پاکستانی زیر انتظام کشمیر: شورش، کشمیری مہاجر سیٹیں اور حل /افتخار گیلانی

ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے بعد دونوں ممالک کی سرحدیں ریڈ کلف ایوارڈ کے تحت متعین تو کی گئیں، مگر ریاست جموں و کشمیر کے سینے پر ایک خونی لکیر کھینچ کر اس خطے کے باشندوں کو ایک غیر یقینی صورت حال میں مبتلا کرکے رکھ دیا گیا جو ابھی تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہے۔

گو کہ اس ریاست میں کئی نسلوں اور زبانوں کے بولنے والے آباد ہیں، مگر تاریخ اور جغرافیہ نے ان کو ایک وحدت میں پرو دیا ہے اور اس وحدت کا نیوکلیس وادی کشمیر اور سرینگر شہر رہا ہے۔

اسی مناسبت سے اس خطے کی آبادی کی اکثریت اپنے آپ کو کشمیری کہلواتی ہے۔ ورنہ 1947 سے قبل کے اعداد و شمار کے مطابق متحدہ جموں و کشمیر میں کشمیری بولنے والی آبادی 38.5 فیصد، پنجابی و ڈوگری ملاکر 26.7 فیصد اور پہاڑی 13.2 فیصد تھی۔ 2011 میں ہوئی مردم شماری میں جموں و کشمیر میں کشمیری زبان بولنے والی آبادی 53 فیصد، ڈوگری 20 فیصد، گوجری 9 فیصد اور پہاڑی 7.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں کشمیری زبان بولنے والے شاید دو فیصد سے بھی کم ہوں گے، اکثریت پہاڑی زبان بولنے والوں کی ہے۔ مگر کشمیری شناخت ہی ان کو وادی کشمیر اور سری نگر سے جوڑ کر پورے خطے کا والی کہلوانے کا حق عطا کرتی ہے۔

جموں و کشمیر کے عوام کے لیے لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف کے خطے کی حیثیت ہمیشہ محض ایک زمین کی نہیں، بلکہ ایک ماں کی گود جیسی رہی ہے۔ ایک ایسی پناہ گاہ جہاں کوئی بھی کشمیری، عمر کے کسی بھی حصے میں یا تھکا ہارا ہو، حتمی پناہ، تحفظ اور اپنائیت کی امید رکھ سکتا ہے۔ یہ ان کی آخری امید رہی ہے، اور اس دھرتی کا سحر کشمیر کے عوام کو ہمیشہ اپنے حصار میں رکھتا ہے۔

بچپن میں شمالی کشمیر میں جب اوڑی یا کپواڑہ کے دور دراز علاقوں میں لائن آف کنٹرول کے پاس اسکول پکنک کے ساتھ جاتے تھے، تو اس پار کے خطے کو سبھی بچے بڑی آس کے ساتھ دیکھ کر آہیں بھرتے تھے۔ لائن آف کنٹرول کے پار کا خطہ کسی طلسماتی سرزمین کی مانند لگتا تھا۔

لیکن حالیہ دنوں میں یہ خطہ جس طرح شورش کا شکار ہوگیا ہے اور خون ناحق سے لالہ زار ہوا ہے، اس سے یقیناً لائن آف کنٹرول کے اس طرف بھی دماغوں میں اضطراب ہے۔

ویسے تو پچھلے ایک سال سے ہی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور مقامی رائے عامہ کے بعض حلقوں کی جانب سے جو بیانیہ اور رویہ سامنے آرہا تھا اس نےبھی وادیِ کشمیر میں موجود آبادی کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔

ایکشن کمیٹی نے بھی اس صورتحال کو واضح کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں یہ صورتحال ابھی پیدا نہیں ہوئی ہے۔ اس کے بیج کب کے بوئے جا چکے تھے۔

جب تک میں دہلی اور سرینگر میں صحافت کے فرائض انجام دے رہا تھا اس وجودی فرق کا اتنا احساس نہیں تھا۔ لیکن بیرون ملک نوکری کرنے کے بعد جب پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اپنے ہم وطنوں سے براہ راست ملنے کا موقع ملا تو ایک واضح فکری تفاوت سامنے آیا۔ پاکستانی کشمیر میں، خصوصاً نئی نسل میں، خطے کے ساختی حقائق کو گڈمڈ کرنے کا ایک عمومی رجحان پایا جاتا ہے۔

ان افراد کے لیے جو ریاست کی وحدت کے قائل ہیں، یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم تحفظ اور باہمی ملکیت کے کمزور مگر دیرینہ احساس سے بھی محروم ہو رہے ہیں؟

اگرچہ طرزِ حکمرانی اور انتخابی شفافیت سے متعلق ان کے خدشات بالکل جائز ہیں، لیکن کشمیر کے وسیع تر تناظر اور وادی کے عوام و مہاجرین کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو پورے دل سے قبول کیے بغیر، پاکستانی کشمیر سیاسی یا اخلاقی طور پر اپنے تشخص اور وجود کا دعویٰ نہیں کر سکتا ہے۔

مقامی سطح پر کسی سیاسی ٹکراؤ کو جنم دیے بغیر اس خلیج کو پاٹنے اور ان نشستوں کی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے، میں نے کئی افراد سے پوچھا کیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس سے اس کے ڈھانچے میں کچھ اصلاحات کی جا سکیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ زمینی حقائق اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے عوامی جذبات کے مابین توازن پیدا کرنے کا کوئی راستہ نکالنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی میں وادی کشمیر اور جموں سے پاکستان منتقل ہوئے مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کو اکثر و بیشتر اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔

جب ایک بار کراچی کے مہاجر قومی موومنٹ کے ایک لیڈر نئی دہلی کے دورے پر آئے تھے اور پریس کلب آف انڈیا میں ان کا میٹ دی پریس پروگرام تھا تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی نے حال ہی میں کشمیر کی اسمبلی میں نشستیں حاصل کی ہیں اور اس کے ناطے ان کا کشمیر پر ایک طرح کا اسٹیک ہے۔ میں حیران و پریشان تھا۔

تب پہلی بار پتہ چلا کہ ان سیٹوں کا انتخاب کیسے کرایا جاتا ہے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ کب وادیِ کشمیر اور جموں کے نام نہاد نمائندے کہلانے والے ان 12 ارکان نے اپنے اس منصب کو کشمیر کی مؤثر حمایت، آواز اٹھانے یا انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا ہو۔

چنانچہ اس جمود کا ٹوٹنا ضروری ہے، کیوں کہ موجودہ صورتحال کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔ اس کا ایک حل جو میرے ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد بڑھا کر فرض کرکے 70 یا 75 کر دی جائے۔

ان 70 یا 75 نشستوں کی نئے سرے سے منصفانہ حد بندی کی جائے اور ووٹرز کو برابر تقسیم کیا جائے۔ اس کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد مہاجرین اور بیرون ملک آباد کشمیری شہریوں کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ان تمام 70 یا 75 حلقوں میں متناسب طریقے سے تقسیم کر دیا جائے۔ ویسے بھی منتخب اداروں کی سیٹیں جتنی زیادہ ہوں اتنا اراکین کی خرید و فروخت کے اندیشے بھی کم ہو جاتے ہیں۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حدود میں اس وقت رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 33 لاکھ 65 ہزار 839 ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر ویلی کے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 33 ہزار 598 ہے جبکہ مہاجرین جموں کے ووٹرز چار لاکھ 49 ہزار 48 ہیں۔ یوں مہاجرین کے کل ووٹرز کا بڑا حصہ جموں سے تعلق رکھنے والے خاندانوں پر مشتمل ہے جو زیادہ تر پنجاب کے مختلف اضلاع اور شہروں میں آباد ہیں۔

یعنی کل ملا کر 4 لاکھ 82 ہزار 646 ووٹر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر انتخابی حلقے میں جہاں مقامی آبادی کے پچاس سے ساٹھ ہزار ووٹوں میں 5,000 یا 6,000 اضافی ووٹر شامل ہوں گے۔

یہ ایک ایسا تناسب ہے جو مقامی انتخابی نتائج کو متاثر کرے گا اور نہ ہی علاقائی توازن کو بگاڑے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ نظام مہاجر ووٹرز اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ہر ایک حلقے کے درمیان ایک براہ راست جذباتی اور سیاسی تعلق بھی استوار کرے گا۔

اس قسم کے ماڈل کی ایک کامیاب مثال پہلے سے موجود ہے۔ یہ بعینہ وہی طریقہ کار ہے جس کے تحت دہلی، ممبئی اور ہندوستان کے دیگر حصوں میں مقیم کشمیری پنڈت اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہیں اور اپنے آبائی حلقوں سے تعلق برقرار رکھتے ہیں۔

ان کے لیے پولنگ بوتھ دہلی، ممبئی، بنگلور، چندی گڑھ میں قائم کیے جاتے ہیں۔ یعنی سوپور، ہندواڑہ یا حبہ کدل سرینگر کے پولنگ بوتھ ان شہروں میں لگتے ہیں اور کشمیری پنڈت اپنے حلقے کا ووٹ ڈالنے آتے ہیں۔

ان کے لیے ایک اور سہولت پوسٹل بیلٹ کی بھی ہے۔ یہی طریقہ جرمنی میں مقیم ترک آبادی اختیار کرتی ہے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد جب 50 کی دہائی میں جرمنی نے اپنی صنعتوں کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ جنگ کے بعد تباہی کے بعد ان کے پاس انسانی وسائل ہی نہیں تھے۔ اس لیے ترکی کے ساتھ باضابطہ ایک معاہدے کے تحت افرادی قوت منگوائی گئی۔ ان کو دہری شہریت دی گئی۔

وہ ترکیہ کے صدارتی، پارلیامانی اور بلدیاتی انتخابات میں جرمنی کے شہروں سے شرکت کرکے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے ووٹ ان شہروں میں درج ہیں جہاں سے ان کے بزرگ جرمنی منتقل ہو گئے تھے۔

اس وقت ان کی تیسری جنریشن ترکیہ میں حکومت سازی کے لیے ووٹنگ کرتی ہے۔ اس لیے ترکیہ کی سبھی سیاسی پارٹیوں کے دفاتر جرمنی کے مختلف شہروں میں دکھائی دیتے ہیں اور امیدوار انتخابی مہم چلانے کے لیے جرمنی بھی جاتے ہیں۔ ووٹنگ کے دن ان کے لیے برلن، ہیمبرگ سمیت کئی جرمن شہروں میں پولنگ بوتھ قائم کیے جاتے ہیں۔

اس قدم سے مہاجرین کو الگ تھلگ کیے بغیر ان کی نشستوں کے غلط استعمال کو اصلاحات کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔ یہ ایشو ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم اور ان لاکھوں افراد کی ہجرت میں پیوست ہے جو 1947 کے بعد وادی کشمیر، جموں، پونچھ، راجوری اور دیگر علاقوں سے پاکستان منتقل ہوئے۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں آبادکاری اور روزگار کی محدود سہولتوں کے باعث اور حکومت پر بوجھ بننے کے بجائے پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہوئے۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے انتخابات میں ان کی ووٹنگ اپنی تاریخی شناخت اور آبائی ریاست کے ساتھ تعلق برقرار رکھنے کا اظہار بھی ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہونا ان کی کشمیری شناخت کو ختم نہیں کرتا۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مہنگائی، بے روزگاری، ناقص حکمرانی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معاشی اور انتظامی مسائل کو تاریخی اور آئینی حقوق کے خلاف استعمال کیا جائے۔

چند روز قبل ’جموں و کشمیر: اے وے فارورڈ‘ کے عنوان سے ایک آن لائن مذاکرہ ہوا جس میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، ہندوستان کے سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایئر، سابق سفارت کار اشرف قاضی، سابق را چیف اے ایس دلت، جاوید جبار، پروفیسر رادھا کمار اور مظفر شاہ سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

اس مذاکرے کی سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ اختلافات کے باوجود تقریباً تمام مقررین اس بات پر متفق تھے کہ کشمیر کا مسئلہ نہ ختم ہوا ہے اور نہ ہی اسے طاقت کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ منی شنکر ایئر کی گفتگو کا سب سے اہم حصہ شاید وہ تھا جس پر پاکستان میں نسبتاً کم توجہ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح ہندوستان کو اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر میں عوامی بے چینی کا سامنا ہے، اسی طرح پاکستان کو بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ابھرتے ہوئے عوامی احساسات اور سیاسی مطالبات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے دونوں حصوں میں عوامی مطالبات کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ اب بحث صرف سرحدوں، جنگوں اور سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ نمائندگی، وسائل، اختیارات، شناخت اور طرز حکمرانی کے سوالات بھی زیر بحث ہیں۔

اسی تناظر میں جاوید جبار اور مظفر شاہ نے ایک نہایت اہم تجویز پیش کی کہ ’انٹرا کشمیر ڈائیلاگ‘ یعنی لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کے کشمیریوں کے درمیان براہ راست مکالمے کو فروغ دیا جائے۔

یہ تجویز محض سفارتی نعرہ نہیں بلکہ موجودہ حالات کی ضرورت بن چکی ہے۔

مگر اگر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی سول سوسائٹی اپنے ہاں مقیم مہاجروں سے ہی گفت و شنید کے دروازے بند کرتی ہے اور انہیں بے اختیار بنانے پر تلی ہے تو لائن آف کنٹرول کے پار مکالمے کا کیا جواز رہتا ہے۔

یہ تو تم ادھر اور میں ادھر والے بیانیہ کی عملی شکل ہے۔ سوشل میڈیا پر ہی دیکھا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے کسی لیڈر کو تو جموں سے تجارت چاہیے، مگر اپنے ہاں وہاں سے آئے پناہ گزینوں کے ووٹ کی گنجائش کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ویسے 1947 میں ریاست کی تقسیم کے وقت کشمیر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کو پاکستانی کشمیر سے بساط لپیٹنی نہیں چاہیے تھی۔ اسی طرح مسلم کانفرنس کو بھی اپنا وجود سرینگر اور جموں میں برقرار رکھنا چاہیے تھا، جہاں وہ نیشنل کانفرنس کا متبادل فراہم کر سکتی تھی۔

نیشنل کانفرنس بھی مظفرآباد اور میرپور میں اپوزیشن کا کردار نبھا کر اس خطے کی نفسیاتی اور جذباتی وحدت برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی تھی۔ خیر گزارش یہی ہے کہ مہاجرین کی بارہ نشستوں کے بارے میں جاری بحث کو وقتی سیاسی نعروں یا جذباتی بیانات کے بجائے تاریخی تناظر، آئینی حقائق اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق دیکھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر اگر واقعی اپنے آپ کو کشمیریوں کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اپنے دروازے تنگ کرنے کے بجائے کشادہ کرنے ہوں گے۔

لاکھوں مہاجر کشمیریوں کو سیاسی نظام سے باہر دھکیلنا نہ تو مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی اس سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے عوام کے حقیقی مسائل حل ہوں گے۔

اصلاحات کے ذریعے انہیں اسٹیک ہولڈر بنا کر مسائل حل کروانے میں ان کا تعاون حاصل کرنا چاہیے۔ حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے ہر حصے میں انسانی زندگی کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں اور طاقت کے بجائے افہام و تفہیم سے کام لیں۔

بشکریہ دی وائر

اپنا تبصرہ لکھیں