بڑے آدمی اور چھوٹے مرنے والے/محمد عامر حسینی

ایک نوٹ: یہ تحریر، وہ لاش اور یہ خاموشی

یہ کالم میں نے ڈاکٹر رشید حسن خان کی پہلی برسی پر لکھا تھا۔ اس شخص کی برسی پر، جو اپنی دنیا میں مگن تھا اور جس نے اپنی روح کا سودا نہیں کیا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ چلو، آج کچھ سچ بولا جائے، کچھ لکھ کر قرض ادا کیا جائے۔
لیکن کالم لکھ کر فارغ ہوا ہی تھا کہ خبر آئی—میرا ایک دوست، جسے پولیس نے ‘حراست’ میں تشدد کر کے مار ڈالا ہے۔
اب آپ ہی بتائیے، جس معاشرے میں تھانے کے اندر سانسیں گھٹائی جا رہی ہوں، وہاں کسی دانشور کی برسی پر لکھے گئے الفاظ کس کام کے؟ میں اس لاش، اس تھانے کے اندھیروں اور اس نظامِ جبر کے ماتم میں ایسا ڈوبا کہ یہ تحریر اخبار تک پہنچانے کا خیال ہی مر گیا۔ وقت کی دھول اور روزمرہ کے ڈھیروں ‘حادثات’ نے اسے میرے کمپیوٹر کے کسی تاریک فولڈر میں دفن کر دیا۔
آج پرانا فولڈر کھولا تو یہ ورق سامنے آ گیا۔ سوچا، اب اسے دفن رہنے دوں یا اپنے فیس بک کے دوستوں کو دکھاؤں؟ شاید اس لیے کہ مرنے والے تو مر گئے، مگر وہ سوالات اور وہ زخم، جو ان کی موت نے دیے تھے، آج بھی اسی معاشرے کی فضاؤں میں زندہ ہیں۔ لیجیے، پیشِ خدمت ہے۔
عامر حسینی

مرنے والے مرتے رہتے ہیں، دنیا چلتی رہتی ہے۔ اخباروں کے کالم نویسوں کے لیے تو موت ایک نعمت ہے؛ جب کچھ نہ ملے تو کسی مرحوم کی ہڈیوں پر اپنا قلم گھس کر، چند آنسو ٹپکا کر کالم کا کوٹہ پورا کر لیا جاتا ہے۔ آج کل اخباروں میں ’’عظیم انسانوں‘‘ کی ایسی بھیڑ لگی ہے کہ کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ اپنے کوٹ کی جیب میں ایک آدھ ’’عظیم انسان‘‘ ڈال کر گھر لے جاؤں، تاکہ کبھی ضرورت پڑے تو اسے نکال کر دکھا سکوں کہ بھائی! ہمارے ہاں بھی ایسے نمونے پائے جاتے ہیں۔

لیکن اس بار معاملہ ذرا مختلف ہے۔ اپریل 2016ء کی بات ہے، جب ڈاکٹر رشید حسن خان ہمیں چھوڑ کر راہیِ عدم ہوئے۔ ان کے بارے میں پڑھا تو خیال آیا کہ یہ بھی کیسے احمق انسان تھے! جیل کاٹی، آمریتوں کی جوتیاں کھائیں، طلبہ کی سیاست میں طوطی بولا، اور جب وقت آیا کہ کسی سیاسی جماعت کے تھانیدار بنتے، اسمبلی کی سیڑھیوں پر چڑھ کر قوم کی تقدیر بدلنے کے نام پر اپنی تقدیر سنوارتے، تو یہ صاحب ’’لو پروفائل‘‘ ہو گئے۔ مطلب، سیاست کے میدان سے بھاگ کر کلینک کھول لیا اور غریبوں کا علاج شروع کر دیا۔ کیا یہ پاگل پن نہیں تھا؟

آج کے ’’عظیم انسانوں‘‘ کو دیکھو تو پیٹ میں بل پڑ جاتے ہیں۔ ایک صاحب ہیں، جو کل تک کسی کے بوٹ پالش کر رہے تھے، آج ملک کے سب سے بڑے ’’نظریاتی‘‘ ٹھیکیدار ہیں۔ دوسرے صاحب ہیں، جنہوں نے قوم کا پیسہ اتنا کھایا ہے کہ اب ان کا پیٹ نہیں، خزانچی کا رجسٹر نظر آتا ہے۔ یہ ہیں آج کے عظیم انسان! ان کے لیے تو یہ کالم، یہ اخبار، سب کچھ حاضر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ سب کیوں نہیں کیا؟ شاید ان میں وہ ’’عظیم‘‘ ہونے والی مادہ پرستی نہیں تھی۔

ڈاکٹر رشید حسن خان کے بارے میں لکھا گیا کہ وہ اپنی ’’پراسرار‘‘ شخصیت کے مالک تھے۔ ارے صاحب، سچائی تو ہمیشہ سے پراسرار رہی ہے۔ اس ملک میں جو ایماندار ہو، وہ تو پراسرار ہی لگے گا! جس نے کرسی نہیں لی، جس نے کوٹھی نہیں بنائی، جس نے اپنے نظریے کو نیلام نہیں کیا، وہ تو پاگل ہے، وہ تو مجنون ہے، وہ تو پراسرار ہے۔

ہمیں آج کے وہ سیاست دان اچھے لگتے ہیں جو صبح ایک پارٹی میں ہوتے ہیں اور شام کو دوسری کے جلسے میں نعرے لگا رہے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب تو اپنی دھن کے پکے تھے۔ وہ تو خواجہ فریدؒ کی کافی کے ان مصرعوں کی طرح تھے جن کا ذکر کیا گیا کہ وہ ’’دریا نوش‘‘ بھی تھے اور خاموش بھی۔ اب بھلا اس دور میں خاموش رہنے کا کیا فائدہ؟ یہاں تو آپ گالی دیں، چیخیں، ٹی وی اسٹوڈیوز میں ایک دوسرے کا گریبان پھاڑیں، تب جا کر آپ کو ’’عظیم‘‘ مانا جاتا ہے۔

مجھے تو ہنسی آتی ہے ان لوگوں پر جو اب رو رہے ہیں کہ کاش رشید حسن خان سیاست میں ہوتے تو ملک کا دھارا بدل جاتا۔ ارے بھائی! اس ملک کا دھارا تو پیسوں سے بدلتا ہے، نظریات سے تو صرف جوتے پڑتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ٹھیک کیا جو سائیڈ پر ہو گئے۔ ورنہ آج وہ بھی کسی سیاسی جماعت کے ترجمان بنے بیٹھے ہوتے اور کسی ٹی وی ٹاک شو میں بیٹھ کر جھوٹ بولتے ہوئے ان کا چہرہ بھی ان دیگر ’’عظیم انسانوں‘‘ کی طرح سرخ اور متورم ہوتا۔

ڈاکٹر صاحب 2016ء میں چلے گئے، اب ہم سکون سے سو سکتے ہیں۔ ہمیں اب اس بات کا ڈر نہیں ہوگا کہ کوئی ایسا شخص موجود ہے جس کی آنکھوں میں دیکھ کر ہم اپنی بے ایمانی کا اندازہ لگا سکیں۔ وہ مر گئے، اچھا ہوا، اب وہ ہمیں شرمندہ نہیں کریں گے۔ اب تو میدان صاف ہے! اب تو صرف وہ ’’عظیم انسان‘‘ بچیں گے جن کی جیبیں بھاری ہیں اور ضمیر خالی۔

اللہ مغفرت کرے ڈاکٹر صاحب کی، انہوں نے مر کر بھی ایک ایسا سوال چھوڑ دیا ہے جس کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ہمیں جواب چاہیے بھی نہیں، ہمیں تو بس اپنی کرسی، اپنا عہدہ اور اپنا حصہ چاہیے۔

ڈاکٹر صاحب، آپ تو سچے تھے، لیکن سچ اس ملک میں بہت مہنگا بکتا ہے، آپ شاید خرید نہیں سکتے تھے!

اپنا تبصرہ لکھیں