روز اول سے ہی انسانی فطرت کا خاصا رہا ہے کہ وہ دوسروں سے ملاقات کرے۔رفاقت و شراکت رکھے۔نئی نسل کو اپنے تجربات، مشاہدات اور احساسات منتقل کرے۔یہ ایک فطری عمل ہے جس کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا انسان خود۔وہ اپنی ذات میں جتنا قدیم ہے اُس سے بڑھ کر کئی گنا جدید بھی ہے۔اُس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اُس نے ہر دور کے ساتھ سمجھوتا کر کے زندہ رہنے کا ڈھنگ سیکھا ہے۔یہ بات شک و شُبہ سے بالاتر ہے کہ قدرت نے انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کو جاننے، سمجھنے اور پرکھنے کا تجسٙس پیدا کیا ہے۔روز مرہ زندگی میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ کسی نہ کسی طریقے سے ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے بلکہ سر سے لے کر پاؤں تک ایک داستان رقم کر دینے کا ہُنر رکھتے ہیں۔
دُنیا میں ہر انسان اپنی فطرت ، عادات اور کردار کے اعتبار سے پہچانا جاتا ہے۔اچھے بُرے لوگ دُنیا میں ہر جگہ موجود ہیں۔اُن کی پہچان کے لیے کردار اور عادات خود بخود حرکت میں آ جاتے ہیں۔ انسان کی نفسیات بڑی دل چسپ ہے۔ گوناں گوں خوبیوں سے لبریز ہے۔کسی کی فطرت میں شرارت کی چنگاریاں ہیں اور کوئی محبت کی اوس کا خواہش مند ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ تعلیم و تربیت نے انسانی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔دُنیا میں وہی لوگ سرخرو ہوئے ہیں جنھوں نے محنت کو فرض سمجھ کر زندگی کی بنیاد رکھی۔دنیا بھر میں مختلف شعبے ، کام ، مہارتیں ، سرگرمیاں رائج ہیں۔ درس و تدریس سے وابستگی قوموں کی تربیت کا میدان ہے جس میں اترنا تو آسان ہے لیکن فرض شناسی کا قرض ادا کرنا ایک سوالیہ نشان ہے۔البتہ یہ کہنا درست ہے کہ جن لوگوں نے واقعی محنت کی ہے۔ ہمت سے کام لیا ہے۔عزم کو زندہ رکھا ہے۔قید و بند کی صحبتیں برداشت کی ہیں۔وہ کامیابی کے سفر پر گامزن ہوئے ہیں۔اُن خوش نصیبوں میں میرے ایک ہر دل عزیز دوست پروفیسر جیکب پال ہیں۔ جن کا فن و شخصیت تاریخی ، جغرافیائی اور ثقافتی اعتبار سے زبان زد ہے۔وہ زندگی بھر درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ہزاروں طلبہ کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لیے کئی انقلابی پروگرام شروع کیے۔مُجھے اُن کے ساتھ 15 سالہ رفاقت کا اعزاز حاصل ہے۔اُن سے جب بھی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی یا بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ہمیشہ محبت سے ملے۔علمی و ادبی گفتگو کی۔مادری زبانوں پر بات کی۔قومی زبان سے محبت کا اظہار کیا۔اُن کی شخصیت کئی لحاظ سے منفرد اور دل چسپ ہے۔انھیں لوگوں سے ملنے کا بے حد شوق تھا۔ اِس شوق کو جلا بخشنے کے لیے دوران سروس ان کی ملاقاتیں ایسی نامور شخصیات سے ہوتی ہیں جو واقعی پاکستان کا فخر ہیں۔ ان کی کتاب کا نام بھی “نامور شخصیات سے ملاقاتیں” ہیں۔ وہ ہزاروں لوگوں سے ملے ہیں لیکن 350 شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیت کو جس علمی و ادبی پیرائے سے بیان کرنے کی جسارت کی ہے۔وہ مصنف کی فخریہ پیش کش ہے۔جسے جتنا بھی سراہا جائے کم ہے۔انھوں نے ایک ایک شخص سے جس طرح ملاقات کی۔اُس کا سارا احوال ایک داستان کی صورت میں بیان کیا ہے۔جہاں قاری بغیر کسی مشکل کے ان کی یادداشت کا اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان کے دل و دماغ میں وہ واقعات کیسے محفوظ رہے۔
ان کا یہ کارنامہ ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔جسے وہ تقریباً 40 سال تک اپنے دماغ میں محفوظ کرتے رہے۔ان کے اس انمول کام نے بغیر کسی رنگ ، نسل اور مذہب کے نامور شخصیات کے فن و شخصیت کو چار چاند لگا دیے جو اپنی محنت اور کام کے اعتبار سے پہچانے جاتے تھے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ 350 شخصیات میں سے کس کس کا نام لکھوں؟ میرے لیے سب قابل احترام ہیں۔ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ تہذیب روایت اور ثقافت کا گہوارہ ہے۔ بہرحال ان کا یہ کام تاریخی اعتبار سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔15 روزہ کاتھولک نقیب نے فادر خالد میر کی ادارت میں 34 اقساط میں” نامور شخصیات سے ملاقاتیں” شائع کر کے ملک و قوم کے ساتھ بین المذہب ہم آہنگی کا ثبوت پیش کیا ہے۔
میں موجودہ آرچ بشپ خالد میر از لاہور کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جن کی درینہ خواہش اور دل چسپی نے مکتبہ عناویم کے چیئرمین فادر عمانوئیل عاصی کو شرف بخشا تاکہ وہ نامور شخصیات سے ملاقاتیں ایک کتاب کی صورت میں منظر عام پر لا سکیں۔
میری دانست میں پروفیسر جیکب پال کا کارنامہ ان سب لوگوں کے ساتھ اظہار یک جہتی ہے جو کسی نہ کسی طرح اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ان خوش نصیبوں میں میرا نام بھی شامل ہے جہاں مجھے شکریہ کہنے کا موقع ملا ۔میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے فاضل بزرگ دوست پروفیسر جیکب پال کو دلی مُبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے قلم کی بدولت تاریخ ادب میں جو کارنامہ سر انجام دیا ہے۔وہ رہتی دنیا تک لائبریریوں کی زینت بنا رہے گا۔بہت سے طلبہ ، طالبات ، اساتذہ ، محققین ، مبصرین اور تاریخ دان ان کے اس قلمی سفر سے استفادہ کریں گے۔
کتاب کی بابت یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ یہ ایک عہد ساز داستان ہے جو نئی نسل کے لیے ایک شمع کی مانند ہے جس کی روشنی نسل در نسل منتقل ہوتی رہے گی۔


