یورپ میں جدید غلامی کا قاتل نظام اور پاکستانیوں کا کردار/محمود اصغر چودھری

اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں جلتی ہوئی گاڑی سے اٹھنے والے شعلوں نے صرف چار انسانوں کو ہی زندہ نہیں جلایا بلکہ یورپ میں جدید غلامی کے سیاہ ترین راز پر ڈالے گئے نقاب کو بھی جلا کر خاکستر کر دیاہے ۔ان شعلوں میں 29 سالہ پاکستانی وسیم خان، 28 سالہ افغان امین فضل خوگجانی، 27 سالہ صافی ایاز اور صرف 19 سالہ عصمت اللہ قائمی کی زندگیاں تو راکھ ہو گئیں۔ لیکن اس واقعہ نے اٹلی میں موجود زرعی مافیا اوراس سے وابستہ دلالی کے پیشے کو نمایاں کر دیا ہے ۔
ان کی گاڑی کو آگ لگا کر قتل کرنے والے ہاتھ تو دو پاکستانیوں سفیر احمد اور علی رضا کے ہیں ۔لیکن قتل کی وجہ کیا ہے ؟ اس راز کا پتہ نہ چلتا اگر اسے گاڑی سے ایک أفغان تاج محمد عالم یار بچ کر نہ نکلتا ۔ اس نے بتا یا ہے کہ یہ سب ایک زرعی فارم میں اسٹربیری کے کھیتوں میں کام کرتے تھے ۔ اوریہ دونوں پاکستانی ان کے سپروائزر تھے۔ مزدورں نے اپنی مزدوری کا حق مانگا تھا جس کی انہیں سزا ملی ہے ؟
کیا یہ سزا ان دو پاکستانیوں نے دی ہے ؟ اس کو جاننے کے لئے ہمیں تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا ۔ گزشتہ سال 4 اکتوبر کو اسی علاقہ میں ایک اور واقعہ ہوا تھا ، جب منوج کمار، سرجیت سنگھ، ہرویندر سنگھ اور جسکرن سنگھ نامی چار بھارتی مزدور ایک مبینہ کار حادثے میں مارے گئے تھے۔ نام الگ تھے، قومیت الگ تھی، مگر کہانی ایک جیسی تھی۔ وہ بھی ہر صبح اندھیرے میں گھروں سے نکلتے، وہ ہروز تقریباً 170 کلومیٹر کا سفر کرتے، انگور، اسٹرابیری اور سبزیوں کے کھیتوں میں دن بھر مشقت کرتے اور پھر ایک شام واپس نہ لوٹ سکے۔ان کی موت بھی حادثہ کہلائی تھی۔
اطالوی پولیس نے جب دونوں واقعات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ محض اتفاقات نہیں بلکہ ایک پورا نظام ہے، ایک ایسا استحصالی ڈھانچہ جو دہائیوں سے جنوبی اٹلی کی زمین میں جڑیں پھیلائے بیٹھا ہے۔ اطالوی زبان میں اسے۔ کاپورالاتو۔کہا جاتا ہے۔ اردو میں اس کا سادہ مفہوم دلالی یا مزدوری کی غیر قانونی فراہمی ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔یہ وہ نظام ہے جس میں مزدور اپنی محنت نہیں بیچتے، اپنی مجبوری بیچتے ہیں۔
اٹلی کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے مطابق چار لاکھ سے زیادہ افراد اس استحصالی جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں اکثریت تارکین وطن کی ہے۔ زراعت کے شعبے میں غیر قانونی مزدوری اور دلالی کا یہ کاروبار سالانہ تقریباً 4.8 ارب یورو کا غیر قانونی بزنس بن چکا ہے ۔ یہ صرف ایک جرم نہیں، بلکہ جدید یورپ کے دل میں چلنے والی غلامی کی ایک منظم صنعت ہے۔یہ نظام زرعی شعبے کے علاوہ کنسٹرکشن ، لاجسٹکس اور ریستوران کے شعبوں میں بھی پایا جاتا ہے
یہ کاپورالاتویعنی دلالی کا نظام کیا ہے ا سکے لئے اس سے بھی تھوڑا پیچھا جانے پڑے گا ۔2022ء میں اٹلی کی سب سے بڑی ٹریڈیونین سی جی ایل نے ایک تحقیقی رپورٹ چھاپی تھی جسکے مطابق کلابریا اس لعنت کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔ صرف زرعی شعبے میں استحصال کے خلاف 36 بڑی تحقیقات ہو چکی ہیں۔ اور ہر تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ مزدور طبقہ اس جدید غلامی اور جدید دلالی کی بھینٹ چڑھ رہا ہے ۔ مگر نظام جوں کا توں قائم ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کے پیچھے صرف چند مقامی دلال نہیں بلکہ ایک پورا معاشی ڈھانچہ کھڑا ہے، جس کے تار جنوبی اٹلی کی طاقتور مافیا تنظیموں، کوزا نوسترا ، کیمورا اور خصوصاً ’ندرانگھیٹا‘ سے جا ملتے ہیں۔
یہ مافیا یہ تک فیصلہ کرتا ہے کہ کھیتوں میں کون کام کرے گا، کتنی اجرت ملے گی، مزدوروں کو کون لائے گا، کس قیمت پر فصل فروخت ہوگی، یورپی سبسڈی کس کے حصے میں آئے گی اور منافع کہاں جائے گا۔یہ سب فیصلے اکثر انہی طاقتور حلقوں کے مفادات کے مطابق ہوتے ہیں۔ جتنا سستا مزدور ہوگا، اتنا ہی زیادہ منافع ہوگا۔سستا مزدور کیسے مل سکتے ۔ سستا مزدور وہی ہے جس کے ساتھ کوئی قانونی معاہدہ نہ کیا جائے ۔ اور جس کو دلالوں کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکے ۔ان کی رہائش اور ٹرانسپورٹ تک اپنے ذمے لی جائے ایک گھر میں دس دس اور ایک کار میں دس دس ٹھونس کر ان سے اس مد میں بھی پیسے لئے جائیں یعنی ایک قسم کا مکمل بیگار سسٹم ۔یاد رہے کہ 4 اکتوبر کے واقعہ میں جو چار سکھ مارے گئے تھے وہ ایک رینالٹ شینک میں تھے جس کی سات سیٹوں پر 10مزدور ٹھونسے ہوئی تھیں
اگلا سوال یہ ہے کہ اگر یہ کاروبار اتنا منافع بخش ہے تو پھر مزدور مارے کیوں جاتے ہیں؟جواب تکلیف دہ حد تک سادہ ہے۔کیونکہ جب کوئی مزدور اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے، آٹھ گھنٹے کام، قانونی اجرت، بیمار ہونے پر تحفظ یا ہفتہ وار چھٹی مانگتا ہے، تو وہ محض ایک مزدور نہیں رہتا، بلکہ منافع کے نظام کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ اسے خاموش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ کبھی دھمکی سے، کبھی تشدد سے اور کبھی زندہ جلا کر۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس سال گاڑیوں کو آگ لگانے کے کم ازکم 14 سنگین واقعات ہوچکے ہیں ۔ بس کچھ لاشیں اخبارات کی سرخیاں بن جاتی ہیں اور کچھ فائلوں کے بوجھ تلے دفن ہو جاتی ہیں۔
سوال یہ بھی ہے کہ اس گھناؤنے دھندے میں پاکستانی اور بھارتی دلال کہاں سے آ گئے؟جواب امیگریشن میں پوشیدہ ہے۔ پہلے اس استحصال کا شکار زیادہ تر افریقی اور مشرقی یورپی مزدور ہوتے تھے۔ پھر مشرقی یورپ کے ممالک یورپی یونین میں شامل ہوئے اور ان کے شہریوں کو قانونی تحفظ اور آزادانہ نقل و حرکت حاصل ہو گئی۔ تو امیگریشن ان کا مسئلہ نہ رہااس لئے ان کا استحصال ممکن تھا ۔ لیکن اطالوی کھیتوں کو تب بھی سستے مزدور درکار تھے۔ چنانچہ نظریں ایشیا کی طرف اٹھیں۔پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے مزدور لانے کے لیے قانونی کوٹہ سسٹم بنایا گیاجسے موسمی امیگریشن کا نام دیا گیا ۔ بس پر کیا تھا جہاں ویزے اور امیگریشن کی بات آتی ہے، وہاں پاکستانی سب سے پہلے دلچسپی لیتے ہیں اور ایجنٹی یعنی دلالی کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔
آج صورت حال یہ ہے کہ بعض پاکستانی اور بھارتی بروکر اپنے ہی ہم وطنوں سے لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں، انہیں یورپ کے خواب دکھاتے ہیں اور پھر اٹلی پہنچا کر ایسے نظام کے حوالے کر دیتے ہیں جہاں ان کی حیثیت محض ایک سستے مزدور سے زیادہ نہیں رہتی۔مگر ہاں ایک بات واضح ہے کہ اس سارے کھیل میں اصل منافع خور اکثر وہی ہوتا ہے جو پس منظر میں بیٹھا ہوتا ہے۔ مزدور کے سر پر کھڑا دلال اگرچہ بھلے ہی اردو یا پنجابی بولتا ہے، مگر نظام کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا عموماً اطالوی ہی ہوتا ہے۔
اطالوی میڈیا کے مطابق ایک ٹریڈ یونین رہنما نے اس پورے نظام کی تشریح صرف ایک جملے میں کر دی ہے اور جملہ یہ ہے کہ اس نظام کے تحت ۔ ۔غلام کام کرتے ہیں، دلال کنٹرول کرتے ہیں اور مالک کماتے ہے ۔۔شاید اس سے زیادہ مختصر اور سچی تعریف اس سارے نظام کو سمجھنے کے لئے ممکن نہیں ہے ۔
ایسا نہیں ہے کہ حکومت اس نظام سے ناواقف تھی انہوں نے اس کے خلاف سخت سے سخت قوانین بھی بنائے ہیں ، 2011 میں سخت سزائیں متعارف کرائیں، یورپی فنڈز خرچ ہوئے، کانفرنسیں منعقد ہوئیں، بیانات دیے گئے، مگر کھیتوں میں مزدوروں سے بھری گاڑیاں آج بھی دوڑ رہی ہیں اور لاشیں آج بھی آ رہی ہیں۔شاید اس بار بھی یہی ہوگا۔چند گرفتاریاں ہوں گی، کچھ پریس کانفرنسیں ہوں گی، وزراء افسوس کا اظہار کریں گے، پولیس رپورٹیں مرتب کرے گی اور اخبارات چند دن تصاویر شائع کریں گے۔ پھر خاموشی چھا جائے گی۔
ہاں، اس بار ایک فرق ضرور ہو سکتا ہے۔ چونکہ زیرِ تفتیش ناموں میں بعض پاکستانی بھی شامل ہیں، اس لیےاس کارڈ کو ضرور کھیلا جائے گا ۔ پاکستانی ٹھیکیدار قابو آئیں گے ۔ پاکستانیوں کے ویزوں پر شاید پابندی بھی لگی یہ تعطل کا شکار ہوجائیں ۔ یعنی چند چھوٹی مچھلیاں شاید قانون کے جال میں آ جائیں۔ مگر 4.8 ارب یورو کی اس صنعت کے بڑے مگرمچھ حسبِ معمول گہرے پانیوں میں محفوظ رہیں گے۔اور پھر کسی دن کسی اور سڑک پر، کسی اور کھیت کے کنارے، کوئی نیا وسیم خان، کوئی نیا منوج کمار یا کوئی نیا فضل خوگجانی مارا جائے گا۔ہم جیسے سر پھرے چند دن افسوس کریں گے، چند کالم لکھے جائیں گے، چند مذمتی بیانات جاری ہوں گے، مگر نظام برقرار رہے گا۔کیونکہ استحصال کا یہ نظام اور پاکستانی دلالوں کا یہ نظام صرف اٹلی میں ہی نہیں سپین اور برطانیہ میں عروج پر ہے جہاں نئے آنے والوں کی مجبوری خریدی جاتی ہے ۔ لیف لیٹنگ سے لیکر ریستوران میں روٹیاں لگانے تک اور مستریوں کے ساتھ دیہاڑیاں لگانے تک جوبھی مالک اپنے مزدور کو اصل مزدوری نہیں دیتی وہ اس نظام کا حقیقی دلال ہی ہے
آپ اسے کاپورولاتو کہہ لیں ، ٹھیکیداری کہہ لیں ، بروکر ی کہہ لیں یا دلالی ۔ اصل مسئلہ مسئلہ چند قاتلوں کا نہیں، ایک ایسے معاشی ڈھانچے کا ہے جس میں انسان کی جان اسٹرابیری کے ایک کریٹ، انگور کے ایک ڈبے یا اورنج جوس کی ایک بوتل سے بھی کم قیمت رکھتی ہے۔اور جب تک یہ حقیقت نہیں بدلے گی، کلابریا کی سڑکوں پر جلتی ہوئی گاڑیاں صرف حادثے نہیں کہلائیں گی، بلکہ جدید یورپ کے ماتھے پر ثبت وہ سیاہ دھبہ رہیں گی جو ترقی، انسانی حقوق اور مساوات کے تمام دعوؤں کو جھٹلا دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں