بیداری /علی عبداللہ

انسان خوابوں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
خواب اُس کے وجود کی وہ پوشیدہ آگ ہیں جن سے ارادے روشنی لیتے ہیں۔ ہر تہذیب، ہر انقلاب، ہر دریافت اور ہر محبت کی ابتدا کسی نہ کسی خواب سے ہوئی۔ انسان نے پہلے اپنے ذہن میں ایک بہتر دنیا کا تصور پیدا کیا، پھر زمین پر شہر بسائے۔ اُس نے پہلے اپنے اندر پرواز کا خواب دیکھا، پھر آسمانوں تک جا پہنچا۔ خواب نہ ہوتے تو آدمی محض وقت کے دھارے میں بہتا ہوا ایک بے نام ذرّہ رہ جاتا۔

لیکن خوابوں کا ایک خاموش اور خطرناک پہلو بھی ہے۔ وہ انسان کو اتنی لطیف نرمی سے اپنی آغوش میں لیتے ہیں کہ اُسے بیداری کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی۔ آدمی خواب دیکھتے دیکھتے ایک ایسی داخلی دنیا کا قیدی بن جاتا ہے جہاں ہر چیز مکمل، خوبصورت اور ممکن دکھائی دیتی ہے۔ وہاں شکست کا کوئی شور نہیں ہوتا، حقیقت کی کوئی گرد نہیں اڑتی، اور نہ ہی وقت کی بے رحم دھوپ انسان کو چھوتی ہے- شاید اسی لیے خواب دیکھنے والے کو اگر چونکایا نہ جائے تو وہ سحر کبھی نہ دیکھ پائے۔

زندگی کے بڑے المیے ہمیشہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوئے جو خواب اور حقیقت کے درمیان فرق کھو بیٹھے۔ تاریخ میں کتنی ہی قومیں اپنے ماضی کے خوابوں میں اتنی گم رہیں کہ حال اُن کے ہاتھ سے پھسل گیا۔ اندلس صرف تلوار سے نہیں ہارا تھا، وہ پہلے خوابوں کی نرمی سے ہارا تھا۔ جب قومیں اپنی عظمت کے تصور میں زیادہ دیر تک سوئی رہیں تو وقت اُن کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہو گیا۔ قرطبہ کی روشن راتیں، علم کی محفلیں، فلسفے کی بحثیں، سب موجود تھیں، مگر شاید بیداری کی وہ بے چینی باقی نہ رہی تھی جو قوموں کو زندہ رکھتی ہے۔

انسان کی روح بھی کچھ قوموں جیسی ہوتی ہے۔
وہ بھی آسائش کے خوابوں میں سو جاتی ہے۔ پھر ایک دن کوئی حادثہ، کوئی جدائی، کوئی ناکامی یا کوئی سوال اُسے اچانک جھنجھوڑ دیتا ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ انسان اکثر اپنی اصل ذات سے پہلی بار ٹوٹنے کے بعد ہی ملتا ہے۔ شاید اسی لیے صوفیا نے دکھ کو محض مصیبت نہیں سمجھا، بیداری سمجھا۔
شاید رومی نے کہا تھا، “زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی داخل ہوتی ہے۔” یہ بات صرف روحانیت تک محدود نہیں، بلکہ پوری انسانی نفسیات کی تشریح ہے۔

انسان جب تک مکمل سکون میں رہتا ہے، وہ اپنے خوابوں کے نرم بستر سے باہر نہیں نکلتا۔ اُسے لگتا ہے کہ وہ جاگ رہا ہے، حالانکہ وہ محض ایک خوبصورت غفلت میں ہوتا ہے۔ پھر زندگی اُسے چونکاتی ہے۔ کبھی کسی بچھڑنے والے کے ذریعے، کبھی محرومی کے ذریعے، کبھی اُس خاموش احساس کے ذریعے کہ “جو میں سوچتا تھا، دنیا ویسی نہیں۔” اور یہی چونکنا دراصل بیداری کا پہلا لمحہ ہوتا ہے۔

قدیم روایت ہے کہ ایک نوجوان ہر رات سمندر کنارے بیٹھ کر افق کو تکتا رہتا تھا۔ اُسے یقین تھا کہ ایک دن دیوتا اُتریں گے اور اُسے عظمت عطا کریں گے۔ برسوں وہ خواب دیکھتا رہا۔ پھر ایک طوفان آیا اور اُس کی کشتی، اُس کا گھر، اُس کے سارے یقین بہا لے گیا۔ اگلی صبح اُس نے پہلی بار اپنے ہاتھوں سے راستہ بنانا شروع کیا۔ بعد میں اُس نے لکھا، “میں برسوں خواب دیکھتا رہا، مگر مجھے جگایا کس نے۔۔۔ طوفان نے۔۔۔” انسانی زندگی میں بھی بعض حادثے طوفان کی طرح آتے ہیں۔ ہم اُنہیں بدقسمتی سمجھتے ہیں، حالانکہ کبھی کبھی وہی ہمیں خواب کی قید سے آزاد کرتے ہیں۔ اگر زندگی انسان کو کبھی نہ چونکائے تو شاید وہ اپنے ہی تصور کی دنیا میں عمر گزار دے۔ وہ سوچتا رہے کہ وہ سفر میں ہے، حالانکہ وہ ایک ہی جگہ کھڑا ہو۔

سقراط نے انسان کو سب سے پہلے سوال کرنا سکھایا، کیونکہ سوال دراصل روح کو چونکانے کا عمل ہے۔ جو انسان کبھی اپنے یقین پر شک نہیں کرتا، وہ کبھی نئی حقیقت تک نہیں پہنچتا۔ شاید اسی لیے بڑے مفکر ہمیشہ اپنے زمانے کے لیے بے چینی کا سبب بنے۔ وہ لوگوں کے خواب توڑتے تھے تاکہ اُنہیں حقیقت کی طرف واپس لا سکیں۔ انبیا، درویش، اہلِ دل، یہ سب انسان کو خواب سے جگاتے ہی تو تھے۔ اُنہوں نے صرف تسلی نہیں دی، اضطراب بھی دیا۔ اُنہوں نے انسان سے کہا کہ وہ اپنے وجود، اپنے اعمال، اپنے مقصد اور اپنے وقت کے بارے میں سوال کرے۔ کیونکہ جو روح سوال کرنا چھوڑ دے، وہ خواب دیکھ تو سکتی ہے، جاگ نہیں سکتی۔

زندگی کا سب سے خطرناک لمحہ وہ نہیں جب انسان ٹوٹتا ہے، بلکہ وہ ہے جب وہ اپنے خوابوں میں ہمیشہ کے لیے مطمئن ہو جاتا ہے۔
کیونکہ مطمئن خواب انسان کو حرکت نہیں دیتے۔ بے چین خواب دیتے ہیں۔ وہ خواب جو انسان کو سونے نہ دیں، جو اُسے اندر ہی اندر ہلاتے رہیں، جو اُس سے تقاضا کریں کہ وہ اپنے تصور سے باہر نکل کر حقیقت کی دھوپ میں قدم رکھے۔ سحر دراصل اُنہی لوگوں کو ملتی ہے جو خواب سے محبت تو کرتے ہیں، مگر اُس میں قید نہیں رہتے۔ جو چونکنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جو ٹوٹنے کے بعد بھی آنکھ کھولے رکھتے ہیں۔ جو اپنے خواب کو محض پناہ گاہ نہیں، راستہ بناتے ہیں۔
یاد رکھیں، انسان کو خواب نہیں جگاتے، خوابوں کے ٹوٹنے کی گونج جگایا کرتی ہے-

اپنا تبصرہ لکھیں