کل رات ورسائے کے محل میں جو کچھ ہوا، اسے تاریخ یاد رکھے گی.
ایک امریکی صدر، لوئی چہاردہم کے بنائے ہوئے اُس محل میں بیٹھا، جہاں کی دیواروں پر سونے کے پتر چڑھے ہیں اور جہاں کے مشہور ہالِ آئینہ میں ٹھیک تین سو ستاون آئینے، سترہ محرابوں میں جڑے، تہتر میٹر لمبے ہال کو روشنی سے بھر دیتے ہیں۔ میز پر جھینگے، کیویار، اور کھمبیوں میں بھنا ہوا مرغ۔ کھانا تیار کرنے والا کوئی عام باورچی نہیں، کئی مشیلین ستاروں والا الاں دیکاس۔ میزبان فرانس کا صدر میکروں، اور موقع امریکہ کی آزادی کی ڈھائی سو سالہ سالگرہ۔ اور اسی دستر خوان پر، ونیلا آئس کریم اور ہاٹ چاکلیٹ پائی کے درمیان، ٹرمپ نے قلم اٹھایا اور اُس جنگ کے خاتمے کی دستاویز پر دستخط کر دیے جو اسی نے اٹھائیس فروری کو شروع کی تھی۔
دستخط ہوتے ہی مہمانوں نے تالیاں بجائیں۔ صدر میکروں نے کہا، براوو۔ اور تاریخ نے ایک گہرا، تلخ قہقہہ لگایا۔
کیونکہ یہ وہی ہال ہے، دوستو، جہاں ٹھیک ایک سو سات سال پہلے، انیس سو انیس میں، امریکی صدر ووڈرو ولسن نے ورسائے کا وہ معاہدہ کیا تھا جس نے پہلی جنگِ عظیم تو ختم کی، مگر جرمنی کو اتنا ذلیل کیا کہ بیس سال بعد ہٹلر اور دوسری جنگِ عظیم کا راستہ کھل گیا۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ ولسن کی سیاسی موت بھی اسی معاہدے سے شروع ہوئی۔ جس چھت کے نیچے ایک امریکی صدر نے امن کے نام پر آنے والی جنگ کے بیج بوئے تھے، اسی چھت کے نیچے ایک اور امریکی صدر نے ایک اور امن کے کاغذ پر دستخط کیے ہیں۔
اور صرف یہی نہیں۔ اسی ہالِ آئینہ میں، انیس سو انیس سے ایک سو چھتیس سال پہلے، سترہ سو تراسی میں، برطانیہ اور امریکہ نے وہ معاہدۂ پیرس کیا تھا جس میں برطانیہ نے پہلی بار امریکہ کی آزادی تسلیم کی۔ یعنی ٹرمپ نے امریکہ کا یہ معاہدہ عین اُسی کمرے میں کیا جہاں ڈھائی سو سال پہلے امریکہ کی آزادی کو دنیا نے پہلی بار مانا تھا، اور وہ بھی امریکہ کی اُسی آزادی کی ڈھائی سو سالہ سالگرہ کے دن۔ ایک کمرہ، تین صدیاں، اور ہر بار وہی آئینے گواہ۔
تاریخ خود کو دہراتی نہیں، مگر قافیہ ضرور ملاتی ہے۔
اب آئیے اصل خبر کی طرف، اور اسے سادہ الفاظ میں سمجھتے ہیں۔
اس معاہدے کا نام ہے اسلام آباد میمورنڈم۔ جی ہاں، دستخط ورسائے میں ہوئے، مگر نام اسلام آباد کا ہے۔ کیونکہ یہ معاہدہ فرانس نے نہیں، پاکستان نے کرایا۔ سترہ جون کو ٹرمپ نے ورسائے میں اس کی ہارڈ کاپی پر دستخط کیے، پھر وہ تصویر تہران بھیجی گئی، اور صدر پزشکیان نے فارسی متن پر دستخط کر دیے۔ دو صدر، دو شہر، ایک کاغذ۔ سوئٹزرلینڈ میں جو باقاعدہ تقریب جمعہ کو ہونی تھی، وہ اب منسوخ ہو گئی، کیونکہ کام ورسائے ہی میں ہو گیا۔ یاد رہے، جی سیون کا اجلاس ورسائے میں نہیں، فرانسیسی قصبے ایویاں میں ہو رہا تھا۔ ورسائے کا یہ کھانا اور دستخط اُس سے الگ ایک شام تھی۔
معاہدے میں ہے کیا؟ آٹھ سو الفاظ، چودہ نکات۔ پہلا، تمام محاذوں پر جنگ بندی، لبنان سمیت۔ دوسرا، آبنائے ہرمز فوراً کھلے گی، اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم۔ تیسرا، ساٹھ دن کی توسیع، جس میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔ اور چوتھا، وہ نکتہ جس نے سب کو حیران کر دیا، کم از کم تین سو ارب ڈالر کا تعمیرِ نو فنڈ، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی کے علاوہ۔ یہ ایران کے لیے چین کے پچیس سالہ معاہدے کے بعد سب سے بڑا مالی پیکج ہے۔
اور یہاں وہ بات جو کم لوگ کھل کر کہہ رہے ہیں۔ یہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ حل نہیں کرتا۔ یورینیم کے ذخیرے کا مسئلہ حل نہیں کرتا۔ میزائل پروگرام پر پابندی نہیں۔ حزب اللہ، حماس، حوثیوں کی پشت پناہی پر پابندی نہیں۔ یہ سارے مسئلے اگلے ساٹھ دنوں پر ٹال دیے گئے ہیں۔ یعنی جس بنیادی وجہ سے یہ جنگ شروع ہوئی، وہ آج بھی جوں کی توں موجود ہے۔
تو پھر جیتا کون؟
ایرانی مذاکرات کار قالی باف نے فارس نیوز کو کہا، یہ معاہدہ امریکہ کی ناکامی کی دستاویز ہے۔ اور اعداد و شمار اُس کے ساتھ ہیں۔ ٹرمپ نے اٹھائیس فروری کو ایران کو ایٹمی ہتھیار سے روکنے کے نام پر جنگ شروع کی تھی۔ ساڑھے تین مہینے بعد، ایران کے پاس وہی یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے، اوپر سے تین سو ارب ڈالر کا انعام بھی، پابندیوں کا خاتمہ، اور ہرمز پر وہی پرانا کنٹرول، جہاں وہ اب بھی جہازوں سے فیس وصول کرے گا۔ خود امریکی سینیٹر بل کیسڈی، جو ٹرمپ ہی کی پارٹی کا ہے، نے اسے دہائیوں کی بدترین خارجہ پالیسی کی غلطی قرار دیا۔ ایک اور نے کہا، ریگن اپنی قبر میں کروٹ لے رہا ہو گا۔
اور خود ٹرمپ؟ جس آدمی نے مہینوں کہا کہ ایران کو ایک میزائل نہیں رکھنے دیں گے، اُسی نے ورسائے میں کھڑے ہو کر کہا، اگر دوسروں کے پاس میزائل ہیں تو ایران کے پاس نہ ہونا تھوڑا غیر منصفانہ ہے۔ میزائل مسئلہ نہیں۔ میزائل صرف ایک چھوٹی جگہ کو نقصان پہنچاتے ہیں، پوری دنیا کو نہیں اڑاتے۔
یہ وہی آدمی ہے جس نے یہ جنگ ایٹم بم کے خوف پر شروع کی تھی۔
اب ذرا رک کر اپنے ملک کی طرف دیکھیں، اور یہ وہ لمحہ ہے جس پر ہر پاکستانی کو فخر کرنا چاہیے، مگر ہوش کے ساتھ۔
اس پورے ڈرامے کا نام اسلام آباد میمورنڈم ہے۔ دستخط بھلے ورسائے کے سونے کے ہال میں ہوئے ہوں، مگر تاریخ کی کتاب میں یہ معاہدہ اسلام آباد کے نام سے درج ہو گا۔ اعلان سب سے پہلے کس نے کیا تھا؟ کسی امریکی نے نہیں، کسی یورپی نے نہیں۔ بارہ جون کو وزیراعظم شہباز شریف نے۔ تین سو رکنی امریکی وفد، ستر رکنی ایرانی وفد، اور بیچ میں پاکستان کا وہ پل جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران یاترائیں، شہباز شریف کی سفارت کاری، اور قطر، سعودی عرب، ترکی، مصر کی معاونت۔ پاکستان ثالث سے ضامن بن گیا۔
یہ معاہدہ بعد پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنے قرضوں کے لیے دنیا کے دروازوں پر کھڑا رہتا ہے، اُس نے دو دشمنوں کو ایک میز پر بٹھا دیا۔مگر کچھ باتیں یاد رکھنی ہوں گی.
پہلی، یہ معاہدہ ابھی صرف ایک فریم ورک ہے، مکمل امن نہیں۔ اصل مسئلے ساٹھ دن آگے ٹل گئے ہیں۔ اور ساٹھ دن میں اسرائیل، جو اس معاہدے کا فریق ہی نہیں، لبنان پر ایک حملہ کر کے سب کچھ اڑا سکتا ہے۔ نیتن یاہو پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ حزب اللہ پر حملوں کا حق محفوظ رکھتا ہے، اور لبنان میں مارچ سے اب تک کی لڑائی میں چار ہزار کے قریب لوگ مارے جا چکے ہیں۔
دوسری، یہ یاد رکھیں کہ ایران کوئی ایٹمی طاقت نہیں۔ اُس کے پاس افزودہ یورینیم ہے، ہتھیار نہیں۔ اس پورے خطے میں اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان ہے۔ آج کی ساری سفارت کاری، ساری ثالثی، اسی ایک حقیقت کے گرد گھومی ہے۔ پاکستان کی اصل طاقت اس کی غربت نہیں، اس کا وہ مقام ہے جو اسے ایٹمی صلاحیت اور جغرافیائی حیثیت نے دیا۔
تیسری، اور سب سے اہم۔ ضامن بننا اعزاز بھی ہے اور بوجھ بھی۔ جو ملک دوسروں کی جنگ کا ضامن بنتا ہے، اُسے اپنی چادر بھی دیکھنی ہوتی ہے۔ پاکستان نے ابھی صرف اعلان کرایا ہے۔ عملدرآمد ایران کی سرزمین پر ہو گا، جہاں اصل طاقت اب بھی سپاہِ پاسداران کے ہاتھ میں ہے۔ اور سپاہ امن سے زیادہ جنگ میں طاقتور رہتی ہے۔
اور پھر سو سوالوں کا ایک سوال یہ ہے کہ پاکستان کو ان ساری آنیوں جانیوں سے کیا ملا. ملک کا وقار ضرور سربلند ہوا مگر ایران کو تین سو ارب ڈالرز ملنے کا وعدہ ہے. پاکستان کو ضرور اربوں ڈالرز کے سودے کرنے چاہئیں اور اپنے عوام تک ٹمرات پہنچانے چاہئیں ورنہ رچی رچ کے علاوہ کسی کو فائدہ نہ ہوگا.
ورسائے کے اُن تین سو ستاون آئینوں میں کل رات ایک امریکی صدر نے اپنا عکس دیکھا ہو گا۔ کاش وہ اُن آئینوں میں ایک سو سات سال پہلے کھڑے ووڈرو ولسن کا عکس بھی دیکھ لیتا، اور ڈھائی سو سال پہلے اپنی قوم کی آزادی منواتے ہوئے اُن سفیروں کا بھی۔ کیونکہ آئینے صرف چہرہ نہیں دکھاتے۔ آئینے کبھی کبھی تاریخ بھی دکھاتے ہیں۔
اور تاریخ کا سبق صرف اتنا ہے کہ جو امن کسی قوم کو ذلیل کر کے یا کسی مسئلے کو ساٹھ دن آگے ٹال کر بنایا جائے، وہ امن نہیں ہوتا، اگلی جنگ کا التوا ہوتا ہے۔


