اے آئی تھیراپی پر ایک تھیراپسٹ کی رائے/ندا اسحاق

مغرب میں اے-آئی کی ٹیکنالوجی کو انتہائی نفرت کا سامنا ہے، آج تک کسی بھی جدید ٹیکنالوجی کو اس طرح کی نفرت کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا اے-آئی کو ہے۔ میں بذات خود بھی اے-آئی کو استعمال کرنے سے گرہیز کرتی رہی ہوں، کیونکہ مجھے یہ ڈر رہا کہ کہیں اے-آئی مجھ سے میری توجہ کے ساتھ میرے سوچنے کی عادت اور صلاحیت بھی نہ چھین لے۔ اور ساتھ ہی ساتھ ایک عجیب سا ڈر (یا شاید انا) کہ کیا ہم انسان اب خاص اور ذہین مخلوق نہیں رہے، کیا سائنس فکشن فلمیں مستقبل میں سچ ہونے والی ہیں اور کیا اب نالج کے پیشے سے تعلق رکھنے والوں کی کوئی جگہ باقی نہیں رہی!!

مغرب اس وقت دو گروہوں میں تقسیم ہے، ایک اے-آئی کو سراہتا ہے، پرامید ہے کہ یہ ایک شاہکار بن کر ابھرنے والا ہے، جبکہ دوسرا گروہ اسے ایک ببل مانتا ہے جو آگے جاکر پھٹ جائے گا اور اس ٹیکنالوجی کا اتنا زیادہ اثر نہیں جتنا بڑے سرمایہ دار اپنے پروڈکٹ فروخت کرنے کے لیے ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اب ان میں سے کون صحیح ثابت ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا، البتہ تیسری دنیا کے ممالک میں بسنے والے تنقیدی اور پیچیدہ تجزیوں سے دور ہماری عوام اس ٹیکنالوجی سے لطف اندوز ہورہی ہے، انہیں اپنی قومی زبان میں بہت کچھ جاننے اور سمجھنے کا موقع مل رہا ہے۔

کئی لوگ اے-آئی سے اپنے ذہنی مسائل اور نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں، اسے اپنے پرسنل تھراپسٹ کے عہدے پر براجمان کیے بیٹھے ہیں….. لیکن کیا اے-آئی کسی تھراپسٹ کی جگہ لے سکتا ہے؟؟؟

جواب ہے…. ہاں اور نہیں بھی۔

پہلے ”ہاں“ کی وضاحت کریں گے اور پھر ”اور نہیں بھی“ پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

ہاں! اے-آئی کے پاس دنیا کے کسی بھی بہترین سے بہترین تھراپسٹ سے کئی گنا زیادہ نالج اور علم ہے، بلکہ نالج کے زمرے میں موازنہ کرنا ہی بیکار ہے۔

دوسرا یہ کہ اے-آئی تھراپسٹ کچھ اس طرح سے ڈیزائن ہوا ہے کہ وہ ”تنقید“ نہیں کرتا (اگر آپ تنقیدی پرامپٹ لکھیں تو پھر وہ تھوڑی بہت تنقید کرسکتا ہے)، جج نہیں کرتا، ناراض نہیں ہوتا، لامحدود ہمدردی اور توثیق آپ کو اے-آئی تھراپسٹ سے مل سکتی ہے جو کہ کوئی انسان نہیں دے سکتا (کیونکہ انسانوں کی حدود ہوتی ہیں تبھی اس نے لامحدود ہمدردی دینے والی مشین ایجاد کرلی)۔

انسان تھراپسٹ کے ساتھ سیشن بہت پیچیدہ، غیر یقینی اور غیر متوقع ہوسکتا ہے۔ ایک تھراپسٹ جس کے پاس صرف ڈگری ہے لیکن خود-آگاہی اور ہمدردی نہیں تو وہ کلائنٹ کی مدد کرنے کے بجائے اس کی خود-اعتمادی کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ لیکن اے-آئی تھراپسٹ سے آپ کو اس قسم کا کوئی خوف نہیں۔ انسان تھراپسٹ کی نسبت اے-آئی تھراپسٹ ہر وقت اور ہر جگہ دستیاب ہے اور فری بھی (ویسے انسانوں کو فری کی چیزوں کی قدر نہیں ہوتی، جب وہ کسی چیز کی قیمت ادا کرتے ہیں تو ہی انہیں اسکی قدر ہوتی ہے)

اے-آئی کسی بھی پروفیشنل تھراپسٹ کا ایک اچھا اسسٹنٹ ہوسکتا ہے……. غور فرمائیے گا کہ میں نے لفظ ”اسسٹنٹ“ استعمال کیا۔ کیونکہ سمجھنے، سننے ،محسوس کرنے، تجزیہ کرنے اور پیٹرن کو نوٹ کرنے کا انتھک محنت والا کام تھراپسٹ کے دماغ کو خود ہی کرنا ہوگا تو ہی تو وہ اے-آئی کو ایک اچھے اسسٹنٹ کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔

اب بات کریں گے ”اور نہیں بھی“ پر…. کہ آخر اے-آئی تھراپسٹ کیوں آپ کے ذہنی مسائل کا علاج نہیں کرسکتا؟؟ اور یہی سب سے اہم حصہ ہے اس آرٹیکل کا۔

اے-آئی کے لیے ”پرامپٹ“ ایک اِن-پٹ کا کام کرتا ہے اور اسی کی بنیاد پر آپ کو آؤٹ-پٹ نالج کی شکل میں ملتا ہے۔ آپ جتنا پیچیدہ، تنقیدی اور سوچ بچار کے بعد وضاحت کے ساتھ پرامپٹ ڈالیں گے اتنا بہتر طور پر اے-آئی آپ کو جواب دے گا۔ اگر آپکا پرامپٹ جانبدار اورسطحی ہے تو جواب بھی عموماً ویسا ہی آتا ہے۔ اسکا مطلب یہی کہ جو لوگ ”تصدیقی تعصب“ (confirmation bias) کا شکار ہیں انکو اے-آئی اس چکر (loop) میں پھنسا سکتا ہے اور یوں اپنے مسائل کو حل کرنا بہت مشکل ہوسکتا ہے۔

ایک اور اہم بات جو قابلِ غور ہے وہ یہ کہ میں نے جتنی بھی کوشش کی اے-آئی کو اپنے پرامپٹ سے تنقیدی بنانے کی لیکن اس کو ڈیزائن ہی کچھ اس طرح سے کیا گیا ہے کہ وہ پھر بھی آپ کو توثیق اور بلا وجہ کی ہمدردی (یا چاپلوسی زیادہ بہتر لفظ ہے) دینے سے باز نہیں آتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ مجھے اے-آئی کے اس فیچر سے اکتاہٹ ہونے لگی۔ کیونکہ ایک انسان تھراپسٹ کی ہمدردی کی حد ہوتی ہے اور خود-آگاہ تھراپسٹ کو ادراک ہوتا ہے کہ کہاں ہمدردی جبکہ کہاں کلائنٹ کو اس کو خود کو تباہ کرنے سے بچانے کے لیے آئینہ دکھانا یا حقیقت سے روشناس کروانا ہے، چاہے کلائنٹ کو اچھا لگے یا برا، تھراپسٹ اس سے ماورا کلائنٹ کو لونگ-ٹرم میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں سوچتا ہے۔

اور سب سے اہم بات جسکا کوئی نعم البدل نہیں وہ ہے ہمارا جسم اور نروس سسٹم…..

انسان بھی ایک مشین کی مانند ہے، لیکن یہ مشین اے-آئی سے بہت مختلف طریقے سے کام کرتی ہے۔

مائنڈ اور باڈی کا امتراج ہے انسان۔

جس میں مائنڈ تو آزاد ہے البتہ جسم کی حدود ہیں۔ اس جسم میں ہی ذہن قید ہے اور یوں کہیں کہ جسم ہماری نفسیات (ذہن) کی جیل ہے۔

جب انسان کا بچہ دنیا میں آتا ہے تو وہ اکیلے نہیں رہتا، اسکا جسم اور ذہن دونوں ایک ماحول میں مختلف انسانوں کے ساتھ نشونما پاتے ہیں، ہماری ذات (self) تعلقاتی (relational) ہوتی ہے، ہم دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلقات اور باہمی تعامل کے ذریعے خود کی شناخت بناتے ہیں۔ اور اس عمل میں ایک بہت بڑا کردار ہمارے نروس سسٹم کا ہوتا ہے، ہمارے والدین کے نروس سسٹم میں اگر انزائٹی ہے تو ہمارا نروس سسٹم بھی اس انزائٹی کو محسوس کرتا ہے اور ہم بنا کسی وجہ کے انزائٹی میں رہتے ہیں۔ بلکل یونہی اگر والدین اور ارد گرد کے ماحول میں ہمیشہ نہ سہی البتہ زیادہ تر استحکام ہو تو بچوں کا نروس سسٹم زیادہ تر نارمل رہتا ہے اور ہر وقت خطرہ نہیں تلاشتا۔

لیکن چونکہ اے-آئی کے پاس نروس سسٹم اور باڈی نہیں ہے، تبھی اگر آپ کو انزائٹی ہے یا آپ کا نروس سسٹم غیر منظم (nervous system dysregulation ) ہے تو آپ صرف نالج سے اپنے جسم کو ریلیکس نہیں کرسکتے کیونکہ…..

”اے-آئی کی ہمدردی ”الفاظ“ پر مشتمل ہے جبکہ ہماری باڈی اور نروس سسٹم ”الفاظ“ نہیں بلکہ ”احساسات“ (sensation) کی زبان سمجھتے ہیں۔“

مثال کے طور پر ایک تھراپسٹ اپنے کلائنٹ کو بہت ہمدردانہ الفاظ کہتا ہے لیکن تھراپسٹ کی باڈی کے مسلز سخت ہیں، دماغی طور پر غائب، دل کی دھڑکن تیز مطلب یہی کہ انزائٹی ہے تو الفاظ کی اتنی تاثیر نہیں ہوگی……

جب تک تھراپسٹ کا نروس سسٹم خود منظم نہیں تب تک وہ کلائنٹ کی انزائٹی کو پراسس کرنے میں مدد نہیں کرسکتا۔ کوئی تکنیک، کسی بھی قسم کی انٹروینشن زیادہ دیر کارآمد نہیں ہوسکے گی۔

میں اپنے کلائنٹ کے ساتھ ”سومیٹک تھراپی“ (somatic therapy) کرتی ہوں، یہ بہت گہری، شدید (intense) البتہ طاقتور تھراپی ہوتی ہے۔ اس میں الفاظ نہیں بلکہ ”احساسات“ یعنی کہ ”باڈی سنسیشن“ پر غور کیا جاتا ہے۔ شروعات میں آپ کا کلائنٹ غور نہیں کرسکتا اور یہ تھراپسٹ کا کام ہوتا ہے کہ وہ کیسے اس تھراپی کو انجام دیتا ہے۔

اب اے-آئی آپ کو نالج یا انفارمیشن تو دے سکتا ہے لیکن ایک منظم نروس سسٹم (regulated nervous system) نہیں دے سکتا جس کے ساتھ بیٹھ کر آپ اپنی انزائٹی کو پراسس کرسکیں کیونکہ جذبات الفاظ نہیں بلکہ نروس سسٹم ریگولیشن اور نروس سسٹم کو-ریگیولیشن (nervous system co-regulation) سے پراسس ہوتے ہیں۔

وہ تھراپسٹ جسکا نروس سسٹم منظم نہیں، جس نے تھراپی روم میں خود آنسو نہیں بہائے، خود کے جذبات کو پراسس کرنا نہیں سیکھا اس سے بہتر ایک اے-آئی تھراپسٹ ہے کیونکہ نالج میں اے-آئی سے مقابلہ نہیں، اور نروس سسٹم منظم نہیں، تو پھر اے-آئی ہی بہتر ہوا جس کے پاس کم از کم نالج، انفارمیشن اور لفظی جھوٹی ہی سہی پر ہمدردی ہے تو!!

اگر آپ کو نفسیات کی سمجھ ہے اور آپ اے-آئی کا سہارا لیتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں، بہت کارآمد ہے اس نئی ٹیکنالوجی سے خود-آگاہی کو حاصل کرنا، لیکن آگاہی پہلا قدم ہے اور اس کے آگے ایک لمبا سفر ہے اس آگاہی اور ادراک کو اپنے جسم اور نروس سسٹم میں ضم (integrate) کرنے کا، کیونکہ ہم ذہن اور جسم کا امتزاج ہیں، اور جسم کو الفاظ اور انفارمیشن کے ساتھ ایک منظم اور ہمدرد نروس سسٹم کی ضرورت پڑتی ہے۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف تھراپسٹ ہی جذبات کر پراسس کرنا جانتے ہیں اور وہی سکھا سکتے ہیں؟؟

ہرگز نہیں، آپ کے گھر میں موجود افراد، آپ کے دوست، بچے اور ہمسفر کو-ریگیولیشن (co-regulation) میں مدد کرتے ہیں۔ لیکن اگر گھر میں ہی مسائل ہیں پھر وہاں تھراپسٹ ایک متبادل کی شکل میں موجود ہوتا ہے، آپ تھراپی میں سیکھتے ہیں اپنے جذبات احساسات سوچوں کا اظہار کرنا انہیں محسوس کرنا، اپنی حقیقی شخصیت کے ساتھ جڑنااور پھر اپنے رشتوں میں اپلائی کرنا، کیونکہ وہ مخلوق جسے انسان کہتے ہیں اسکی زندگی میں رشتوں سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔

مجھے علم نہیں کہ اس آرٹیکل میں جو بھی میں نے کہا ہے وہ میں ٹھیک سے بیان کرسکی یا نہیں، یا پھر لوگ اسے سمجھ سکے یا پھر نہیں، البتہ اپنا تجربہ شیئر کرنے کا دل کررہا تھا سو یہ آرٹیکل لکھ دیا!

اپنا تبصرہ لکھیں