استاد کی دانائی بھی۔
ایک جگہ لکھتے ہیں:
آدمی کو ہمیشہ اپنے اندر ایک چھوٹا سا چراغ جلائے رکھنا چاہیے، ورنہ دنیا کا اندھیرا اُسے نگل لیتا ہے۔
کبھی کبھی اُن کی یاد آتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ایک پورا عہد مجھ سے بچھڑ گیا ہو۔
ایک ایسا عہد جس میں گفتگو مہذب تھی، اختلاف شائستہ تھا اور علم کو دولت سے زیادہ عزت دی جاتی تھی۔
فراقِ پدر ایک ایسا دکھ ہے جسے بیان کرنا ممکن نہیں۔
کبھی کبھی خواب میں وہ نظر آتے ہیں۔ وہی سفید کپڑے، وہی دھیمی آواز، وہی مخصوص مسکراہٹ۔ میں خواب میں اُن سے لپٹ کر رونا چاہتا ہوں مگر آنکھ کھل جاتی ہے۔ پھر لمبی دیر تک نیند نہیں آتی۔
موت شاید اختتام نہیں ہوتی۔۔۔
کم از کم محبت کرنے والوں کے لیے تو نہیں۔
میرے لیے میرے والد آج بھی زندہ ہیں۔ کبھی کسی جملے میں، کبھی کسی عادت میں، کبھی کبھی بات کرتے ہوئےاچانک محسوس ہوتا ہے کہ میرے لہجے میں اُن کا لہجہ شامل ہو گیا ہے۔
اور شاید یہی زندگی کا سب سے بڑا تسلسل ہے۔
انسان مر جاتا ہے مگر اُس کی تہذیب، اُس کی تربیت، اُس کی محبت آنے والی نسلوں میں سفر کرتی رہتی ہے۔
آج جب میں اپنی زندگی کے تھکے ہوئے لمحوں میں بیٹھ کر ماضی کو دیکھتا ہوں تو ایک بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ باپ دراصل گھر کی چھت نہیں۔۔۔پورا آسمان ہوتا ہے۔ جب وہ چلا جائے تو انسان عمر بھر کسی نہ کسی سایے کی تلاش میں رہتا ہے۔
شاہ جی۔۔۔
آپ کو گئے ہوئے برسوں بیت گئے، مگر آپ کی آواز آج بھی میرے اندر گونجتی ہے۔ آپ کی ڈائریوں کے اوراق اب بھی سانس لیتے ہیں۔ آپ کے نوٹس، آپ کے خط، آپ کی لالٹین، آپ کی کتابیں… سب میرے لیے مقدس یادگاریں ہیں۔
اور میں جانتا ہوں کہ کسی نہ کسی صبح، کسی نہ کسی اجلی ساعت میں، جب یہ دنیا خواب کی طرح ختم ہو جائے گی، تو شاید ایک بار پھر آپ سے ملاقات ہو گی۔
آپ حسبِ عادت مسکراتے ہوئےکتاب بند کریں گے اور عینک نیچے کر کےکہیں گے:
باشی!
دیکھا۔۔۔ میں نے کہا تھا نا۔۔۔ وقت سب کچھ سکھا دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں