امارات کا نقاب الٹ چکا/محمد فاروق نتکانی

حضراتِ گرامی! مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے افق پر ایک ایسا برقِ بے اماں کوندی ہے جس نے عرب سفارت کاری کے تمام خوش نما نقاب تار تار کر دیے ہیں۔ کل تک جو ریاست اپنے آپ کو غیر جانبداری، اعتدال اور امن پسندی کا مینار قرار دیتی تھی، آج اس کے دامن سے بارود کی بو اور جنگی مہم جوئی کی گرد جھڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ جن ایوانوں میں امن کے کبوتر اڑائے جاتے تھے، وہاں سے اب جنگی عقابوں کی پرواز کے قصے سنائی دے رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے انکشافات نے اس راز سے پردہ اٹھایا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی و صہیونی یلغار میں متحدہ عرب امارات محض ایک خاموش ناظر نہیں تھا بلکہ میدانِ کارزار کا سرگرم شریک اور عرب دنیا کا واحد باقاعدہ جنگی فریق تھا۔

دنیا حیرت سے پوچھتی رہی کہ آخر ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کا رخ بار بار امارات کی طرف کیوں مڑتا ہے؟ آخر ابوظہبی اور دبئی کیوں آتشِ انتقام کی زد میں آ رہے ہیں؟ اماراتی حکمران مسلسل قسمیں کھاتے رہے کہ وہ اس جنگ میں محض تماشائی ہیں، لیکن تاریخ کے سینے میں چھپے راز ہمیشہ پوشیدہ نہیں رہتے۔ اب جو حقائق منظرِ عام پر آئے ہیں، انہوں نے اس مصنوعی غیر جانبداری کے طلسم کو چکنا چور کر دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں سے لے کر جنگ بندی کے اعلان تک اماراتی فضائیہ ایران کے حساس مقامات پر بمباری کرتی رہی اور عرب دنیا کا یہ ننھا سا شیخ نشین، امریکی و اسرائیلی منصوبہ بندی کا ایک فعال مہرہ بنا رہا۔

یہ انکشاف بھی کم ہولناک نہیں کہ ایران کے توانائی کے مراکز، تیل کی تنصیبات اور معاشی شہ رگوں کو نشانہ بنانے میں اماراتی طیارے پیش پیش تھے۔ قشم کے ساحل ہوں یا ابو موسیٰ کا جزیرہ، بندر عباس ہو یا العسلویہ کا صنعتی خطہ، ہر جگہ بارود کی گونج سنائی دی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خلیج کی ریت پر صرف توپیں نہیں چل رہیں بلکہ مستقبل کی جغرافیائی سیاست کے نقشے بھی ازسرِ نو کھینچے جا رہے ہیں۔ عرب دنیا کے بعض حکمران شاید یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ایران چند روز کی بمباری کے بعد گھٹنے ٹیک دے گا اور فتح کے تاج ان کے سروں پر سجا دیے جائیں گے، مگر تاریخ کا مزاج درباری خوش فہمیوں سے نہیں بدلتا۔

اس مہم جوئی کے پس منظر میں تین محرکات صاف دکھائی دیتے ہیں۔ پہلا محرک وہی پرانی غلامانہ وفاداری ہے جو واشنگٹن کے دربار سے وابستگی کے بغیر اپنی بقا کا تصور نہیں کرتی۔ امریکی اڈوں کے سائے میں پروان چڑھنے والی ریاست نے شاید یہ سمجھا کہ اپنی وفاداری کا سب سے بڑا ثبوت میدانِ جنگ میں کود پڑنا ہے۔ دوسرا محرک ان متنازع جزائر کی دیرینہ ہوس تھی جن پر برسوں سے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ بعض حلقوں کو گمان تھا کہ جنگ کی افراتفری میں وہ اپنے علاقائی خوابوں کو حقیقت کا جامہ پہنا سکیں گے۔ تیسرا محرک خلیج کی قیادت کا وہ خواب تھا جو عرصۂ دراز سے بعض حکمرانوں کی آنکھوں میں مچل رہا ہے؛ ایک ایسا خواب جس میں ریاض کا سایہ سمٹ جائے اور ابوظہبی مرکزِ اقتدار بن کر ابھرے۔

لیکن اقتدار کے خواب اکثر بارود کے دھوئیں میں گم ہو جایا کرتے ہیں۔ ایران نے جس شدت کے ساتھ جوابی کارروائی کی، اس نے تمام حساب کتاب الٹ کر رکھ دیا۔ وہ ریاست جو دوسروں کے لیے میدانِ جنگ سجانے نکلی تھی، خود نشانے پر آ گئی۔ میزائلوں کی گھن گرج، ڈرونوں کی یلغار اور سرمایہ کاروں کی بھگدڑ نے اس معاشی جنت کے چہرے پر تشویش کی گہری لکیریں کھینچ دیں۔ بلند و بالا عمارتوں، شاندار تجارتی مراکز اور سیاحتی خوابوں کے نیچے خوف کی ایک لرزتی ہوئی زمین محسوس ہونے لگی۔

سیاسی اعتبار سے بھی صورتِ حال کم عبرت ناک نہیں۔ عرب اخوت کے دعوے آزمائش کی گھڑی میں بکھرتے دکھائی دیے۔ جن برادر ممالک سے یکجہتی کی امید تھی، انہوں نے فاصلے اختیار کیے۔ اور وہ طاقتیں جن کے اشاروں پر یہ سارا کھیل کھیلا گیا، اپنے مفادات کے حصار میں محفوظ رہیں۔ تاریخ کا یہ سبق ایک بار پھر دہرایا گیا کہ بڑی طاقتوں کے شطرنجی کھیل میں مہرے قربان ہوتے ہیں، بادشاہ نہیں۔

یہ واقعہ محض ایک ریاست کی سیاسی لغزش نہیں بلکہ عصرِ حاضر کی بین الاقوامی سیاست کا ایک خونچکاں استعارہ ہے۔ جو قومیں اپنی قومی حکمت کو دوسروں کی خواہشات کے تابع کر دیتی ہیں، وہ بالآخر اپنے ہی ہاتھوں اپنی بنیادوں میں بارود بھر دیتی ہیں۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے حکمران شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ جنگ کا شعلہ جب بھڑکتا ہے تو وہ سرحدوں، معاہدوں اور سفارتی بیانات کا احترام نہیں کرتا۔

آج اگر ابوظہبی اور دبئی کے افق پر دھواں اٹھا ہے تو یہ صرف ایک جنگ کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس سیاسی فلسفے کی ناکامی کا اعلان ہے جو قومی مفاد کو بیرونی آقاؤں کی خوشنودی پر قربان کر دیتا ہے۔ تاریخ کے اوراق پر یہ داستان ایک نئے باب کے طور پر درج ہو رہی ہے؛ ایک ایسا باب جو آنے والی نسلوں کو یاد دلائے گا کہ جو قومیں دوسروں کی جنگوں میں کرائے کے سپاہی بن جاتی ہیں، وہ فتح کے ترانے نہیں، عبرت کے نوحے ورثے میں پاتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں