بلاول کا بیان اور پی پی کی متضاد سیاست:ایک تاریخی جائزہ/محمد عامر حسینی

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ

[وہ “گن پوائنٹ پر ، دھرنا دے کر ، ڈرا دھمکا کر ، دہشت گردی کرکے اپنی بات منوانا چاہتی ہے ، ایسا تو کبھی نہیں ہوگا “۔] ان کا یہ بیان پاکستان مسلم لیگ نواز ، ملک کی فوجی قیادت کے اسی پالیسی بیان کی باز گشت ہے جو جوائنٹ ایکشن عوامی کمیٹی آزاد جموں و کشمیر کی قیادت میں عوام کی تحریک کو “دہشت گردی ” قرار دیتا ہے ۔
انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنی تاریخ میں ایسے کبھی نہیں کیا جیسے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کر رہی ہے ۔
میں انھیں یاد دلانا چاہوں گا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے قیام کے صرف ایک ماہ بعد ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک میں شمولیت اختیار کی ۔ اس تحریک میں شامل متحدہ اپوزیشن الائنس ۔ سی او ڈی میں شامل جماعتوں نے 1968ء میں ایوب خان کی بلائی گول میز کانفرنس میں شرکت کی ۔ ایوب خان نے اگلے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ۔ اور گول میز کانفرنس میں سی او ڈی نے ایوب خان کے سامنے یہ مطالبہ رکھا کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں گے۔ اقتدار 1962ء کے صدارتی آئین کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کو منتقل ہوگا ۔ وہ ملک میں حق بالغ رائے دہی پر مبنی انتخابات کرائیں گے ۔ یہ مذاکرات اس لیے کامیاب نہ ہوسکے کہ ایک تو مشرقی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت عوامی لیگ نے چھے نکات کو ایجنڈے میں شامل نہ کرنے پر مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا ۔ دوسرا تحریک میں شامل بھٹو اور مولانا بھاشانی نے “اسٹریٹ پالیکٹس” کو جاری رکھنے اور ایوب خان سے کسی قسم کے مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ۔ وہ عوامی تحریک اور احتجاج کے زریعے انقلاب لانے کے دعوے کر رہے تھے ۔

نتیجہ ملک میں دوسرے مارشل لاء کی صورت نکلا ۔ پیپلزپارٹی اور عوامی لیگ نے بھی اس مارشل لاء کو قبول کرلیا ۔ اس کے تحت ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لیا ۔
جب انتخابات ہوگئے تو ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی پارٹی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ملک کے نئے آئین کا تصفیہ کرنے کی بجائے کی اس بات پر اصرار کیا کہ نئے آئین پر اسمبلی کی بجائے باہر تصفیہ کیا جائے اور پورے ملک میں زبردست ایجی ٹیشن کی ۔ پنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیے اور کہا جب تک مغربی پاکستان کے مفادات کے تحفظ کی یقین دہانی نہیں کرائی جائے کوئی اجلاس نہیں ہوگا ۔ جس کے خلاف عوامی لیگ نے ایک بار پھر سٹرک سیاست اور عوامی طاقت کے مظاہرے کو ترجیح دی اور انھوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس کو بلانے کی شرط رکھی ۔ فوجی جنتا نے اس شرط کو ماننے سے انکار کیا اور عوامی لیگ کی احتجاجی سیاست کو “ملک توڑنے، بغاوت ، غداری ، ریاست کی رٹ چیلنج کرنے ” کا نام دیا اور مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کردیا۔ پی پی پی کے قائد عوام نے اس فوجی آپریشن کی کھلی حمایت کی ۔ اس دوران فوجی جنتا نے مشرقی پاکستان میں انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے ڈالا اور دوبارہ وہاں “شرمناک اور غیر جمہوری انتخابات ” کرائے ۔ پیپلزپارٹی ان انتخابات کا بھی حصہ بنی ۔
جنرل ضیاء نے مارشل لاء لگایا تو پہلے پی پی پی اس مارشل لاء کے خلاف 6 سال تنہا سڑکوں پر احتجاج کرتی رہی اور پھر 1983ء میں اس نے ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بحالی جمہوریت کا ایک اتحاد ۔ ایم آر ڈی بنایا اور اگلے دو سال تک “سٹرک پالیٹکس / ایجی ٹیشن ” کرتی رہی ۔ اس دوران پی پی پی کے اندر سے ایک “مسلح تنظیم ” “الذولفقار” وجود میں آئی جس نے جنرل ضیاء الحق رجیم کے خلاف مسلح کاروائیوں کا آغاز کیا ۔ اس نے راولپنڈی میں جنرل ضیاء کے طیارے کو میزائیل سے اڑانے کی کوشش کی ۔ پی آئی اے کا ایک طیارہ اغوا کیا ۔ ایک فوجی افسر کو قتل کیا ۔ اسی تنظیم نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانے والے لاہور ہائیکورٹ اور پاکستان سپریم کورٹ کے ججوں کے قتل کرنے کے آڈر جاری کیے ۔ جنرل ضیاء سمیت ملک میں مارشل لاء لگانے والے فوجی جرنیلوں کو اپنی ہٹ لسٹ میں شامل کیا ۔ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق کی گاڑی پر قاتلانہ حملہ کیا جس میں سوار پاکستان مسلم لیگ کے رہنما چوہدری ظہور الٰہی قتل ہوگئے ۔ الذوالفقار میں شامل ہونے کے الزام میں جنرل ضیاء رجیم نے سینکڑوں پی پی پی کے کارکنوں کو گرفتار کیا ۔ ان میں سے چھے اراکین کو سزائے موت سنائی گئی ۔ پی پی پی نے نہ تو کبھی الذوالفقار کو کبھی “دہشت گرد ” تنظیم مانا ، نہ ان میں شامل افراد کو ۔ نہ کبھی اس کی کاروائیوں کی کوئی مذمت کی ۔ پی پی پی کے پاس جنرل ضیاء کے مارشل لاء دور میں “پھانسی ” کی سزا پانے والے جو چھے شہید کارکن ہیں وہ “الذوالفقار ” کے اعلانیہ رکن تھے اور انہوں نے اپنی مسلح کاروائیوں کا ببانگ دہل اعتراف بھی کیا ۔
پی پی پی نے ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے جنرل ضیاء کی طرف سے مارشل لاء ختم کرنے اور ملک میں غیر جماعتی انتخابات کرانے کے اقدام کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور جنرل ضیاء کے باوردی صدر ہوتے ہوئے ملک میں “جمہوری عمل ” کی مشروط بحالی اور اس پراسس میں شریک ہونے کی بجائے “عوامی تحریک ، احتجاج ” کے راستے جنرل ضیاء کے اقتدار کے خاتمے کی سیاست جاری رکھی ۔
جنرل ضیاء جب ایک طیارے حادثے میں ہلاک ہوگئے تو ان کی باقیات کے قائم کردہ سیٹ اپ کے تحت 1988ء میں انتخابات میں حصہ لیا اور جنرل ضیاء کی باقیات کے بنے صدر مملکت ، وفاقی وزیر خزانہ ، ان کے بنائے آرمی چیف کے ساتھ وفاق میں حکومت بنائی ۔
نومبر 1992ء میں پاکستان پیپلزپارٹی نے اس وقت انتخابات کے زریعے بننے والی میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیا اور اسلام آباد میں دھرنا دیا اور اس وقت تک یہ احتجاج ختم نہ کیا جب تک اس وقت کے صدر نے نواز شریف کی حکومت کو ختم نہ کر دیا۔

یہ مختصر سا جائزہ بتاتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی چئیرمین ذوالفقار علی بھٹو نے دو مرتبہ اور پی پی پی کی چیئرپرسن بیگم نصرت بھٹو اور شریک چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی دو مرتبہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے نہ صرف “سٹریٹ پالیٹکس ” اور “عوامی تحریک ” کا راستا اپنایا بلکہ اپنے اندر سے جنم لینے والی ایک تنظیم کی مسلح جدوجہد کو “دہشت گردی ” قرار دینے سے انکار کیا ۔
آج پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی پارٹی اور اپنی سابقہ قیادت کی جانب سے “عوامی تحریک اور سڑک سیاست ” کو بطور سیاسی حکمت عملی اپنانے اور مطالبات منوانے کے لیے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرنے اور دھرنے کے زریعے ایک حکومت کے خاتمے کی تاریخ کو جھٹلا رہے ہیں ۔ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر کی اپنے مطالبات منوانے کی عوامی تحریک ، اسٹریٹ پالیٹکس کے استعمال ، مظفر آباد تک لانگ مارچ اور راولا کوٹ میں دھرنا دینے کو ” گن پوائنٹ” اور “ڈرانے دھمکانے” کا نام دے رہے ہیں ۔ وہ کمیٹی پر “دہشت گردی ” جیسا گھٹیا اور جھوٹا الزام عائد کر رہے ہیں ۔
جب کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے 38 مطالبات کو منوانے کے لیے یک دم لانگ مارچ اور دھرنا شروع نہیں کیا تھا۔ انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کی حکومت سے مذاکرات کیے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں پہلا لانگ مارچ کیا ۔ اس دوران ان کی پرامن احتجاجی تحریک کے جواب میں طاقت کا استعمال ہوا۔ 14 افراد کی جانیں گئیں تب جاکر آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اور وفاقی حکومت نے ایک نمائندہ کمیٹی قائم کرکے اس کے ساتھ مذاکرات کیے ۔ان کے 38 مطالبات کو پورا کرنے کا تحریری معاہدہ کیا ۔ یہ مطالبات تسلیم کرنے میں پی پی پی کے موجودہ وزیراعظم بھی شامل تھے ۔ انھوں نے 7 ماہ تک ان مطالبات پر عمل کرنا تھا جو مطالبات پورے نہ ہوئے تو پھر مذاکرات ہوئے ۔ کمیٹی کا موقف تھا کہ سات ماہ بہت ہیں ۔ 8 جون تک کی ڈیڈ لائن دی گئی لیکن اس دوران ان مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو کمیٹی نے ایک بار پھر مظفر آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دی ۔ اس کے جواب میں آزاد جموں و کشمیر کی پیپلزپارٹی کی قیادت میں موجود حکومت نے 5 جون کو وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کی سفارش سے جاری ہونے والی سمری ایوان صدر کے زریعے جاری کی جس کے زریعے سے آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان سے رینجرز ، ایف سی ، فوج ، اسلام آباد اور پنجاب پولیس ، پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو آزاد جموں و کشمیر میں بلا لیا گیا اور اس نے آزاد جموں و کشمیر کی پولیس کی مدد سے پورے آزاد جموں و کشمیر کے تمام انٹری پوائنٹس پر ناکہ بندی کردی ۔ راولا کوٹ سے چلنے والے قافلے کی قیادت کرنے والا محمد عمر کشمیری کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس میں ان کا ڈرائیور شاہ زیب قتل ہوا اور عمر کشمیری سمیت کئی ساتھی زخمی ہوگئے ۔ اس کے بعد شاہ زیب کے جنازے میں شریک ہونے والے کشمیریوں پر راولا کوٹ میں سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کی اور پانچ افراد کی جانیں گئیں اور متعدد زخمی ہوگئے ۔ اس دوران جو آزاد جموں و کشمیر پولیس کے چار افراد فائرنگ سے ہلاک ہوئے ان پر فائرنگ کرنے والے “نامعلوم نقاب پوش افراد ” تھے ۔ جن کی شناخت آج بھی “نامعلوم ” کی ہے ۔ جب کہ اس دوران جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے سفید لباس میں ملبوس اسلحے سے بھری ہوئی دو پرائیویٹ گاڑیاں قبضے میں لیں اور ان کو میڈیا کے سامنے پیش کیا اور الزام عائد کیا کہ سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیاں نقاب پوش ہوکر آزاد جموں و کشمیر پولیس پر حملوں میں ملوث ہیں اور الزام وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر لگا رہی ہیں ۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک جعلی ویڈیو وائرل کی گئی جس میں راولا کوٹ سی ایم ایچ ہسپتال پر نامعلوم افراد کو حملہ آور ہوتے دکھائے جانے کا دعوا ہوا وہ ویڈیو راولا کوٹ سی ایم ایچ ہسپتال کی تھی نہیں ۔ اسی دوران کوٹلی ، پلندری میں سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کرکے بے گناہ افراد کو قتل کیا ۔ اور پھر راولا کوٹ میں دریک کے مقام پر عوامی اجتماع پر فائرنگ کی گئی جس میں کئی جانیں چلی گئیں ۔
سوشل میڈیا پر درجنوں ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں سیکورٹی فورسز کو آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کے گھر داخل ہوکر چادر چار دیواری کو پامال کرنے، گھروں، دکانوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچانے اور دکانوں کے تالے توڑ کر مال و اسباب لوٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔

پی پی پی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی آمد اور وہاں پر جبر واستبداد کا بازار گرم کرنے جیسے غیر آئینی و غیر قانونی اقدام کی مذمت کبھی دیکھنے کو نہیں ملی لیکن وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر دہشت گردی کے الزامات مسلسل عائد کر رہے ہیں۔

پی پی پی بطور سیاسی جماعت 1988ء سے مسلسل پاکستان میں جمہوری عمل میں فوجی مداخلت ، انتخابات میں دھاندلی ، جواز سے محروم حکومتوں ، غیر نمائندہ پارلیمنٹ کے قیام کے عمل کو “با امر مجبوری ” قبول کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ اس نے خود نومبر 1992ء میں اپنی اس پالیسی کے خلاف انحراف تو کیا لیکن اس کے بعد اس نے 97ء کے بدترین دھاندلی زدہ انتخابات کے نتائج قبول کیے ۔ 1999ء میں جنرل مشرف کے مارشل لاء کو قبول کیا ( بے نظیر بھٹو کا اے پی نیوز ایجنسی کے نمائندے کو دیا گیا انٹرویو موجود ہے جس میں انہوں نے جنرل مشرف کے مارشل لاء کو مجبوری میں اٹھایا گیا فوجی اقدام قرار دیا تھا جیسے اس نے یحیی کے مارشل لاء کو مجبوری کا اقدام بتاکر تسلیم کیا تھا، 25 مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن اور مارشل لاء کے جاری رہنے کو مجبوری میں اٹھایا گیا اقدام بتا کر قبول کیا تھا ، 74ء میں نیپ کی جمہوری حکومت کے خاتمے اور وہاں فوجی آپریشن کو مجبوری بتایا تھا ) اور جنرل مشرف کے باوردی صدر ہوتے ہوئے دو انتخابات میں حصہ لیا تھا ۔ اور اس نے 2013ء، 2018ء اور پھر فروری 2024ء کے دھاندلی زدہ انتخابات ، جعلی حکومتوں کو تسلیم کیا اور اب تک موجودہ جواز سے محروم وفاقی حکومت کی سپورٹ ، اس کے انتظامی عہدے قبول کررکھے ہیں ۔ بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومت سنبھال رکھی ہے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی کو قبول کیے ہوئے اور اس کا “با امر مجبوری ” ، “قومی مفاد ” ، ” ملکی معشیت بچانے ” جیسے نام دے کر دفاع کرتی ہے ۔
اسے بطور سیاسی جماعت اپنی پالیسی اور موقف رکھنے کا اختیار ہے چاہے وہ جب چاہے “اسٹریٹ پالیٹکس، دھرنا پالیٹکس ” کو جائز کہے یا اپنی جماعت کے اندر سے مسلح تنظیم کی سرگرمیوں کو “دہشت گردی ” کی بجائے اسے آمریت کے خاتمے کے خلاف احتجاج قرار دے ۔ اور جب چاہے مارشل لاء کے تحت انتخابات میں شرکت کرے جب چاہے اس کا بائیکاٹ کرکے سڑک و دھرنا پالیٹکس اختیار کرلے۔ لیکن اس قیادت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ جس راستے کو ماضی میں خود اختیار کرچکی ہو وہ کسی خطے کے عوام اور عوامی تنظیمیں اختیار کریں تو وہ انھیں دہشت گردی ، بلیک میلنگ ، ریاستی رٹ چیلنج کرنے کا نام دے کر عوام کی اکثریت کی حمایت رکھنے والوں کی توہین کرے ، ان کی تذلیل کرے ۔
پی پی پی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری آزاد جموں و کشمیر میں اپنی پارٹی کے لیے جس “عوامی اکثریت ” کی حمایت کا ذکر کر رہے ہیں وہ آج آزاد جموں و کشمیر کی عوام میں نظر کیوں نہیں آ رہی ؟ اس کے وزیر اعظم کو چاہئیے وہ اپنی اس عوامی اکثریت سے کہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر میں ایک ہفتے سے بند دکانیں کھول لیں ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تحت جو عوام سڑکوں پر ہیں ان کے مقابلے میں پی پی پی کسی مفروضہ بھاری اکثریت والے عوام بھی کوئی بڑا جلسہ اور کوئی بڑا عوامی اکٹھ کر کیوں نہیں لیتے تاکہ پوری دنیا دیکھ لے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں ؟
مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر مظفر آباد کے دکانداروں کو یہ دھمکیاں دینے پر مجبور کیوں ہیں کہ وہ دکانیں کھولیں ورنہ وہ تالے توڑ کر خود ان دکانوں کا کنٹرول سنبھال لیں گے ؟
مگر آباد کے عوام جو خورد و نوش کی اشیاء کی قلت سے تنگ ہیں وہ اس کا الزام جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو دینے کی بجائے کی انٹری پوائنٹس کی ناکہ بندی کرنے والی سیکورٹی فورسز کو کیوں دے رہے ہیں ؟ وہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف مظاہرے کیوں نہیں کر رہے الٹا وہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر سڑکوں پر کیوں ہیں ؟
آخر پوری دنیا میں بسنے والے کشمیری عوام پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں اور سیکورٹی فورسز کے خلاف احتجاج کیوں کر رہے ہیں ؟

پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت نے جس طرح بلوچستان میں بلوچ یک جہتی کمیٹی کے خلاف ریاستی جبر و استبداد کو جائز قرار دے کر اسے اپنی حمایت فراہم کی ہوئی ہے ویسی حمایت وہ اس وقت وفاقی حکومت اور آزاد جموں و کشمیر کی کٹھ پتلی اور عوام کے اعتماد سے محروم حکومت کو فراہم کر رہی ہے۔ اس کو اپنی پالیسیاں بنانے کا حق ہے تو آزاد جموں و کشمیر اور بلوچستان کی عوام کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ جو ٹھیک سمجھیں ویسا عمل کریں ۔

بلاول بھٹو زرداری دن بدن اپنی جماعت اور اس کی پارلیمانی قوت کے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں غیر منتخب مقتدرہ کے ساتھ اتحاد اور اشتراک کی پالیسی پر پڑے باریک پردے کو سرکاتے جا رہے ہیں اور وہ بتا رہے ہیں کہ وہ پاکستان کی طاقتور غیر منتخب عسکری ہئیت مقتدرہ کی نظر میں خود کو “وزیر اعظم ” کی کرسی کا اہل بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔ ان کی اس روش کو عوام تو کیا ان کی اپنی پارٹی کے کارکنوں کی بہت بڑی تعداد مسترد کر چکی ہے ۔
آزاد جموں و کشمیر میں پی پی پی ، پی وائی او ، پی ایس ایف سے وابستہ سینکڑوں کارکن اور لاکھوں ووٹر اس وقت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر کی قیادت میں عوامی تحریک کا حصہ ہیں ۔
بلوچستان میں اس وقت کوئی بھی سیاسی طور پر باشعور ، عوامی جمہوری ذہن رکھنے والے نوجوان مرد اور عورت پی پی پی کی کٹھ پتلی جعلی بلوچستان حکومت کے حامی نہیں ہیں بلکہ وہ ان سے شدید نفرت کرتے ہیں اور پی پی پی کی قیادت کو وہ بلوچ قوم کی نسل کشی میں شریک مانتے ہیں ۔
بلاول بھٹو نے جو آنسو بلوچستان میں لاپتا افراد کے خاندانوں کی عورتوں کے سامنے بہائے تھے اور خود کو وہ اسٹیبلشمنٹ کے ستم رسیدہ ہونے کے طور پر ہیش کرتے رہے اور یہ دعوا کرتے رہے کہ وہ ان کے دکھ اور غم کو سمجھ سکتے ہیں ، وہ آج بلوچ عوام کی نظر میں محض ایک دھوکہ اور کھلا جھوٹ ثابت ہوئے ہیں ۔ بلوچ عوام انھیں 74ء کے بھٹو کے ساتھ کھڑا کر رہے ہیں ۔ وہ آصف علی زرداری کی بطور صدر مملکت بلوچ قوم سے ریاستی جبر و استبداد پر معافی کو اب ڈھونگ سمجھتے ہیں اور میری نظر میں وہ بالکل ٹھیک سمجھ رہے ہیں کیونکہ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری بلوچ عوام کے خلاف ریاستی جبر و استبداد کرنے والی طاقتوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ بلاول بھٹو زرداری اس سے پہلے بلوچ یک جہتی کمیٹی کی مرکزی قیادت کی اسیری اور ان پر مقدمات کے اندراج کا دفاع اور جواز کو “ریاست کی رٹ ” کے نام پر پیش کر چکے ہیں اور آج وہ یہی سیاست “آزاد جموں و کشمیر” کے عوام کے خلاف بھی کر رہے ہیں ۔

بلاول بھٹو زرداری کے بیانات اور تقاریر کا جائزہ لیا جائے تو اس کا لب لباب یہ بنتا ہے کہ پاکستان کی غیر منتخب عسکری ہئیت مقتدرہ نے “سیاست” کرنے کی اجازت ، “آزادی اظہار ” اور “حقوق کی بازیابی ” کے جو پیرامیٹرز بنائے ہیں اور جو حدود اپنے تئیں مقرر کی ہیں بس ان کے اندر رہ کر یہ سب کیا جائے گا تو وہ “سیاست ” جائز ہوگی جو آئین پاکستان کے مطابق جمہوری سیاست اور حقوق کی مانگ کرے گا وہ “دھمکی ، گن پوائنٹ ” پر جدوجہد کہلائے گی ۔ اسے دہشت گردی ، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا سمجھا جائے گا ۔ “طاقت کا سرچشمہ ” عوام نہیں ہیں بلکہ “غیر منتخب عسکری مقتدرہ ” ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں