پہلے زمانے میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے کو پسند کرتے تھے۔ آپس کی اس بیٹھک میں بڑی برکت ہوا کرتی تھی۔ اس کے بہت سارے فوائد تھے، مل بیٹھنے سے آپس کے تعلقات میں خوش گواریت کا احساس ہوا کرتا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے خوشیوں کے میٹھے اور خوش ذائقہ لڈو ایک دوسرے کے مونہہ میں رکھے جارہے ہوں، جن کی لذت مونہہ سے براہ راست دل میں اترتی جا رہی ہو۔ ہر سو محبت کی خوشبو پھیلی رہتی تھی۔ ہر کوئی دوسرے کی تکلیف اور پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھ کر تکلیف کی جلتی آگ پر پانی ڈالا کرتا تھا۔ قربتوں اور خیر سگالی کا نور ہر آنکھ میں چمکتا دکھائی دیتا تھا۔ سادگی کی ٹھنڈک ہواؤں میں رچی بسی ہوتی تھی۔
تصنع اور بناوٹ کا شائبہ تک نہیں ہوا کرتا تھا۔ ہر گھر میں سب اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ مسائل پر بات کیا کرتے تھے۔ کسی کے بارے میں بلا تحقیق نا گوار تنقید کرنے کو عیب سمجھا جاتا تھا۔ کسی کی غیبت کرنے کو نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھس جاتا تھا۔
رواداری اور ایثار کے جذبے کے سنگ خیر و فلاح اور صلاح مشورے کو اہمیت دی جاتی تھی۔ الغرض دیہات اور شہروں کے چاروں اکناف میں سکون اور طمانیت کا اجالا پھیلا ہوتا تھا۔ ایک دوسرے کی تکلیف اور خوشی سانجھی ہوا کرتی تھی ۔ گھر کی خواتین اور بزرگوں کا ادب و احترام ہوا کرتا تھا۔ خواتیں کے ساتھ حسن سلوک معاشرے کی روائت تھی۔ گھر کی عورتیں شرم و حیا کا پیکر ہوا کرتی تھیں۔ سچ بولا جاتا تھا اور جھوٹ سے نفرت کی جاتی تھی۔ قصے کہانیوں اور شائستہ مذاق سے محفلیں زعفران زار ہوا کرتی تھیں۔ اخلاق اور اخلاص ابلاغ کا حسن ہوا کرتا تھا۔
مسلک کے جھگڑے تھے نہ تعصب کی بات ہوا کرتی تھی۔ آپس کی کھٹ پٹ سے احتراز کیا جاتا تھا، تانک جھانک اور آوارگی پہ اعتراض ہوا کرتا تھا۔ سادگی والا رہن سہن ہر آنگن، ہر صحن میں چمکتا دکھائی دیتا تھا۔ عبادت و بندگی کا نور ہر چہرے کو نورانی بناتا دکھائی دیتا تھا۔ حرص اور طمع ناپید تھے۔ حسد اور عداوت تھی نہ دوسروں کے حقوق غصب کرنے کی بات ہوتی تھی۔ ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ دلوں میں کار فرما ہوا کرتا تھا۔ پوری آبادی پھولوں سے سجے گلدستے کی مانند دکھائی دیتی تھی۔ قناعت، صبر و استقلال اور تحمل نے سب کے دلوں میں گھر پیدا کر رکھا تھا۔ ایک ایسا دلکش ماحول تھا، جس نے سب اچھا ہے کا تاثر قائم رکھا تھا۔
پھر وقت نے کروٹ لی ۔ جمود کو توڑنے کی باتیں ہونے لگیں۔ دور جدت کی ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں۔ خیالات بدلنے لگے۔ قدامت پسندی اور تجدید کی خواہش رکھنے والوں کے درمیان نوک جھونک شروع ہونے لگی۔ اس نوک جھونک نے سیاست کا دامن پکڑ لیا اور جب سیاست غالب ہونے لگی تو انقلاب کے نعرے لگنے لگے۔ دلوں کے جذبات بدلتے چلے گۓ۔ مال و زر کی طلب سے خرابی کی بنیاد پڑنی شروع ہوگئی۔ امارت و غربت کے درمیان خلیج حائل ہونے لگی۔ مفاد پرستی نے اپنے پراۓ کے فرق کو غرق کرنا شروع کر دیا۔ حرص اور لالچ نے لوگوں کو خود غرضی کی طرف راغب کرنا شروع کر دیا۔ برے معاشرتی رویوں کے پھیلاؤ نے عوام اور حکام کو گھیرے میں لے لیا۔ اچھے اور برے کا فرق مٹتا چلا گیا۔ مفاد پرستی اور بد دیانتی پنپنے لگی، دشمنیوں اور محاذ آرائی جیسی کیفیات نے عدم تحفظ کی فضا قائم کردی۔ اچھائیوں پر برائیوں نے غلبہ پا لیا۔
آج ہم جن عوارض میں مبتلاء ہیں وہ ہماری خود غرضی، روپے پیسے کی کسی بھی ذریعے سے کمانے کی خواہش کے شاہکار ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء میں غیر معیاری اور ناقص چیزوں کی ملاوٹ نے لوگوں کی صحت برباد کر دی ہے۔ جعلی ادویات اور معدنی پانی میں آلودہ پانی کی ملاوٹ نے معدے میں زہر اتارنا شروع کر دیا ۔ جگر اور گردے ناکارہ ہونے لگے۔ ڈاکٹروں کی فیسیں ادا نہ کر سکنے اورمہنگے علاج کی عدم سکت کی پاداش میں مریض ایڑیاں رگڑتے رگڑتے جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ خود غرضی اور حرص دل و دماغ پر چھا رہی ہے۔ لڑائی جھگڑے، دشمنیاں اور محاذ آرائی عروج پر ہے۔ احترام آدمیت کے جذبات ہوا میں اڑ گۓ۔ خواتین کی لٹتی عصمت و آبرو ریزی بلا روک ٹوک سماج کے چہرے کو مسخ کر رہی ہے۔ بزرگوں کا احترام ہے نہ بچوں کی اچھی تربیت کا اہتمام۔ جب سے الیکٹرک بائیکس متعارف ہوئیں کم عمر بچے ان پہ سوار چھوٹے چھوٹے بچوں کو سواری دیتے ہوۓ حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔
والدین کو کوئی فکر نہیں وہ بچوں کی ضد کے آگے اپنا سر نگوں کر چکے ہیں۔
ناپ تول میں کمی اب کوئی برائی نہیں رہی۔ جانوں کی قدر و قیمت رہی نہ انصاف کا حصول آسان ہے۔ جس کی جو مرضی ہو وہ کر گزرتا ہے۔ بے ایمانی کاروبار کا حصہ بن گئی ہے۔ رشوتوں کی وصولیوں نے مجوریوں کے سودے کرنے شروع کر دئے۔ مفاد پرست ہر طرف لوٹ مار۔ جائداد کی خرید و فروخت کے کاروبار دھوکہ دہی اور بد دیانتی کو کامیابی کی دلیل سمجھنے لگے ہیں۔ بد دیانتی نے برے رسم و رواج کی بنا ڈال دی ہے۔ حکومتیں سیاسی مصلحتوں کے باعث معاشرتی برائیوں کے خاتمے کی طرف توجہ نہیں دیتیں۔ خود حکومتیں بدعنوان اور خود غرض عناصر سے پاک نہیں ہوتیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری نے جرائم کی دنیا کو فروغ دینا شروع کر دیا ہے۔ اب یہی ہماری قسمت ہے، یہی ہمارا نصیب ہے کہ ہمآرے ہوتے ہوئے زمانے کے انداز بدلے گئے ، نئے راگ ہیں ساز بدلے گئے۔
سوال یہ ہے کہ زمانے کی نیرنگی کی اس کیفیت کوکیسے بدلا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ہمارے ماحول، رویوں، اطوار اور تہذیب میں آنے والا یہ بدلاؤ ایک خود کار عمل اور طویل مدت کے بعد وجود میں آیا ہے، لیکن اگر قصداً اس معاملے میں سعی کی جاۓ تو یقینا اس کے مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ مثلاً برائیوں کے پھیلاؤ کو روکنے کی خاطراور اس کے سد باب کے لئے میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے مہم چلائی جا سکتی ہے۔ دین آور قرآنی تعلیمات کو عام کیا جاۓ۔ ایسے لیکچرز اور سیمینارز کا کثرت سے انعقاد کیا جاۓ جن میں جدید دنیا کی ہولناکیوں اور بڑھتی خرابیوں کی نشاندہی کر کے اخلاق، احسن برتاؤ اور ذہنی درستگی کی طرف لوگوں کو مائل کیا جاۓ۔ نیز بچوں کو آغاز سے ہی اسلامی تعلیمات اور اخلاقیات کا درس دیا جاۓ۔ اس میں والدین اور دینی تعلیمی اداروں کا کردار سب سے زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں فیس بک اور دوسرے ذرائع سے موصول ہونے والے مواد کو فلٹر کرنے کے طریقے تلاش کئے جائیں، اس طرح آج نہیں تو کل مثبت تبدیلی کا مقصد حاصل ہو سکے گا۔ ان شاءاللہ۔


