ایران امریکہ معاہدہ: استقامت کی تاریخی فتح اور سامراجی حکمت عملی کی ناکامی/ شیر علی انجم

تاریخ کے طویل باب میں کبھی کبھی وہ لمحات آتے ہیں جو طاقت کے توازن کو بدل دیتے ہیں۔ جب ایک چھوٹی قوم، عالمی سامراج کی مشترکہ طاقت کے سامنے ڈٹ جاتی ہے تو نہ صرف اپنی خودمختاری بچا لیتی ہے بلکہ دشمن کو مذاکراتی میز پر آنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ حالیہ امریکہ ایران معاہدہ بالکل ایسا ہی ایک موڑ ہے۔ ایران کی ولولہ انگیز قیادت، قومی اتحاد اور لازوال استقامت نے واشنگٹن کو، جو دو عالمی طاقتوں اور مشرق وسطیٰ کے خلیجی اتحادیوں کے سہارے تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا، بالآخر مذاکرات کرنے پر آمادہ کر دیا۔
یہ معاہدہ محض ایک دستاویز نہیں، بلکہ ایران کی دہائیوں کی مزاحمت کا منطقی نتیجہ ہے۔ وہ ملک جو اسرائیل کے اکسانے پر امریکی جارحیت کا نشانہ بنا، جس کے خلاف خلیجی ممالک کی سرزمین استعمال کر کے فضائی اور بحری حملے کیے گئے، اور جس کے شہروں میں معصوم بچوں سمیت ہزاروں جانوں کا ضیاع ہوا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ جب قوم متحد ہو، قیادت پر اعتماد رکھے اور صبر و استقامت کا راستہ اختیار کرے تو کوئی بھی سامراجی طاقت اس کے وسائل پر قبضہ نہیں کر سکتی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اپنی انا کی تسکین کے لیے امریکہ کو اس مہم جوئی میں گھسیٹا، آور ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا والے تیز آپریشن کی خوش فہمی میں مبتلا تھے۔ لیکن ایرانی فوج، عوام اور قیادت کی بے مثال مزاحمت نے ان کے تمام حساب کتاب گڑبڑ کر دیے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں قوم نے نہ صرف فوجی جارحیت کا مقابلہ کیا بلکہ جنگی جرائم، جیسے سکولوں پر حملے اور معصوم بچوں کی شہادت کے باوجود استقامت کا جھنڈا بلند رکھا۔ یہ خون شہدا کا نتیجہ ہے کہ امریکہ کو آخرکار جنگ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔
ٹرمپ کی پریس کانفرنس میں پاکستان اور قطر کا شکریہ ادا کرنا اس بات کا اعتراف تھا کہ خطے کی سفارتی حکمت عملی نے بھی امریکی دباؤ کو کم کیا۔ نتیجتاً، واشنگٹن نے اپنی اسٹریٹجک ناکامی کو معاہدے کا لبادہ اوڑھا دیا۔ چودہ نکاتی Memorandum of Understanding (MOU) مشرق وسطیٰ کی سیاست اور عالمی معیشت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ بلومبرگ اور دیگر ذرائع کے مطابق یہ فریم ورک فوری فائر بندی، ساٹھ دن میں حتمی معاہدے کی طرف پیش رفت، اقتصادی بحالی اور پابندیوں میں نرمی کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ سب سے اہم شق فوری اور مستقل فائر بندی ہے جو لبنان فلسطین سمیت تمام محاذوں پر ہو گی۔ دونوں فریقوں نے طاقت کے استعمال سے گریز، ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام اور اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ سمندری معاملات میں امریکہ تیس دن میں نیول بلاکیڈ ختم کرے گا، جبکہ ایران کمرشل شپنگ بحال کرے گا۔ حتمی معاہدے میں امریکی فورسز کا خطے سے انخلا بھی شامل ہے۔
اقتصادی پہلو اس معاہدے کا مرکزی ستون ہے۔ کم از کم تین سو ارب ڈالر کا ترقیاتی پیکج ایران کی بحالی کے لیے تیار کیا جائے گا۔ جو علاقائی پارٹنرز اور انٹرنیشنل فنڈ کے ذریعے ہو گا۔ پابندیاں مرحلہ وار ختم ہوں گی، تیل اور پیٹرو کیمیکلز کی برآمدات کے لیے عارضی لائسنس جاری ہوں گے، اور منجمد اثاثوں تک رسائی ممکن بنائی جائے گی۔ جوہری معاملات میں ایران نے دوبارہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہتھیار نہیں بنائے گا، جبکہ سٹیٹس کو برقرار رہے گا۔
یقیناً تنقید بھی ہے۔ کچھ حساس مسائل جیسے ایران کا میزائل پروگرام اور جوہری نگرانی کو مستقبل کے مذاکرات پر چھوڑ دیا گیا ہے، جو عملدرآمد کے دوران چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم، مجموعی طور پر یہ فریم ورک موجودہ جنگ کا خاتمہ کرتا ہے اور طویل مدتی سفارتی راستے کی بنیاد رکھتا ہے۔
یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کے لیے نئی امیدیں پیدا کرتا ہے۔ فوجی تنازع ختم ہونے سے علاقائی استحکام ممکن ہو گا، جبکہ تیل کی برآمدات کی بحالی عالمی معیشت کو سہارا دے گی۔ سب سے بڑھ کر، یہ ایران کی استقامت کی کہانی ہے۔ ایک قوم کی جو ظلم کے سامنے جھکی نہیں، بلکہ تاریخ بدل دی۔
اب عالمی برادری اس معاہدے کے نفاذ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگر ساٹھ دن میں حتمی ڈیل طے پا گئی تو تصادم کی بجائے تعاون اور ترقی کی نئی فصل شروع ہو سکتی ہے۔ ماضی کے زخموں کو بھرتے ہوئے، ایران اور خطہ ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ یہ نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سبق ہے : استقامت ہمیشہ فتح کی ضامن ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں