اس کی عمر صرف نو سال تھی،گڑیوں سے کھیلنے کی عمر، ویڈیو گیمز سے دل لگانے کی عمر، اورفروزن کی ‘ایلسا’ اورانا جیسی شہزادیوں کے خواب دیکھنے کی عمر۔ اسے پاکستان سے والہانہ محبت تھی، کیونکہ گھر والوں نے اس کے معصوم ذہن پر اپنے وطن کا نقش ہی ایسا بٹھایا تھا۔ پاک لوگوں کی دھرتی، ایک محفوظ پناہ گاہ، جہاں اس کی دادی رہتی تھیں اور جہاں اس کے ماموں تھے۔ وہ اکثر سوچتی کہ جب وہ وہاں جائے گی تو اپنے ددیال اور ننیال سے ملے گی، کتنی رونق ہوگی!
والدین چاہے آسٹریلیا میں سول انجینئرنگ اور میڈیکل جیسے معزز شعبوں سے وابستہ تھے، اور آسٹریلیا بھلے ہی اپنی خوبصورتی، بلند و بالا عمارتوں اور امارت میں اپنی پہچان رکھتا تھا، لیکن ہانیہ کے ذہن میں یہی ڈالا گیا تھا کہ جو تحفظ، جو شناخت اور جو اپنائیت پاکستان میں ہے، وہ دنیا کے کسی اور کونے میں نہیں۔ ہم مسلمان ہیں، ہم اب حج پر بھی جائیں گے اور پھر تمہیں اور تمہارے بھائی کو پاکستان لے جا کر سب سے ملنے کا موقع ملے گا۔
کلاس میں اس کی ٹیچر نے شاید اسے یہی موضوع دیا ہوگا کہ “جب اب تم پاکستان جاؤ، تو اس سفر پر ایک مضمون لکھ کر لانا۔” اس نے اپنی سہیلیوں کو بھی فخر سے بتایا ہوگا کہ “پاکستان پاک لوگوں کی زمین ہے، میں تمہیں واپس آ کر بتاؤں گی کہ وہاں کی ہوا میں کتنا پیار ہے اور وہاں کے ماحول میں کتنا لمس ہے!”
پھر وہ دن آیا… وہ سب ایک گاڑی میں سوار اپنے کسی رشتہ دار کے گھر جا رہے تھے۔ گاڑی ابھی پارک ہی کی تھی کہ موٹر سائیکل پر سوار ڈاکو آ گئے۔ وہ ان سے سامان اور زیورات لوٹ رہے تھے کہ حفاظت کے نام پر بھرتی کیے گئے مبینہ قاتلوں (پولیس) نے اس گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ ڈاکو تو بھاگ کھڑے ہوئے، اور خوف کے مارے ہانیہ کے والد نے بھی گاڑی آگے دوڑا دی۔ لیکن قانون کے رکھوالوں نے مبینہ طور پر ایسی ‘مستعدی’ دکھائی کہ گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی، جیسے اس کے اندر کوئی خطرناک دہشت گرد بیٹھے ہوں۔
گولیوں کی اس سنسناہٹ میں ہانیہ کا معصوم بھائی بھی زخمی ہوا، جو اسی کی طرح ایک کم سن بچہ تھا۔ اس کے باپ کو بھی گولیاں لگیں، اور اس کی ماں وحشت زدہ آنکھوں سے گولیوں کی اس برسات کو دیکھ رہی تھی جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ وہ معصوم بچی، جو پنجاب کی مٹی دیکھنے آئی تھی، اس کے ننھے سے سینے پر پانچ گولیاں لگیں۔ وہ پانچ دریاؤں کی سرزمین پر آئی تھی، اس پنجاب میں جس کی فضاؤں میں پنجاب کے پانچ دریاؤں کے پانی جیسی مٹھاس ہے ، جو محبت اور اپنائیت کا دوسرا نام ہے، مگر اسے یہاں اپنائیت کے بدلے پانچ گولیاں ملیں۔ جب وہ آخری سانسیں لے رہی ہوگی، تو وہ سب کچھ سوچ رہی ہوگی… اپنے خواب، اپنی سہیلیاں اور وہ مضمون جو اسے لکھنا تھا!
آج ہانیہ کی اس المناک موت کا ذمہ دار کون ہے؟ وہ ڈاکو جنہوں نے اس کی فیملی سے چند ٹکڑے سونا چھیننے کی کوشش کی، یا وہ سی سی ڈی والے جنہیں ہم نے تحفظ کا مان دیا تھا، مگر وہ اتنے بے حس ہو گئے کہ انہیں ملزم، مجرم اور بے گناہ کے درمیان فرق ہی نظر نہ آیا؟


