گرمیوں کی چھٹیوں میں فیسوں کا ظلم/شیر علی انجم

سندھ حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ کوئی بھی نجی اسکول گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران فیس وصول نہیں کر سکتا۔ خلاف ورزی پر کارروائی اور جرمانہ عائد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ یہ نوٹیفکیشن ہر سال جاری ہوتا ہے، مگر محکمہ تعلیم سندھ کا عملدرآمد صفر کے قریب ہے۔ نتیجہ یہ کہ مارچ کے مہینے سے ہی والدین کو ایڈوانس فیسوں کی ادائیگی کے لیے مسلسل میسیجز اور فون کالز کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
والدین بچوں کی تعلیم کے نام پر اس قدر مجبور ہیں کہ ان کے پاس ادائیگی کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر فیس نہ دی تو بچے کا نام سکول سے کاٹ دیا جائے گا۔ کراچی سمیت سندھ کے شہروں میں نجی تعلیمی ادارے ایک منظم مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی احتساب کرنے والا نہیں۔ ہر محلے میں لاتعداد پرائیویٹ سکول کھل چکے ہیں، مگر تعلیم کا معیار کہیں نظر نہیں آتا۔
اس صورتحال کی بنیادی وجہ سرکاری تعلیمی نظام کی تباہی ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر اسی کی دہائی تک سرکاری سکولوں سے نکلنے والے طلبہ ملک کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ آج وہی نظام بری طرح زوال کا شکار ہے۔ نتیجتاً والدین مجبوراً نجی سکولوں کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں کا کاروبار عروج پر ہے، فیسیں آسمان کو چھو رہی ہیں، مگر نہ تو استادوں کا معیار بہتر ہوا ہے اور نہ ہی بچوں کو حقیقی تعلیم مل رہی ہے۔ اس لوٹ مار کا ایک اور پہلو وین رکشہ والے ہیں۔ وہ بھی باقاعدگی سے دو ماہ کی فیس ایڈوانس وصول کرتے ہیں۔ مہنگائی کے اس بدترین دور میں عام آدمی کے لئے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس ایک اضافی عذاب بن چکی ہے۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ ”کفر کے ساتھ نظام چل سکتا ہے، ظلم کے ساتھ نہیں۔ آج پاکستان کا تعلیمی نظام اسی ظلم کی مثال بن چکا ہے۔ جبکہ یورپ اور امریکہ میں تعلیم کا معیار اور سرکاری نظام کی شفافیت ہم سب کے سامنے ہے۔ وہاں نہ تو چھٹیوں میں فیسیں وصول کی جاتی ہیں اور نہ ہی والدین کو ایسے استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حکومت وقت کو چاہیے کہ محض نوٹیفکیشن جاری کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ نجی سکولوں پر موثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے، فیسوں کی حد مقرر کی جائے اور سب سے بڑھ کر سرکاری تعلیمی اداروں کو بحال کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔ ورنہ یہ لوٹ مار جاری رہے گی اور غریب و متوسط طبقے کے بچوں کا مستقبل تاریک ہوتا چلا جائے گا۔
تعلیم ایک قومی فریضہ ہے، کاروبار نہیں۔ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، ہمارا نظام تعلیم ظلم و استحصال کا شکار رہے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں