سال کا وہ مخصوص حصہ پھر آن پہنچا ہے جب گلیوں اور بازاروں میں رونق بکھر گئی ہے۔ ہر طرف خوبصورت، تنومند اور چمکتی ہوئی کھالوں والے بے زبان جانور نظر آ رہے ہیں۔ بچے ان کے گرد گھیرا ڈالے خوشی سے اچھل کود رہے ہیں، تو بڑے منڈیوں کے چکر کاٹ کر اپنی بساط کے مطابق بہترین قربانی خریدنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ عیدِ قربان کی آمد ہے، اور اس کے ساتھ ہی ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کے ذہن میں ذبح کی تیاریاں تیز ہو چکی ہیں۔ چھریوں کو دھار لگائی جا رہی ہے اور قصابوں سے وقت طے کیے جا رہے ہیں۔
لیکن کیا ہم نے کبھی اس تیز دھار لوہے کی چھری کو غور سے دیکھا ہے جو چند ہی دنوں میں لاکھوں بے زبانوں کے گلوں پر پھرنے والی ہے؟ کیا یہ چھری محض ایک اوزار ہے جو گوشت کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے، یا اس دھار دار لوہے کے پچھے کوئی گہرا کائناتی سچ، کوئی عظیم باطنی فلسفہ اور کوئی ابدی پیغام چھپا ہوا ہے؟ اگر ہم قربانی کو صرف ایک سالانہ تہوار اور گوشت بانٹنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، تو یقیناً ہم نے “چھری کے نیچے چھپے فلسفے” کو سمجھا ہی نہیں ہے۔
اس فلسفے کو سمجھنے کے لیے ہمیں وقت کی بساط کو لپیٹ کر ساڑھے چار ہزار سال پیچھے جانا ہوگا، اُس وادیِ منیٰ میں جہاں ایک باپ اور بیٹا تاریخ کے سب سے بڑے امتحان سے گزر رہے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ کو خواب میں حکم ہوتا ہے کہ وہ اپنی سب سے عزیز چیز اللہ کی راہ میں قربان کریں۔ ان کے پاس سب سے عزیز ان کا بیٹا اسماعیلؑ تھا۔ سوچیں، وہ لمحہ کیسا ہوگا جب ایک باپ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے لختِ جگر کی گردن پر چھری رکھتا ہے۔ مگر وہاں چھری نے کام نہیں کیا، کیونکہ اللہ کو خون اور گوشت نہیں، تسلیم و رضا درکار تھی۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں چھری کا اصل راز کھلتا ہے۔ چھری باہر کے جانور پر نہیں چلی، وہ اندر کے “میں” پر چلی۔ وہ انا پر چلی جو کہتی ہے “یہ میرا ہے، میں اس کا مالک ہوں”۔ وہ خواہش پر چلی جو انسان کو اللہ سے دور لے جاتی ہے۔ وہ محبتِ دنیا پر چلی جو دل کو سخت کر دیتی ہے۔ قربانی کا مقصد جانور کا خون بہانا نہیں، نفس کے اندر چھپے فرعون کو ذبح کرنا ہے۔
آج ہم منڈیوں سے سب سے مہنگا، سب سے خوبصورت جانور لاتے ہیں، اسے سجاتے ہیں، اس کی تصویریں بناتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنے اندر جھانک کر دیکھا کہ وہ کون سی چیز ہے جو اللہ اور ہمارے درمیان دیوار بن کر کھڑی ہے؟ وہ کون سی خواہش ہے جسے ہم چھوڑنے کو تیار نہیں؟ وہ کون سا غرور ہے جسے ہم مٹانے کو تیار نہیں؟
قربانی کا فلسفہ یہ سکھاتا ہے کہ دین محض رسم کا نام نہیں، بلکہ سر جھکانے کا نام ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے چھری چلائی نہیں، مگر ان کی نیت نے آسمانوں کو ہلا دیا۔ اللہ نے فرمایا: “لن ینال اللہ لحومھا ولا دماؤھا ولکن ینالہ التقویٰ منکم” — اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ یعنی اصل چیز نیت ہے، اخلاص ہے، وہ جذبہ ہے جو کہتا ہے “اے میرے رب، میری جان، میرا مال، میری محبت سب تیرے لیے ہے”۔
یہی وجہ ہے کہ عیدِ قربان کو صرف گوشت کھانے کا تہوار سمجھنا سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ اگر چھری جانور کے گلے پر پھرے اور دل کا بت سلامت رہے، تو یہ قربانی نہیں، محض رسم ہے۔ اگر خون بہے اور آنکھ سے ایک آنسو بھی نہ نکلے کہ “یا اللہ، میں بھی اپنے نفس کو اسی طرح ذبح کرنے کو تیار ہوں”، تو ہم نے قربانی کا روحانی پہلو کھو دیا۔
آج کے دور میں ہمارے اندر سینکڑوں بت بستے ہیں۔ دولت کا بت، شہرت کا بت، انا کا بت، رشتوں کی محبت کا بت جو اللہ کی محبت سے بڑھ جائے۔ یہ بت نظر نہیں آتے، مگر یہی انسان کو جکڑے رکھتے ہیں۔ عیدِ قربان کا پیغام یہی ہے کہ سال میں ایک دن، ایک چھری اٹھاؤ اور ان بتوں کو توڑ دو۔ جانور ذبح کرنا آسان ہے، مگر اپنے اندر کے لالچ، حسد، تکبر اور خود پسندی کو ذبح کرنا سب سے مشکل کام ہے۔
اس فلسفے کا دوسرا پہلو سماجی ہے۔ قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے — ایک اپنے لیے، ایک رشتے داروں کے لیے، ایک غریبوں کے لیے۔ یہ محض تقسیم نہیں، معاشرے میں توازن پیدا کرنے کا الہی نظام ہے۔ جب ایک امیر آدمی اپنے ہاتھ سے غریب کے گھر گوشت پہنچاتا ہے، تو وہاں انا ٹوٹتی ہے، فاصلے مٹتے ہیں، محبت پیدا ہوتی ہے۔ اگر یہ تقسیم صرف رسم بن کر رہ جائے، اور دل میں تکبر باقی رہے کہ “میں نے دیا ہے”، تو پھر یہ فلسفہ بھی ضائع ہو جاتا ہے۔
چھری کے نیچے ایک تیسرا پیغام بھی چھپا ہے: زندگی کی بے ثباتی کا احساس۔ جو جانور آج ہماری آنکھوں کے سامنے زندہ ہے، کل وہ گوشت بن چکا ہوگا۔ یہی ہمارا حال بھی ہے۔ آج ہم سانس لے رہے ہیں، کل ہمیں بھی اسی مٹی میں مل جانا ہے۔ موت کی یہ یاد دہانی انسان کو تکبر سے نکال کر عاجزی کی طرف لاتی ہے۔
اس لیے جب اگلی بار آپ چھری پر دھار لگائیں، تو ایک لمحے کے لیے رکیں۔ سوچیں کہ یہ دھار دار لوہا صرف جانور کے گلے کے لیے نہیں، آپ کے دل کے لیے بھی ہے۔ پوچھیں اپنے آپ سے: کیا میں اپنے غصے کو ذبح کرنے کو تیار ہوں؟ کیا میں اپنی زبان کے زہر کو ذبح کرنے کو تیار ہوں؟ کیا میں اپنی نافرمانی کو ذبح کرنے کو تیار ہوں؟
اگر جواب “ہاں” ہے، تو سمجھ لیں کہ آپ نے قربانی کا اصل فلسفہ پا لیا۔ ورنہ چھری چلنے کے بعد بھی کچھ نہیں بدلے گا۔ جانور کا خون بہے گا، گوشت بانٹا جائے گا، مگر دل وہی کا وہی رہے گا — سخت، مغرور، اور خالی۔
عیدِ قربان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کا اصل امتحان قربان گاہ میں نہیں، زندگی کی ہر صبح میں ہے۔ جہاں ہر روز ہمیں اپنی خواہش اور اللہ کے حکم کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ چھری ایک بار چلے گی، مگر نیت ہر روز قربان ہونی چاہیے۔
شاید اسی لیے اسے “عید” کہا جاتا ہے — خوشی کا دن۔ کیونکہ جب انسان اپنے نفس کو شکست دے دیتا ہے، تو اس سے بڑی کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ چھری کے نیچے جانور نہیں، انسان کا غلام نفس ذبح ہوتا ہے، اور وہاں سے آزاد انسان جنم لیتا ہے۔
اور یہی ہے وہ ابدی پیغام جو ہزاروں سال سے چھری کی دھار پر لکھا ہے: “سر جھکا دو، سب مل جائے گا”۔
اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو قربانی کے فلسفے کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔


