سپنے سچے ہو سکتے ہیں/ادیب یوسفزئی

اس کی ماں نے فیفا ورلڈ کپ میں اپنے بیٹے کو کھیلتا دیکھنے کے لیے ٹکٹ کا انتظام کر لیا تھا لیکن وہ ویزا کے اخراجات برداشت نہ کر سکی اور امریکہ جانے کی بجائے ٹی وی پر ہی میچ دیکھتی رہی لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کا بیٹا اس میچ میں تاریخ ساز کردار نبھانے والا ہے۔

40 سالہ فٹبال وزینیا کی ماں سفر کی تیاری کر چکی تھی لیکن امریکہ کا ویزا نہ مل سکا۔ امریکی حکومت نے جنوری 2026 میں کیپ وردے سمیت کئی ممالک کے شہریوں پر 15 ہزار ڈالر تک کا واپسی ضمانتی بانڈ عائد کر دیا تھو جو ویزا فیس کے علاوہ تھا۔ وزینیا کی ماں کے لیے یہ اخراجات ناقابل برداشت تھے۔ چنانچہ وہ گھر بیٹھ کر ٹی وی سکرین دیکھتی رہی۔

دوسری طرف اٹلانٹا کے میدان میں ان کا بیٹا یورپی چیمپئن سپین کے سامنے دیوار بن کر کھڑا تھا۔ کیپ وردے مغربی افریقہ کے ساحل کے قریب بحر اوقیانوس میں واقع دس آتش فشاں جزیروں پر مشتمل ملک ہے۔ اس ملک کے لیے یہ پہلا فیفا ورلڈ کپ ہے اور یہ تاریخ کا تیسرا سب سے چھوٹا ملک ہے جس نے کبھی ورلڈ کپ میں شرکت کی۔

وزینیا کا اصل نام جوزیمار جوزے ایورا دیاس ہے۔ ان کے والد انہیں ریال میڈرڈ کے ارجنٹائنی سٹرائیکر ہورخے والدانو کے نام پر رکھنا چاہتے تھے لیکن حکام نے اجازت نہ دی۔ یوں انہیں ‘وُزینیا’کہا گیا جس کا پرتگالی زبان میں مطلب ہے ‘چھوٹی آواز’۔ زندگی کا عجیب طنز دیکھیے، ‘چھوٹی آواز’ والے اس کھلاڑی کی آواز 15 جون کی شام پوری دنیا میں سنائی دی۔

وزینیا منڈیلو شہر میں پیدا ہوئے۔ ابتد میں سٹرائیکر بننا چاہتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ گول کیپنگ کی راہ اختیار کی۔ انہوں نے 25 برس کی عمر میں پیشہ ورانہ فٹ بال میں قدم رکھا۔ پرتگال، سلوواکیہ اور قبرص کے مختلف کلبوں میں کھیلتے ہوئے انہوں نے قبرص میں اے ای ایل لیماسول کے ساتھ 2019 میں قبرص کپ جیتا جو ان کے کیریئر کا واحد بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ آج وہ پرتگال کی دوسری ڈویژن کے کلب شاویش میں کھیلتے ہیں اور ان کی مارکیٹ ویلیو صرف 40 ہزار یورو تک گئی ہے۔

فٹبال کو ریگولر دیکھنے والے دوستوں سے بات کر کے دیکھیں آپ کو معلوم ہوگا کہ اتنی رقم بڑے کلبوں میں کھلاڑیوں کے جرابوں پر خرچ ہوتی ہے لیکن اس رات اٹلانٹا میں اس ‘سستے’ گول کیپر نے دنیا کے دوسرے نمبر کی ٹیم کو صفر پر روکے رکھا۔

سپین نے پورے میچ میں 27 شاٹس لگائے، ٹیم میں لامین یامال، پیدری اور فیران ٹوریس جیسے سٹارز تھے۔ آخری 20 منٹ میں کوچ نے یامال، ڈینی اولمو اور نیکو ولیمز کو بھی میدان میں اتارا لیکن وزینیا کی دیوار نہ توڑ سکے۔

وزینیا نے اس دوران سات شاٹس روکے۔ یہ سپین کے تمام سات آن ٹارگٹ شاٹس تھے۔ فلیش سکور نے انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیتے ہوئے 8.8 ریٹنگ دی۔

تاریخی اعتبار سے وزینیا اپنے ورلڈ کپ ڈیبیو میں کلین شیٹ رکھنے والے سب سے عمر رسیدہ گول کیپر بنے اور 1966 کے بعد پہلے گول کیپر جنہوں نے چالیس یا اس سے زائد عمر میں ورلڈ کپ میچ میں کم از کم سات سیوز کیے۔

فیفا رینکنگ میں 66ویں نمبر کی ٹیم کا دوسرے نمبر کی ٹیم کے خلاف یہ ڈرا ورلڈ کپ کی تاریخ کا چوتھا سب سے بڑا اپ سیٹ قرار پایا ہے۔ اور جب آخری سیٹی بجی تو وزینیا اپنے گول کے قریب جھک کر رو پڑے۔ ان کے ساتھی دوڑ کر آئے اور انہیں گھیر لیا۔ کوچ بوبستا نے کہا ‘وزینیا جذبات سے مغلوب تھے۔ انہوں نے یہاں تک پہنچنے کے لیے بہت بڑی قربانیاں دی ہیں۔ یہ استقامت کے آنسو تھے۔ یہ لمحہ پورے ملک کے لیے سب کچھ ہے۔ ہم نے ہمیشہ کہا تھا کہ ہم چاہتے ہیں پوری دنیا ہماری ٹیم کو کھیلتے دیکھے’

میچ کے بعد وزینیا نے صحافیوں سے کہا ‘میری ماں بھی ویزا کی وجہ سے نہ آ سکی کیونکہ ہم اخراجات بروقت پورے نہ کر سکے۔’ انہوں نے مزید کہا ‘میں میچ کے بعد اس لیے رو پڑا کیونکہ میں اپنے دادا دادی کے ساتھ پلا بڑھا تھا۔ وہ چند سال پہلے دنیا سے چلے گئے اور اس تاریخی لمحے میں موجود نہ تھے۔’

یہ دو جملے سن کر یقیناً ایک عام انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ ایک شخص جو پوری دنیا کا ہیرو بن گیا لیکن جن آنکھوں کی اسے ضرورت تھی وہ وہاں موجود نہ تھیں۔ ماں گھر بیٹھی تھی۔۔ دادا دادی چل بسے تھے۔

میچ سے پہلے وزینیا کے انسٹاگرام پر 45 ہزار فالوورز تھے۔ میچ کے بعد یہ تعداد تیزی سے بڑھ کر لاکھوں میں جا پہنچی۔ اس وقت ان کے فالورز 8.6 ملین ہیں۔ یہاں تک کہ برازیل کے نشریاتی ادارے کیز ٹی وی نے اپنے ناظرین سے وزینیا کو فالو کرنے کی اپیل کی۔

وزینیا نے کوالیفکیشن کے وقت کہا تھا ‘میں بچپن سے یہ خواب دیکھ رہا ہوں۔’ اور پھر 15 جون کی رات انہوں نے پوری دنیا کو بتایا کہ چالیس سال کی عمر میں بھی خواب پورے ہوتے ہیں۔

فٹ بال آج سرمائے کا کھیل بن چکا ہے۔ بڑے کلب اربوں خرچ کرتے ہیں۔ کھلاڑی برانڈ بنتے ہیں۔ لیکن اس دوران کبھی کبھار کوئی وُزینیا آتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ اس کھیل کی بنیاد آج بھی جذبے اور قربانی پر قائم ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں