کیا عوامی دباؤ آئین سے بالاتر ہو سکتا ہے؟-مصور خان

آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں پیدا ہونے والی کشیدگی اور احتجاجی تحریک نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا کسی بھی سیاسی یا عوامی مطالبے کو محض جذباتی نعروں اور سڑکوں پر دباؤ ڈال کر منوایا جا سکتا ہے، یا پھر آئین، قانون اور ریاستی اداروں کے طے شدہ طریقہ کار کو مقدم رکھا جانا چاہیے؟
بارہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے جاری تنازع میں ایک طرف حکومتِ آزاد کشمیر اور سپریم کورٹ ہیں، جبکہ دوسری جانب احتجاجی عناصر اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی موجود ہے۔ اس معاملے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ قانونی اور آئینی اعتبار سے حکومت اور عدلیہ کا مؤقف زیادہ مضبوط اور قابلِ دفاع ہے۔
ان مخصوص نشستوں کا وجود کوئی حالیہ انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ آئینی اور قانونی بنیادوں پر قائم ایک نظام کا حصہ ہے۔ اگر کسی طبقے کو ان نشستوں پر اعتراض ہے تو اس کا مناسب راستہ آئینی ترمیم، پارلیمانی بحث اور جمہوری طریقہ کار ہے، نہ کہ ریاستی اداروں پر دباؤ ڈال کر یا سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ کر کے فیصلے تبدیل کرانے کی کوشش۔
سپریم کورٹ کا بنیادی فرض آئین کی تشریح اور اس کا تحفظ ہے، نہ کہ عوامی دباؤ یا وقتی سیاسی جذبات کے مطابق فیصلے صادر کرنا۔ اگر عدالت آئین میں موجود شقوں کو نظر انداز کر دے تو پھر قانون کی حکمرانی کا تصور ہی ختم ہو جائے گا۔ آج اگر ایک مطالبہ عوامی دباؤ کے تحت تسلیم کیا جائے تو کل ہر گروہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے یہی راستہ اختیار کرے گا، جس سے ریاستی نظم و نسق شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔
احتجاجی قیادت کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ مہاجرین کے لیے مختص نشستوں کو ختم کیا جائے، لیکن اس مطالبے کے کئی پہلو ایسے ہیں جو سنجیدہ غور و فکر کے متقاضی ہیں۔ پہلا، یہ نشستیں ایک تاریخی اور سیاسی پس منظر رکھتی ہیں اور انہیں محض ایک سیاسی نعرے کی بنیاد پر ختم کرنا نہ صرف آئینی پیچیدگیاں پیدا کرے گا بلکہ مسئلہ کشمیر کے اس تاریخی بیانیے کو بھی متاثر کر سکتا ہے جس کے تحت مہاجرینِ جموں و کشمیر کو نمائندگی دی گئی تھی۔
دوسرا، اگر کسی آئینی انتظام کو صرف عوامی دباؤ کے نتیجے میں ختم کرنے کی روایت قائم ہو جائے تو یہ ایک خطرناک مثال بن جائے گی۔ اس کے بعد ہر سیاسی یا سماجی گروہ اپنی مرضی کے فیصلے حاصل کرنے کے لیے احتجاج، دھرنوں اور تصادم کا راستہ اختیار کرے گا، جس سے جمہوری ادارے کمزور اور انتشار کو تقویت ملے گی۔
مزید برآں، ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی سیاست کے نتائج کبھی مثبت نہیں ہوتے۔ حالیہ کشیدگی نے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا بلکہ معاشی نقصان، سیاسی عدم استحکام اور سماجی تقسیم میں بھی اضافہ کیا۔ ایسی صورتحال بیرونی دنیا میں آزاد کشمیر کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرتی ہے اور مخالف قوتوں کو یہ پروپیگنڈا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے کہ یہاں سیاسی نظام عدم استحکام کا شکار ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلاف رائے ہر شہری کا حق ہے، لیکن اختلاف اور انتشار میں واضح فرق موجود ہے۔ مطالبات پیش کرنا جمہوری حق ہے، مگر آئین اور ریاستی اداروں کو تسلیم کیے بغیر محض دباؤ کے ذریعے فیصلے تبدیل کرانے کی کوشش ایک خطرناک روایت کو جنم دے سکتی ہے۔
آزاد کشمیر کو اس وقت جذباتی نعروں سے زیادہ آئینی بالادستی، سیاسی برداشت اور جمہوری رویوں کی ضرورت ہے۔ اگر بارہ نشستوں کے نظام میں واقعی خامیاں موجود ہیں تو ان کا حل پارلیمان، آئینی ترمیم اور مکالمے کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ریاستیں سڑکوں پر نہیں بلکہ آئین، قانون اور اداروں کی مضبوطی سے چلتی ہیں، اور یہی راستہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں