مریض صحت یاب ہوا تو اسے ہسپتال سے فارغ کردیا گیا۔ مریض کے گھر والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ ڈسچارج ہونے سے پہلے ضروری کاغذی کارروائی ہو رہی تھی۔ ایسے میں دیر سویر ہونا عام بات ہے۔ مریض کے گھر والے اور عزیز رشتے دار ہسپتال سے باہر گیٹ پر بےچینی سے مریض کی آمد کا انتظار کر رپے تھے۔ مریض کو لینے کے لئے آنے والی گاڑی کے ڈرائیور کو انتظار کچھ ذیادہ ہی نا گوار گزر رہا تھا۔ بالآخر اس نے گاڑی کا ہارن بجانا شروع کردیا۔ کچھ وقت اور گزرا تو ڈرائیور سے مزید انتظار برداشت نہ ہوسکا۔ اس نے پہلے سے زیادہ طویل ہارن بجایا، جیسے وہ کسی کے گھر کے دروازے پر اسکول کے لئے جانے والے بچوں کو جلدی باہر آنے کو کہہ رہا ہو۔
کوئی اپنے گھر کے دروازے پر ہارن پہ ہارن دے رہا ہو یا دوسروں کے گھر پر، انتہائی معیوب بات ہے۔ چہ جائیکہ ہسپتال کے باہر مسلسل ہارن بجایا جائے، یہ انتہائ نا مناسب بات ہے۔ ہمارے یہاں اس بات کی پروا نہیں کی جاتی۔ عام طور پر ہسپتال کے باہر سے گزرنے والی تمام گاڑیاں ہسپتال کا خیال کئے بغیر ہارن دیتی ہوئی گزرتی ہیں۔ انہیں احساس نہیں ہوتا کہ ہسپتال میں داخل مریض ہارن کے بجنے سے کتنے بیزار اور پریشان ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جو آئی سی یو میں موجود ہوتے ہیں یا وہ مریض جنہیں نیند کی دوائیں دے کر سلایا گیا ہوتا ہے اور وہ اس ہنگامے میں سو نہیں پاتے۔ یہ ایسی اذیت ہے جو ہم لا علمی میں یا جانتے بوجھتے مریضوں کو پہنچا رہے ہوتے ہیں۔ جانتے بوجھتے اس لئے کہ ہر ہسپتال کے باہر ایک بورڈ ضرور آویزاں ہوتا ہے کہ یہاں ہارن بجانا منع ہے۔ بیرونی ممالک میں دوسروں کے حقوق کا بہت خیال رکھا جاتا ہے وہاں شاہراہوں پر بھی راستہ مانگنے کے لئے کوئی ہارن نہیں بجاتا۔ ہماے یہاں تو حال یہ ہے کہ تقریبآ ہر بس اور ٹرک میں عام ہارن کی جگہ پریشر ہارن لگے ہوتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بیشتر مغربی ممالک میں رات کو دس بجے کے بعد فلائٹ آپریشن روک دیا جاتا ہے تاکہ شہریوں کی نیند میں خلل واقع نہ ہو۔ ہمارے یہاں اکثر و بیشتر یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایمبولینس کو بھی آگے نکلنے کا راستہ نہیں دیا جاتا۔ جس کی وجہ سے کسی شدید بیمار مرہض یا مضروب کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بیرونی ممالک میں ہسپتالوں میں خاموشی کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہر مریض یا اس کے ساتھ آنے والے آپس میں بات چیت انتہائی خاموشی کے ساتھ کرتے ہیں، وہ اونچی آواز میں گفتگو نہیں کرتے۔ جبکہ ہمارے ہسپتالوں میں ایسا شور شرابہ ہوتا ہے جیسے آپ ریلوے اسٹیشن یا سبزی منڈی میں آ گئے ہوں۔
بات ساری احساس کی ہے۔ ہمارا دین سب سے ذیادہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہم دوسرے مسلمان بھائی کو کوئی تکلیف نہ پہنچائیں، بلکہ دوسرے کی مدد کرہں۔ مگر دیکھنے میں آتا ہے کہ ہم پہلے خود اپنا فائدہ سوچتے ہیں۔ اس کا ثبوت ہمیں سڑکوں پر ٹریفک جام کی صورت میں ملتا ہے۔ ذیادہ تر ٹریفک جام ہوتا ہی اس لئے ہے کہ پم پہلے نکلنے کی کوشش میں اپنی گاڑی کو ٹریفک میں پھنسا دیتے ہیں۔ ہم کسی دوسری گاڑی کو راستہ دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ بیرونی ممالک میں گاڑی ڈرائیو کرنے والے دوسری گاڑی کو بخوشی راستہ دیتے پیں۔ مگر ہمارا طرز عمل اس سے مختلف ہوتا ہے۔ اسے خود غرضی اور مفاد پرستی پر مبنی کہا جاتا ہے۔
یہاں ایک اور بات کا ذکر کرتا چلوں۔۔۔ ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ ہمارے گھر میں کام کرنے والی ایک غریب خاتون کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے سن کر افسوس ہوا کہ کیسے کیسے خود غرض لوگ اس دنیا میں بستے ہیں؟ مذکورہ خاتون نے کسی گھر پر پورے ایک ماہ تک جانفشانی کے ساتھ دس ہزار روپے ماہوار پر کام شروع کیا۔ ایک ماہ پورا ہونے پر کام والی اپنی تنخواہ وصول کرنے اس گھر میں گئی تو اسے محلے داروں سے معلوم ہوا کہ اس گھر کے لوگ ایک رات پہلے مکان خالی کر کے جا چکے ہیں۔ یہ بات سن کر بے حد افسوس ہوا کہ غریب کام کرنے والی مہینہ ختم ہونے پر تنخواہ ملنے کی آس میں تھی, مگر مدد در کنار اس کی ماہانہ اجرت بھی نہیں دی گئی, اور گھر والے رفو چکر ہو گئے۔ یہ کتنی بڑی ذیادتی ہے؟ ایک غریب نوکرانی کے ساتھ یہ کتنا بڑا ظلم ہے۔ شائد مذکورہ خاندان اپنی اس چالاکی پر خوش ہو رھا ہو۔ مگر ایک غریب خاتون کو اسکی اجرت نہ ملنے پر اسے کتنی مشکل اور دکھ کا سامنا کرنا پڑا اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
انسان, انسان کے کام آتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی آزار میں مبتلا ہو اور اسے دوسرے کی مدد درکار ہو تو ہمیں لپک کر اس کی مدد کو پہنچنا چاہئے۔ مگر اکثر اس کے برعکس ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا پے کہ کوئی سڑک پر پھسل کر گر جائے تو بجائے اس کے کہ لوگ لپک کر اسے اٹھائیں، وہ قہقہے لگاتے ہیں۔ اس طرح مذاق اڑانے سے گرنے والا ناصرف گرنے کی چوٹ سے متاثر ہوتا ہے بلکہ اس کی عزت نفس بھی متاثر ہوتی ہے۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم خود اس کی جگہ ہوتے تو ہم پر کیا بیتتی۔ ہمیں ایک دوسرے کے غم بانٹنے اور محبت سے پیش انے کے لئے پیدا کیا گیا ہے نہ کہ دوسروں کو اذیت پہنچانے اور دکھ دینے کے لئے۔ راقم ہرگز یہ کہنے پر مصر نہیں ہے کہ سب لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں جو انسانیت کا احساس نہیں رکھتے اور دوسروں کے ساتھ اچھی طرح پیش نہیں اتے۔ حقیقت میں، ہیں دنیا میں اور بھی لوگ اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔ لیکن کسی بھی معاشرتی برائی کا ذکر کرنا کبھی اس امر پر محمول نہیں ہوتا کہ سب کچھ خراب ہے۔ بلا شبہ ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ بھی ہیں، جن کے دم سے اس جہاں میں پیار، اخلاص اور ہم آہنگی کے پھول کھلتے ہیں لیکن جب برے سلوک یا نفرت و حقارت کے تندو تیز جھکڑ چلتے ہیں تو گلشن کے پھول بھی پتیاں پتیاں ہو کر گر جا تے ہیں۔
ہم میں ایمان داری اور انسانیت کی قدریں ختم ہوتی جا رہی پیں۔ کوئی بڑے پیمانے پر کاروبار کرنے والا ہو یا ریڑھی بان، دیانت داری کا لحاظ نہیں رکھتا۔ وہ اشیاء خوردو نوش فروخت کرتے ہوئے اس بات کا خیال نہیں کرتا کہ وہ جو چیز فروخت کر رہا ہے وہ ملاوٹی اور ناقص پے۔ اس کے علاوہ وہ فروخت کی جانے والی چیزوں میں سے ناقص چیزوں کو خریدار سے چھپا کر شاپر میں ڈال دیتا ہے، جو صریح بے ایمانی اور بد دیانتی ہے۔ اللہ ہمیں معاف فرماۓ۔ جس دن ہم میں یہ احساس ںیدار ہو گیا کہ بد دیانتی بہت بڑا گناہ ہے، اس روز ہمارے معاشرے کی اچھی بنیاد پڑ جاۓ گی۔ ہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں جائزہ لینا چاہئے کہ ہم کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔ اللہ کرے ہماری نظر اپنی برائی پر پڑ نے لگے، شائد اس طرح اصلاح کا عمل شروع ہو جائے۔


