پاکستانی جامعات میں لسانی مہارتوں کی موت/قاسم یعقوب

سامراجی غاصبیت کو مغرب میں بیٹھ کر مغرب میں سمجھانے والے تین بھارتی نظریہ ساز مفکر گائیتری، بھابھا اور چیٹر جی ۔ تینوں امریکہ کی یونیورسٹیوں سے وا بستہ رہے۔ امریکہ سے شہرت لی، وہیں پڑھایا اور وہیں زندگی بسر کی۔ گائیتری اور چیٹر جی دونوں ہندو تھے اور ان کی مادری زبان بنگلہ تھی جب کہ ہومی بھابھا پارسی تھے اور ان کی مادری زبان ہندی یا گجراتی ۔ (تھے ، نہیں بلکہ ہیں ۔ تینوں حیات ہیں ابھی)
بھابھا نے ممبئی سے تعلیم حاصل کی ۲۱، ۲۲ کی عمر میں آکسفرڈ آ گئے۔ یہیں سے پی ایچ ڈی کی اور پھر یہیں برطانیہ میں پڑھانے لگے۔ گائیتری اور پارتھا چیٹر جی نے بھی ابتدائی تعلیم کلکتہ سے حاصل کی اور پھر امریکہ وارد ہوئے۔ تینوں انگریزی زبان و ادب کے باقاعدہ طالب علم تھے۔
یہ کیسا اتفاق ہے کہ یہ کالونئیل ادوار پر لکھنے والے انھی ملکوں کے غاصبوں کے ساتھ، ان کے دیش میں رہ کر نوآبادیاتی نظریات پیش کرتے رہے۔تینوں اگرچہ امریکہ گئے ابھی تک وہیں رہ رہے ہیں مگر تینوں نے اپنے وطن سے رابطہ منقطع نہیں کیا، ان کے خاندان رشتہ دار بہن بھائی، ماں باپ یہیں بھارت میں مقیم ہیں۔ ان کی شناخت اور جڑیں یہیں موجود ہیں۔ تینوں کے والدین یہیں بھارت ہی میں وفات پاتے ہیں اور انھی دریائوں میں ان کی خاک بہائی جاتی ہے۔

گایئتری اپنے بارے میں بتاتی ہیں کہ جب پی ایچ ڈی کرنے کے بعد انھیں نوکری چاہئے تھی تو انھوں نے امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی پریس کی طرف سے بہت کم پیسوں میں ترجمہ کرنے کا اشتہاردیکھا۔ یہ دریدا کی مشہور کتاب'” آف گریماٹالوجی ‘‘ کا تھا۔ گائیتری نے جیسے تیسےاس کا ترجمہ کیا اور ایک طویل مقدمہ بھی لکھا۔ یوں گائیتری کو خوب شہرت ملی۔ بلکہ نوکریاں ملنے لگیں۔گائتیری نے جب دریدا کا فرانسیسی سے ترجمہ کیا اس وقت ان کی عمر صرف ۲۵ سال تھی۔آپ کو شاید حیرانی ہو کہ بھابھا اور گائتری دونوں فرانسیسی زبان جانتے تھے۔ امریکہ اور برطانیہ میں تقابلی ادب کے لیے دونوں کو ایک نئی زبان سیکھنی پڑی۔ دونوں نے اپنے پی ایچ ڈی مقالات کے لیے یہ زبان سیکھی۔ بھابھا تو جرمن کی بھی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔
ہمارے ہاں پاکستان کے تعلیمی ماحول اکیڈیمیا میں ایسا کوئی رواج نہیں ۔ ہمارے ہاں انگریزی زبان کے علاوہ کوئی دوسری زبان نہیں سکھائی جاتی۔ اگرچہ جامعات کے دوسرے ملکوں کی جامعات یا ایمبیسیوں سے ایم او یو تو بہت سائن ہوتے ہیں مگر کسی بھی ملک کی کوئی بھی زبان ہماری جامعات کے لازمی نصاب کا حصہ نہیں۔ لازمی نصاب سے یہ مراد نہیں کہ ہر کوئی وہ زبان پڑھے ورنہ فیل کر دیا جائے گا۔ اس سے مراد ہے کہ کسی خاص شعبے میں مہارت کے لیے ایک نئی زبان سیکھنے کی ضرور ت کو جامعہ میں متعارف کروایا جاءے۔ لمز نے مقامی اور روایتی زبانوں کے علاوہ سنسکرت کو پڑھانا شروع کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر یہاں فرانسیسی، اٹلیئن ، ترکی یا سپینش وغیرہ کو پڑھای جائے یا افریقی اور ایشیاءی زبانوں کو سکھایا جاءے۔ اس کے لیے لازمی نہیں کہ زبانوں کے مراکز کھولے جائیں بلکہ ان زبانوں میں مہارتوں کو فروغ دیا جائے اور ان کی سکالرشپ کو باوقار کیا جائے۔ ہمارے سامنے جب فرانسیسی زبان سیکھنے کی مہارت کے فائدے نظر آئیں گے تو خود بخود اسے علمی درجہ ملے گا۔ تحقیق کے مواقع کھلیں گے۔ سکالر خود نئی زبان سیکھے گا اور اس میں موجود تحقیق کے بند در کھولے گا۔
زبان کا سیکھنا محض زبان کے الفاظ تک آشنائی نہیں ہوتا ، بلکہ غیر شعوری طور پر ایک اور انسانی ورثے کا خزانہ ملنا ہے۔ گائیتری کہتی ہے کہ جب انھوں نے ترجمہ مکمل کر لیا اور اس کا طویل مقدمہ لکھا، تب جا کر انھیں اندازہ ہوا کہ انھوں نے نادانستہ طور پر بیسویں صدی کے سب سے مشکل فلسفی کا ترجمہ کر ڈالا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ دریدا کتنا بڑا اور پیچیدہ فلسفی ہے، تو میں خوف کے مارے کبھی اس کتاب کو ہاتھ نہ لگاتی۔ یعنی زبان فکری سفر بھی ہے۔ ایک زبان اپنے دروازوں سے گزرنے کے بعد علم و فکر کے راستے کھول دیتی ہے۔
ہمارے ہاں زبانوں کے حوالے سے زبان سیکھنے کے عمل سے زیادہ محض نمائشی پرکٹس ہے۔ فارسی،عربی ، انگریزی یا دیگر غیر مقامی زبانیں کتنے لوگوں کو آتی ہیں۔ حالاں کہ یہ زبانیں نصاب میں شامل ہیں۔ حتیٰ کہ مختلف مقامی زبانیں بولنے والے ایک ہی شہر بلکہ ایک ہی محلے میں رہنے کے باوجود ہمیں ایک دوسرے کی زبان نہیں جانتے۔
سچی بات کی جائے تو زبانوں کا علم ہمارے ہاں بےکار سرگرمی قرار دے کر اکیڈیمیا سے نکال دیا گیا ہے۔
بلکہ اس کی وفات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

بشکریہ فیسبک وال

اپنا تبصرہ لکھیں