پچانوے میں سے صرف چند/اے وسیم خٹک

حالیہ دنوں میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی جاری کردہ کارکردگی رپورٹ نے پاکستان کے تعلیمی حلقوں میں ایک ہلچل مچا دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، ملک کی پچانوے یونیورسٹیوں کا جائزہ لیا گیا، اور نتائج کچھ ایسے ہیں جن پر ہر کسی کو گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان تمام یونیورسٹیوں میں سے صرف ایک بہت چھوٹی تعداد ایسی ہے جسے سب سے اعلیٰ کارکردگی والی ‘W’ کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ دوسری طرف، کافی سی یونیورسٹیاں ایسی بھی ہیں جو کم ترین کارکردگی کی حامل پائی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں معیار کا فرق کتنا وسیع اور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

اس رپورٹ میں خاص طور پر ریسرچ، ہیومن ریسورس کی ترقی، اور کمرشلائزیشن جیسے اہم شعبوں کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کچھ چونکا دینے والے ہیں۔ ایک مقررہ مدت کے دوران ملک بھر کی یونیورسٹیوں کی طرف سے ہزاروں ریسرچ پرپوزلز جمع کرائے گئے، لیکن ان میں سے صرف ایک چھوٹے سے فیصد کو ہی منظور کیا جا سکا۔ یہ شرح پچھلے سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جو واضح کرتی ہے کہ تحقیق کے معیار، اس کی مطابقت، یا اس کے لیے وسائل کی فراہمی میں کہیں نہ کہیں کوئی بڑی رکاوٹ حائل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسی دوران جمع ہونے والے ہزاروں پرپوزلز میں منظوری کی یہ کم شرح ایک خطرناک اشارہ ہے۔

یونیورسٹیوں کو مختلف کیٹیگریز میں اس لیے تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ہر ادارے کی کارکردگی کا منصفانہ اور شفاف جائزہ لیا جا سکے اور ایک یونیورسٹی کا دوسری سے براہِ راست موازنہ کیا جا سکے۔ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن سیکٹر کو پچھلے کئی برسوں سے کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے — جیسے بجٹ میں مسلسل کٹوتی، معیاری فیکلٹی کی فراہمی میں مشکلات، تحقیقی جرائد تک رسائی کی محدودیت، اور صنعتی اداروں کے ساتھ تعلقات کی کمزوریاں۔ اس رپورٹ کا بنیادی مقصد انہی چیلنجز کو بہتر طور پر سمجھنا اور یونیورسٹیوں کی ریسرچ اور انوویشن کے معیار کو ایک واضح، عددی شکل میں پیش کرنا ہے تاکہ پالیسی سازوں کے لیے راستہ روشن ہو سکے۔

جب ریسرچ اور انوویشن کی بات آتی ہے تو اس حوالے سے سالانہ سیلف ایسیسمنٹ ایویلیوایشن رپورٹ میں کافی دلچسپ باتیں سامنے آئی ہیں۔ اس جائزے میں یہ دیکھا گیا کہ یونیورسٹیوں کے اندر ریسرچ کا ماحول کتنا پرکشش اور فعال ہے، مختلف شعبہ ہائے سائنس بالخصوص جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور بائیو سائنسز میں کیسی تحقیق ہو رہی ہے، اور سب سے اہم بات یہ کہ ان یونیورسٹیوں کے انڈسٹری یا کاروباری اداروں سے کتنے ٹھوس اور نتیجہ خیز تعلقات ہیں۔ دراصل یہ جانچنا بہت ضروری ہے کہ یونیورسٹیوں کی محنت اور تحقیق سے عام آدمی کی زندگی، معاشرے کی فلاح، اور ملکی معیشت کو کتنا ٹھوس فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کچھ نئی اور چھوٹی یونیورسٹیوں کو بھی اس رینکنگ میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ان کی کارکردگی کا بھی باقاعدہ اندازہ لگایا جا سکے اور انہیں بہتری کے لیے ایک بینچ مارک مل سکے۔

بات کریں کارکردگی کی درجہ بندی کی تو چند خوش قسمت یونیورسٹیاں ایسی ہیں جو ‘W’ کیٹیگری میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔ یہ وہ ادارے ہیں جنہوں نے نہ صرف عالمی معیار کی ریسرچ کی بلکہ اسے عملی شکل دینے اور اس سے آمدنی پیدا کرنے میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ درمیانی کارکردگی والی یونیورسٹیوں کو ‘X’ اور کم کارکردگی والی یونیورسٹیوں کو ‘Y’ کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ کارکردگی والی یونیورسٹیاں جدید موضوعات جیسے مصنوعی ذہانت (AI)، روبوٹکس، بائیو میڈیکل انجینئرنگ، اور کلین انرجی پر تحقیق کر رہی ہیں، جس سے کام کرنے کے پرانے طریقے بدل رہے ہیں اور نئی ایجادات وجود میں آ رہی ہیں۔ جب کوئی یونیورسٹی کوئی نیا سسٹم، پروڈکٹ یا ٹیکنالوجی تیار کر لیتی ہے، تو وہ اسے پیٹنٹ کروا کر دانشورانہ املاک کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔ اس کے بعد وہ اسے متعلقہ صنعتوں کو فراہم کرتی ہے، جس سے نہ صرف یونیورسٹی کو فنڈنگ حاصل ہوتی ہے بلکہ اس کا نام بین الاقوامی سطح پر بھی روشن ہوتا ہے، دوسری یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون بڑھتا ہے، اور سب سے اہم بات کہ طلبہ کو حقیقی زندگی کے مسائل حل کرنے کا بہترین تجربہ ملتا ہے۔

اس رپورٹ میں سب سے تلخ حقیقت جو سامنے آئی وہ ہے فنڈنگ کا بحران۔ واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ شاید یہ پہلا موقع ہے جب نئے ریسرچ پروجیکٹس شروع کرنے کے لیے مختص فنڈز اتنے محدود تھے کہ یونیورسٹیوں کے پاس نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہی۔ اس شدید قلت کی وجہ سے بہت سی یونیورسٹیوں — یہاں تک کہ کچھ معروف اداروں — کو بھی نئے پراجیکٹس حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جب فنڈز ہی محدود ہوں گے تو یونیورسٹیاں جدید لیبارٹریز نہیں بنا سکیں گی، مہنگی مشینری نہیں خرید سکیں گی، نہ ہی باصلاحیت محققین اور پروفیسرز کو اپنی طرف متوجہ کر پائیں گی۔ اس محدود کارکردگی اور وسائل کی کمی کا سب سے بڑا نقصان بالآخر طلبہ کو ہوتا ہے، کیونکہ وہ جدت سے محروم رہ جاتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر مقابلے کے لیے تیار نہیں ہو پاتے۔ ان کی تعلیم کا معیار اور ریسرچ کی اہلیت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔

آخر میں، جب ہم اس پوری رپورٹ پر غور کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک ہی سوال بار بار اٹھتا ہے: کیا واقعی ہمارا تعلیمی نظام اتنا ناکام ہو چکا ہے کہ پچانوے میں سے صرف مٹھی بھر یونیورسٹیاں ہی اعلیٰ کارکردگی کے معیار تک پہنچ پائی ہیں؟ باقی یونیورسٹیاں تو کام کر رہی ہیں، لیکن وہ مطلوبہ نتائج نہیں دے پا رہیں۔ کہیں نہ کہیں نظام جمود کا شکار ہے۔ یہ رپورٹ ہمارے سامنے ایک دو ٹوک حقیقت رکھ دیتی ہے — یہ صرف یونیورسٹیوں کی موجودہ حالت کا ایک خشک جائزہ نہیں ہے، بلکہ مستقبل میں فوری اور بنیادی اصلاحات، بہتر تعلیمی پالیسیوں، اور وسائل کی فراہمی کی شدید ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت، ایچ ای سی اور خود یونیورسٹیاں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کیا ٹھوس اور عملی قدم اٹھاتی ہیں، ورنہ یہ فرق مزید وسیع ہوتا چلا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں