این جی او اور ڈیولپمنٹ سیکٹر میں ایسے خواتین و حضرات کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جن کا مطالعہ، مشاہدہ اور فیلڈ کا تجربہ غیر معمولی ہوتا تھا۔ کبھی کبھار ایسے افراد بھی مل جاتے تھے جو کسی اور شعبے میں کامیاب نہ ہو سکے اور پھر اس شعبے میں ’’جمع‘‘ کرا دیے گئے۔ ایسے لوگ میٹنگوں میں بہت بولتے تھے، مگر ان کی گفتگو اکثر محض ” تھیوریوں ‘ اور ’’انگریزیوں‘‘ کا مجموعہ ہوتی جس میں دلیل، تجزیہ اور علمی بصیرت کم ہی دکھائی دیتی تھی۔
ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جارحیت سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر ہمارے ہاں کے ’’پاکستانی طرز کے لبرل‘‘ خاصی پریشانی کا شکار ہیں۔ اس پریشانی میں وہ دور کی کوڑیاں لانے اور کمزور مقدمات سے بڑے بڑے نتائج اخذ کر رہے ہیں ۔ کل ایک دوست کی شیئر کی ہوئی ایک پوسٹ نظر سے گزری۔ پوری تحریر میں عمومی باتیں، ثقافتی مثالیں اور ابلاغی اصطلاحات تو بہت تھیں، مگر آخر میں اس سے ایک ایسا نتیجہ نکال لیا گیا جو گویا ٹرمپ کی باتوں کو قابلِ اعتماد ثابت کرنے کی کوشش تھا۔
بین الثقافتی ابلاغ یقیناً ایک اہم علمی میدان ہے۔ مختلف معاشروں میں گفتگو کے انداز، رسمی آداب اور سماجی اشارے مختلف ہوتے ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ جو شخص مصنف کے تجزیے سے اختلاف کرے وہ لازماً بین الثقافتی ابلاغ سے ناواقف ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس تحریر میں ’’چیچو کی ملیاں کے رائے ساز‘‘ کا حوالہ دے کر ایک مخصوص ذہنی تصویر بنائی گئی ہے وہ خود اسی تعصب کا شکار دکھائی دیتی ہے جس سے بچنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اگر کسی دلیل کی کمزوری ثابت کرنی ہو تو اس کے لیے جغرافیائی یا طبقاتی حوالوں کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
پاکستان میں ہزاروں افراد این جی اوز، اقوامِ متحدہ کے اداروں، بین الاقوامی منصوبوں اور ملٹی کلچرل ٹیموں میں کام کر چکے ہیں جہاں ان کی بین الثقافتی ابلاغ پر رسمی اور غیر رسمی تربیت ہوتی رہی ۔ لگ بھگ پندرہ لوگ تو میری مختصر سی فرینڈز لسٹ میں شامل ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں ملٹی کلچرل ٹیموں میں کام کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں – اس سے بھی بڑھ کر مختلف ثقافتوں کے ساتھ مسلسل میل جول سے پیدا ہونے والی عملی یا ’’لوک دانائی‘‘ بھی ایک حقیقت ہے۔ ہر شخص بین الثقافتی ابلاغ کے نظریات کا طالب علم نہ سہی، لیکن لوگ روزمرہ زندگی، ہجرت، تجارت، روزگار اور سماجی تعلقات کے ذریعے دوسری ثقافتوں کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں۔
تاہم اصل مسئلہ یہ بھی نہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ بین الثقافتی ابلاغ کے علم سے آخر ثابت کیا کیا جا رہا ہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ مختلف ثقافتوں کے لوگ ایک ہی جملے کو مختلف انداز سے سمجھ سکتے ہیں تو یہ ایک معقول بات ہے۔ لیکن اگر اس بنیاد پر یہ نتیجہ نکالا جائے کہ کسی سیاسی رہنما کے بیانات کو تنقیدی جانچ کے بجائے ثقافتی فرق کے نام پر قبول کر لیا جائے تو یہ استدلال کمزور ہو جاتا ہے۔
بین الثقافتی ابلاغ کا علم کسی بیان کی درستگی یا غلطی کا فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ صرف یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ وہ بیان کس انداز میں دیا گیا ہے۔ کسی سیاست دان کے دعوے کی سچائی جانچنے کے لیے پھر بھی شواہد، حقائق اور اس کے سابقہ ریکارڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں گزشتہ ایک دہائی میں سیاسیات، ابلاغیات، نفسیات، سماجیات اور میڈیا سٹڈیز کے میدانوں میں وسیع تحقیق ہو چکی ہے۔ ’’ٹرمپ ازم‘‘ (Trumpism) اور ’’ٹرمپ اسٹڈیز‘‘ (Trump Studies) باقاعدہ علمی مباحث کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان مباحث میں اختلافات بہت ہیں لیکن ایک نکتے پر بڑی تعداد میں محققین، صحافیوں اور حقائق جانچنے والے اداروں کا اتفاق پایا جاتا ہےکہ ٹرمپ بارہا غلط بیانی، م بالغہ آرائی اور حقائق کے منافی دعوؤں کے لیے معروف رہا ہے۔
لہٰذا اگر ٹرمپ کے کسی بیان کو شک کی نظر سے دیکھا جائے تو اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ تجزیہ نگار ’’امریکی ثقافت‘‘ کو نہیں سمجھتے، بلکہ اس کی ایک اہم وجہ ٹرمپ کا اپنا ریکارڈ بھی ہے۔ کسی سیاست دان کی بات کا تجزیہ کرتے وقت اس کے ثقافتی پس منظر کو سمجھنا مفید ضرور ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم اس کا عملی کردار، ماضی کا طرزِ عمل اور اس کے دعووں کی قابلِ تصدیق حیثیت ہوتی ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ بعض پاکستانی مبصرین بین الثقافتی ابلاغ نہیں سمجھتے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ بعض لوگ ابلاغی نظریات کے نام پر ایسے نتائج اخذ کر لیتے ہیں جو خود ان مقدمات سے ثابت نہیں ہوتے جن پر ان کی پوری بحث کھڑی ہوتی ہے۔ ثقافت کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن ثقافت کو دلیل کا متبادل بنا دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ کسی بیان کے ثقافتی پس منظر کی وضاحت اور اس بیان کی سچائی کی تصدیق دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ پہلی بات درست ہو سکتی ہے جبکہ دوسری پھر بھی غلط ثابت ہو سکتی ہے۔


