مجھے فلمیں دیکھنے کا کچھ خاص شوق نہیں البتہ سب-اسٹیک پر ایک آرٹیکل پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک انڈین لکھاری نے اداکار امول پالیکر کی فلموں کا ذکر کیا تھا۔ جہاں فلم کے ہیرو معمول سے ہٹ کر متاثر کن کردار ہوا کرتے تھے وہاں امول پالیکر ایک عام انسان اور اسکی زندگی میں موجود مسائل کو بہت خوبصورتی سے اپنے کردار کے ذریعے پیش کیا کرتے تھے۔ لکھاری نے آرٹیکل کچھ یوں شاندار انداز میں لکھا تھا کہ میں نے سوچا کیوں نہ ان فلموں کو ایک بار دیکھا جائے، سو فلم ”رجنی گندھا“ (جو کہ ہندی میں ایک پھول کا نام ہے) دیکھ لی۔
اس قدر آہستہ اور دھیمی رفتار پر بننے والی امول پالیکر کی فلمیں، نروس سسٹم کو آہستہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ عام انسانوں کی زندگی میں شدید جذباتی لمحات (loud climaxes) نہیں ہوتے بلکہ بظاہر عام نظر آنے والے البتہ پیچیدہ جذبات ہوتے ہیں جنہیں امول پالیکر اپنی فلموں میں بہت خوبصورتی سے دکھاتے ہیں۔ فلم ”رجنی گندھا“ میں بھی ایک ایسے پیچیدہ گومگوں کو دکھایا گیا ہے جس میں اکثر انسان خود کو الجھا ہوا پاتے ہیں۔
آپ میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہونگے جنہیں اپنے ہمسفر/پارٹنر میں کچھ باتیں ناپسند ہونگی، پا پھر کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ آپ کے ہمسفر میں کچھ باتیں آپ کو اکتاہٹ یا بیزاری کا احساس دلاتی ہوں یا کچھ کمی جو آپ اس میں دیکھتے ہیں یا پھر کچھ عادات یا خوبیاں جنہیں آپ دیکھنے کے خواہشمند ہوں…. میں نے اپنے پیشہ اور روزمرہ زندگی میں لوگوں کو اس سب سے گزرتے دیکھا ہے۔
فلم رجنی گندھا کی ہیروئن بھی دو کرداروں میں الجھن کا شکار ہوجاتی ہے کہ کسے چنے، ایک طرف ٹھوس حقائق سے جڑا شخص جو زندگی کو عملی نظر سے دیکھتا ہے جبکہ دوسری جانب ایک فنکار، تخلیقی اور غیر روایتی شخص جو آزادانہ زندگی گزارتا ہے۔
ہم سب کسی نہ کسی ایک سمت کو زیادہ جھکے رہتے ہیں، کچھ لوگ رومانوی تو کچھ لوگ حقیقت پسندی کے حامی ہوتے ہیں، آپ کو یہ دونوں متضاد خصوصیات کسی بھی ایک شخص میں عملی جامعہ پہنے بیک وقت نظر نہیں آئیں گی، کوئی حقیقت پسند تھوڑا بہت افسانوی ہوسکتا ہے لیکن زیادہ تر اس کے رویوں میں حقیقت پسندی کا عنصر ہی نمایاں ہوگا۔ ہمارے ساتھ رہنے والا ہمسفر ہو یا پھر ہم خود، ہم مکمل نہیں ہوتے، ہمیشہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور رہے گا جس پر ہمارے ساتھ رہنے والے کو اعتراض ہوگا یا جو اسکی خواہش کے مطابق نہ ہوگا۔
اکثر لوگ دوسروں کے ہمسفر کو آئیڈیلائز (idealise) یا فینٹسائز (fantasise) کرتے ہیں اور جو خصوصیات ان کے ہمسفر میں انہیں نہیں دکھتی وہ اسے کسی دوسرے میں ڈھونڈ کر اپنی خواہشات کو مکمل کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں اس بات کا ہرگز علم نہیں ہوتا کہ وہ دو مختلف لوگوں سے اپنی خواہشات پوری کروانے کے بعد بھی ادھورے ہیں اور رہیں گے، کیونکہ اس دنیا میں کوئی بھی ایسا انسان موجود نہیں جو آپ کی تمام خواہشات پر پورا اترے۔
اگر آپ کسی ایسے ہمسفر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جو بہت آزادانہ اور لبرل سوچ رکھتا ہے تو آپ کی نفسیات کا ایک جز کسی روایتی انسان کی جانب کشش محسوس کرے گا۔ یہ ہمارے ذہن کا ایک فیچر ہے (اس فیچر نے ہی انسان کو اس دنیا کا بادشاہ بنایا کیونکہ ارتقاء نے اس کے ذہن کو متلاشی بنا دیا، یہ فیچر کارآمد تو ہے لیکن کبھی کبھار تکلیف کا باعث بھی بن جاتا ہے)، ذہن ایسے ہی کام کرتا ہے، جو نہیں ہے اسکی تلاش میں رہتا ہے، اس فیچر کو سمجھنا گہرائی میں آپ کو اس نفسیاتی کشمکش سے آزاد کردیتا ہے اور اس تلاش کو ختم کردیتا ہے کہ شاید آپ کا ہمسفر ایک اچھا یا مکمل ہمسفر نہیں اور آپ کو اس تلاش کو جاری رکھنا چاہیے کہ کہیں تو کوئی ایسا ہوگا جو آپ کو مکمل کرے گا یا پھر اس میں وہ سب ہوگا جو آپ چاہتے ہیں، جبکہ یہ محض ایک برم ہے کیونکہ…….
محبت کا حقیقی احساس ہوتا ہی تب ہے جب آپ اپنے پارٹنر کی شخصیت کے دونوں پہلو جو آپ کو پسند اور ناپسند ہیں ان دونوں کو قبول کرتے ہیں۔ بلکل ویسے جیسے سائیکوانالسٹ کارل ینگ کہتے ہیں کہ ”انا“ (Ego) اور ”شیڈو“ (Shadow) (یوں سمجھیے کہ انا آپ کے ہمسفر کی شخصیت کے وہ حصے ہیں جو آپ کو پسند ہیں جبکہ شیڈو وہ ہیں جو آپ کو ناپسند ہیں) کو ضم کرنا اور قبول کرنا آپ کو ایک مکمل ”خودی“ (Self) کو محسوس کرنے کا احساس بخشتا ہے بلکل اسی طرح…….
اپنے ہمسفر کی شخصیت کی دونوں سائیڈ، جو آپ کی نظر میں اچھی یا بری ہے، کو قبول کرنا آپ کو اس سے محبت کرنا اور مستحکم رشتہ قائم کرنا سکھاتا ہے…
آپ کسی بھی انسان کی خامیوں کو نظر انداز کرکے، ان کو رد کرکے صرف اسکی ان خوبیوں کو سراہیں جو آپ کو پسند ہیں، یوں محبت نہیں کرسکتے۔ آپ کسی انسان کی شخصیت کے چند حصوں کو پسند کرتے ہوئے جبکہ اسکی شخصیت کے باقی پہلوؤں کو نظرانداز کرتے ہوئے پیار کرنے کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔
آپ کسی انسان کی شخصیت سےحصوں میں محبت نہیں کرسکتے، محبت تب ہی ہوسکتی ہے جب ہمسفر کی ”انا“ (جو آپ کو پسند ہے) اور اسکے ”شیڈو“ ( جس سے آپ کو اکتاہٹ ہے) دونوں کو احترام اور پیار ملے، دونوں کو توجہ ملے، تو ہی لازوال محبت (Self) وجود میں آتی ہے۔ تبھی محبت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
جب تک ہمسفر اپنی شخصیت کے ان حصوں کا اظہار کرتا رہے جو آپ کو پسند ہے تب تک سب صحیح، لیکن جیسے ہی وہ ان پہلو کو سامنے لائے جو آپ کو ناپسند یا کم پرجوش لگیں اور آپ اکتاہٹ کا شکار ہوں……تو یوں محبت نہیں ہوسکتی اور نہ ہی آپ کو کبھی اس کرہِ ارض پر اپنے قیام کے دوران کسی انسان کے ساتھ گہرا تعلق بنانے کا شرف نصیب ہوگا اگر تو آپ اپنے ہمسفر کی مکمل شخصیت کو سمیت خوبیوں اور خامیوں کے قبول نہیں کریں گے۔
یہ راز جان لیں کہ کسی انسان سے گہرا اور محبت کا تعلق تبھی ہوسکتا ہے جب اسکی شخصیت کے ”شیڈو“ کو سمجھا جائے، توجہ دی جائے، اور اگر ضرورت پڑے تو قبول بھی کیا جائے……. یوں آپ کسی بھی انسان کو زندگی بھر کے لیے جیت سکتے ہیں، آپ کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ بھروسہ (trust) ، اپنے پارٹنر کے سامنے خود کا اظہار (self-expression) اور توجہ (attention) کس قدر پرکشش اور دیوانگی کی حد تک کسی انسان کو چاہنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ فرانسیسی فلاسفر سیمون وائل کہتی ہیں کہ
”توجہ، سخاوت کی نایاب ترین اور خالص ترین شکل ہے۔“
اور میں ایک نفسیات دان ہونے کے ناطے سیمون کی اس بات سے ایک سو ایک فیصد متفق ہوں۔
فلم ”رجنی گندھا“ کی ہیروئن بھی کچھ ایسا ہی کرتی ہے کسی ایک کردار کا انتخاب کرلیتی ہے جو اسے اپنے لیے بہتر لگتا ہے اسکی تمام کر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ۔ اور مجھے یہی الجھن پسند آئی جسے بہت خوبصورتی اور پیچیدگی کی اس اس فلم میں دکھایا گیا ہے۔
ارجیت سنگھ کے ایک گانے کی چند سطریں مجھے بہت پسند ہیں اور اسے ذہن نشین کرلیں….
جو پاس تیرے وہی تیرا
باقی سب موہ کا پھیرا
تو کیوں سمجھ نہیں پایا
تن مٹی ہے من مایا


