موسمیاتی تبدیلی اور ہماری بےحسی/علی عباس کاظمی

کبھی کسی درخت کے نیچے چند لمحے خاموش بیٹھ کر دیکھیے۔ اس کے پتے ہوا کے ساتھ سرگوشیاں کرتے ہیں، شاخیں آسمان کی طرف پھیلے ہاتھوں کی مانند محسوس ہوتی ہیں اور جڑیں زمین کے سینے میں اس طرح پیوست ہوتی ہیں جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے ہوئے ہو۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ خاموش مخلوق نہ بولتی ہے، نہ شکایت کرتی ہے، نہ مطالبے کرتی ہے، مگر پوری انسانیت کی زندگی کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے کھڑی رہتی ہے۔ شاید اسی لیے درخت زمین کی وہ خاموش دعائیں ہیں جن کا ذکر کسی اخبار کی سرخی میں کم اور قدرت کے نظام میں زیادہ نظر آتا ہے۔

عالمی یومِ ماحولیات ہر سال آتا ہے۔ تقریبات منعقد ہوتی ہیں، سیمینار سجتے ہیں، تصویریں بنتی ہیں، نعرے لگتے ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں اور پھر زندگی معمول پر لوٹ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ماحولیات کا عالمی دن صرف کیلنڈر کا ایک خانہ ہے یا ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی ایک دستک؟ کیا شجرکاری صرف ایک رسمی تقریب ہے یا آنے والی نسلوں کے حق کا تحفظ؟ اور کیا ہم واقعی زمین کو سبز کرنے کا عہد کر چکے ہیں یا صرف سبز نعروں کے سہارے اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کر رہے ہیں؟

عجیب تضاد ہے کہ انسان چاند پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھ رہا ہے مگر زمین کو رہنے کے قابل رکھنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ ترقی کے نام پر جنگلات کاٹے جا رہے ہیں، کنکریٹ کے جنگل آباد ہو رہے ہیں اور ہم اسے کامیابی کا نام دے رہے ہیں۔ شہروں میں عمارتوں کی اونچائی بڑھ رہی ہے مگر درختوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ سڑکیں چوڑی ہو رہی ہیں مگر سانس تنگ ہو رہا ہے۔ گاڑیاں بڑھ رہی ہیں مگر ہوا کم ہوتی جا رہی ہے۔ ترقی کی اس دوڑ میں شاید ہم بھول گئے ہیں کہ انسان کی پہلی ضرورت آکسیجن ہے۔۔۔ وائی فائی نہیں۔

درخت اور زندگی کا رشتہ اتنا قدیم ہے جتنا انسان اور زمین کا تعلق۔ جب انسان نے پہلی بارآنکھ کھولی تو درخت اس کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ اس کے لیے سایہ بھی تھا، پھل بھی، لکڑی بھی اور آکسیجن بھی۔ آج بھی صورتِ حال مختلف نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ درخت اب بھی انسان کو زندگی دے رہے ہیں لیکن انسان بدلے میں انہیں موت دے رہا ہے۔معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر ان نعمتوں کی قدر اس وقت کرتے ہیں جب وہ ہم سے چھن جاتی ہیں۔ پانی ختم ہونے لگے تو کنوؤں کی یاد آتی ہے، ہوا آلودہ ہو جائے تو درخت یاد آتے ہیں، گرمی ناقابلِ برداشت ہو جائے تو سایہ یاد آتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم علاج پر یقین رکھتے ہیں، احتیاط پر نہیں۔ حالانکہ درخت لگانا دراصل مستقبل کی بیماریوں کا علاج آج ہی کر دینا ہے۔

بڑھتی ہوئی گرمی صرف موسم کا مسئلہ نہیں، یہ تہذیب کا مسئلہ بھی ہے۔ سورج پہلے بھی یہی تھا، زمین بھی یہی تھی، لیکن آج کی جھلسا دینے والی حدت اس بات کا ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں انسان نے قدرت کے توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی محض سائنس دانوں کی اصطلاح نہیں بلکہ ہمارے گھروں، کھیتوں، بازاروں اور روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکی ہے۔ کبھی بے وقت بارشیں، کبھی شدید خشک سالی، کبھی سیلاب اور کبھی قحط جیسی صورتِ حال۔ سوال یہ ہے کہ ماحول بچانے کی جنگ ہم کہاں ہار رہے ہیں؟شاید اس کا جواب ہماری ترجیحات میں پوشیدہ ہے۔ ہم کروڑوں روپے کی عمارت کو سرمایہ سمجھتے ہیں مگر ایک درخت کو نہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک بالغ درخت اپنی پوری زندگی میں جو خدمات انجام دیتا ہے، ان کی معاشی قیمت بھی ناقابلِ تصور ہے۔ لیکن مسئلہ صرف معاشی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ ہم نے زمین کو امانت کے بجائے ملکیت سمجھ لیا ہے۔امانت کا شعور بچاؤ ہے اور محض ملکیت کا احساس بسا اوقات بربادی۔

اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو ماحول دوستی کوئی جدید تصور نہیں بلکہ دین کی روح کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے درخت لگانے کو صدقہ قرار دیا۔ ایک ایسی نیکی جو انسان کے مرنے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ تصور کیجیے، ایک شخص ایک پودا لگاتا ہے، برسوں بعد کوئی مسافر اس کے سائے میں بیٹھتا ہے، کوئی پرندہ اس پر گھونسلا بناتا ہے، کوئی بچہ اس کا پھل کھاتا ہے، کوئی جانور اس کے نیچے آرام کرتا ہے۔ نیکی کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور اجر کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شجرکاری عبادت بھی ہے اور خدمت بھی۔لیکن افسوس کہ ہم نے صدقۂ جاریہ کے اس عظیم تصور کو بھی صرف تقریروں تک محدود کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر تصویریں لگانا آسان ہے، مگر درخت کی پرورش کرنا مشکل۔ پودا لگا دینا آسان ہے، اسے زندہ رکھنا مشکل۔ ہم اکثر شجرکاری مہم کی تصویر تو محفوظ رکھتے ہیں مگر پودا محفوظ نہیں رکھ پاتے۔

انسانی نفسیات کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ فوری فائدے کو ترجیح دیتا ہے۔ درخت لگانے والا جانتا ہے کہ شاید اس کے لگائے ہوئے پودے کا مکمل سایہ اسے نصیب نہ ہو، مگر آنے والی نسلوں کو ضرور ملے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی خود غرضی اور ایثار کا امتحان ہوتا ہے۔ درخت دراصل مستقبل پر یقین کا نام ہے۔ جو شخص درخت لگاتا ہے وہ آنے والے کل پر اعتماد کا اعلان کرتا ہے۔آج اگر ہم اپنے گاؤں، قصبوں اور شہروں کا جائزہ لیں تو ایک خاموش تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ وہ پرانے برگد، نیم، پیپل اور شہتوت کے درخت کم ہوتے جا رہے ہیں جن کے نیچے نسلیں پروان چڑھی تھیں۔ ان کی جگہ سیمنٹ اور سریے نے لے لی ہے۔ بچوں کے کھیلنے کے میدان سکڑ رہے ہیں، پرندوں کے آشیانے ختم ہو رہے ہیں اور سایے قصۂ پارینہ بنتے جا رہے ہیں۔ ترقی کے اس سفر میں شاید ہم نے اپنی روح کا ایک حصہ کہیں کھو دیا ہے۔

انسان صرف وہی چیز تباہ کرتا ہے جس کے ساتھ اس کا تعلق کمزور ہو جائے۔ جب زمین ماں محسوس نہ ہو تو اس کے زخم دکھائی نہیں دیتے۔ جب درخت دوست محسوس نہ ہوں تو ان کی کٹائی جرم محسوس نہیں ہوتی۔ جب آنے والی نسلیں اپنی اولاد نہ لگیں تو مستقبل کی فکر باقی نہیں رہتی۔ مسئلہ دراصل ماحولیات کا کم اور تعلق کا زیادہ ہے۔آج دنیا سبز انقلاب کی بات کر رہی ہے۔ حکومتیں منصوبے بنا رہی ہیں، ادارے مہمات چلا رہے ہیں، ماہرین تحقیق کر رہے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ عام آدمی کیا کر رہا ہے؟ کیونکہ ماحولیات کا بحران کسی ایک حکومت، ایک ادارے یا ایک ملک کا مسئلہ نہیں۔ یہ ہر اس انسان کا مسئلہ ہے جو سانس لیتا ہے۔ زمین کا قرض ہم سب پر ہے اور نسلوں کا حق بھی ہم سب کے ذمہ ہے۔اگر ہر شخص اپنی زندگی میں صرف چند درخت بھی لگا دے اور ان کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھ لے تو منظر بدل سکتا ہے۔ ایک درخت ہزار نعمتیں ہے۔ یہ صرف سایہ نہیں دیتا، یہ امید دیتا ہے۔ صرف آکسیجن نہیں دیتا، یہ زندگی دیتا ہے۔ صرف پھل نہیں دیتا، یہ مستقبل دیتا ہے۔ درخت کا وجود ہمیں سکھاتا ہے کہ خاموشی سے بھی خدمت کی جا سکتی ہے، بغیر شہرت کے بھی دنیا کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔

وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان نے ہر چیز کی قیمت لگانا سیکھ لیا مگر قدر پہچاننا بھول گیا۔ درخت کی قیمت لکڑی سے نہیں، زندگی سے ہوتی ہے۔ جنگل کی قیمت زمین سے نہیں، ماحول سے ہوتی ہے اور ماحول کی قیمت کسی مالیاتی رپورٹ سے نہیں بلکہ انسانی بقا سے ہوتی ہے۔شاید اسی لیے آج زمین ہم سے ایک سوال پوچھ رہی ہے۔ وہی زمین جس نے ہمیں پناہ دی، رزق دیا، پانی دیا اور سانس دی۔ وہ پوچھ رہی ہے کہ کیا تم مجھے اپنی اولاد کے لیے بہتر حالت میں چھوڑ کر جاؤ گے یا مجروح اور تھکی ہوئی حالت میں؟ یہ سوال صرف حکومتوں کے لیے نہیں، ہمارے لیے بھی ہے۔ یاد رکھیے کہ آنے والے برسوں میں تاریخ شاید یہ نہیں پوچھے گی کہ ہمارے پاس کتنی بڑی گاڑیاں تھیں، کتنی بلند عمارتیں تھیں یا کتنی جدید ٹیکنالوجی تھی۔ وہ شاید یہ پوچھے گی کہ جب زمین کا سانس پھول رہا تھا تو ہم کیا کر رہے تھے؟ جب درخت کٹ رہے تھے تو ہم کہاں کھڑے تھے؟ اور جب آنے والی نسلیں اپنے حق کی فریاد کر رہی تھیں تو کیا ہم نے ایک پودا بھی لگایا تھا؟کیونکہ بعض اوقات پوری تہذیب کا مستقبل صرف ایک چھوٹے سے پودے کی جڑوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں