سٹاک ریزارٹ کے مشترکہ اعلامیے کے بعد جہاں واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین تلخیاں ابھر کر سامنے آئیں، وہی اس معاہدے کے اثرات نے خلیج فارس کے اُمراء اور عرب دارالحکومتوں کو بھی ایک نئی سوچ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ دہائیوں سے خلیج کی سکیورٹی کا پورا ڈھانچہ اس مفروضے پر قائم تھا کہ امریکی فوجی طاقت خطے میں عرب مفادات اور توانائی کی سپلائی لائنز کی حفاظت کی حتمی ضامن ہے۔ تاہم، حالیہ ہولناک تنازع اور آبنائے ہرمز کی عارضی ناکہ بندی نے یہ ثابت کر دیا کہ ایران کے پاس اس امریکی مانیٹرنگ اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کے باوجود عالمی معیشت کو مفلوج کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔7 اکتوبر 2023 کے واقعات سے قبل، واشنگٹن اور تل ابیب کا مشترکہ تزویراتی منصوبہ یہ تھا کہ ‘ابراہیمی معاہدات کا دائرہ وسیع کر کے اس میں سعودی عرب کو شامل کیا جائے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایک ایسا اسرائیل مرکز (Israel-centric) سکیورٹی نیٹ ورک بنانا تھا جو ایران کو خطے میں سیاسی، معاشی اور فوجی طور پر مکمل الگ تھلگ کر دے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے بعد سعودی عرب کی شمولیت کو اس منصوبے کی حتمی فتح سمجھا جا رہا تھا۔تاہم، حالیہ جنگ کی ہولناکیوں، غزہ کی تباہی اور بالآخر امریکہ کی ایران کے ساتھ اس براہِ راست ڈیل نے اس پورے اسٹریٹجک کارڈ کو الٹ کر رکھ دیا۔ دوحہ کے ایک سینیئرافسر نے خلیج کے عوامی اور حکومتی جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے کہا:’’خطے کے لوگوں کو اچانک یہ احساس ہوا ہے کہ خلیج کتنی غیر محفوظ ہے۔ دہائیوں سے ہم سمجھتے تھے کہ ہماری خوشحالی اور سکیورٹی دائمی ہیں۔ لیکن اس جنگ نے دکھا دیا کہ جب ہرمز بند ہوتا ہے اور انشورنس کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو دوحہ اور دبئی کے چمکتے ہوئے ایئرپورٹس اور تجارتی مراکز چند دنوں میں ویران ہو سکتے ہیں۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اور مصر جیسے بڑے کھلاڑیوں نے اس بحران کے دوران تل ابیب کا ساتھ دینے کے بجائے مسلسل کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔ خلیجی ممالک اب یہ جان چکے ہیں کہ ایران کو خطے سے مٹایا نہیں جا سکتا، وہ ایک مستقل جغرافیائی حقیقت ہے۔ چنانچہ، ایران کو مستقل دیوار سے لگانے کی پالیسی کے بجائے، اب عرب ممالک تہران کے ساتھ بقائے باہمی اور سفارتی مکالمے کو زیادہ پائیدار آپشن سمجھ رہے ہیں۔ ابراہیمی معاہدات کا وہ خواب، جس کے تحت اسرائیل کو پورے خطے کا چوہدری بنانا مقصود تھا، اب تاریخ کے سرد خانے کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری طرف اگرچہ تہران کی گلیوں میں معاشی پابندیوں کے عارضی خاتمے اور تیل کی فروخت کی اجازت پر عام لوگ مطمئن نظر آ رہے ہیں، اور صدر مسعود پزشکیان اور سابق وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف اسے تاریخی فتح قرار دے رہے ہیں، لیکن تہران کے سیاسی ایوانوں کے اندر سب کچھ پرسکون نہیں ہے۔اس سوئس معاہدے نے ایران کے سخت گیر قدامت پسند بلاک (Hardliners) کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایران کے بااثر ترین سخت گیر اخبار ‘کیہان’ (Kayhan) نے اپنے اداریے میں خبردار کیا ہے کہ ایرانی وفد نے عارضی معاشی فوائد اور محض 60 دن کے آئل لائسنس کے بدلے اپنے قیمتی تزویراتی پتے داؤ پر لگا دیے ہیں۔ کئی ارکانِ پارلیمنٹ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی اے ای اے (IAEA) کے انسپکٹرز کو دوبارہ ایٹمی سائٹس تک رسائی دینا سنہ 2015ء کے جے سی پی او اے (JCPOA) کی غلطیوں کو دہرانے کے مترادف ہو سکتا ہے، جس سے امریکہ کو دوبارہ جاسوسی کا موقع ملے گا۔ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر یہ بحث اس گہرے تضاد کو ظاہر کرتی ہے کہ تہران کس طرح ایک طرف اپنے انقلابی نظریات اور سکیورٹی کارڈز کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف ایک عملی ڈیل کرنے پر مجبور ہے۔ برجن اسٹاک کا یہ مفاہمت نامہ بین الاقوامی سیاست میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کی ایک واضح مثال ہے جسے ماہرین ‘کثیر القطبی نظام’ یا ملٹی پولر ورلڈ کہتے ہیں۔ اب وہ دور گزر چکا جب مشرقِ وسطیٰ کے تمام اہم فیصلوں کی ڈوریاں صرف وائٹ ہاؤس سے ہلائی جاتی تھیں۔ اس بار، جب بحران سنگین ہوا، تو قطر، پاکستان اور ترکیہ جیسے علاقائی کھلاڑیوں نے فرنٹ سیٹ سنبھالی۔سابق بھارتی خارجہ سیکرٹری نروپما راؤ نے اس بدلتے ہوئے منظرنامے پر ایک انتہائی اہم نکتہ اٹھایا کہ اب درمیانی درجے کی علاقائی طاقتیں ان تنازعات کے نتائج کو وضع کر رہی ہیں جن کا فیصلہ ماضی میں صرف سپر پاورز کیا کرتی تھیں۔ پاکستان کی جانب سے اس پورے عمل میں ثالثی اور ‘لبنان ڈی کانفلکشن سیل’ میں شمولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ اسلام آباد کا سکیورٹی اور سفارتی کردار مشرقِ وسطیٰ کے لیے کتنا ناگزیر ہے۔مشرقِ وسطیٰ کا یہ نیا رخ کم نظریاتی، زیادہ کاروباری اور علاقائی استحکام پر مرکوز ہے۔ خلیج کے پانیوں میں اب امریکی بالادستی کے سائے دھندلا رہے ہیں اور خطے کے ممالک اپنے تحفظ کے لیے نئی شراکت داریاں قائم کر رہے ہیں۔ برجن اسٹاک ریزارٹ دستاویز کی سب سے بڑی اور المناک خاموشی اس خطے کے سب سے خون آلود محاذ پر ہے۔ سوئس جھیل کے پرسکون کنارے جب سفارت کار کافی کے مگ ہاتھوں میں لیے مسکرا رہے تھے، اس وقت بھی غزہ کی پٹی پر بارود کی بو اور معصوم بچوں کی چیخیں تھمی نہیں تھیں۔ یہ اس معاہدے کا وہ تاریک پہلو ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں بڑی طاقتیں جب اپنے مفادات کا سودا کرتی ہیں، تو کمزوروں کے حقوق اکثر پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، ایرانی وفد نے مذاکرات کے ابتدائی سیشنز میں غزہ میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلاروک ٹوک فراہمی، اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا معاملہ اٹھایا تھا۔ تاہم، امریکی وفد، بالخصوص جیرڈ کشنر اور جے ڈی وینس نے اس پر کسی بھی قسم کی حتمی شق کو شامل کرنے سے صاف انکار کر دیا۔امریکہ کا مؤقف تھا کہ غزہ کے معاملہ پر پہلے ہی ایک ڈیل ہوچکی ہے، جس میں قطر، مصر، اور حماس شامل ہیں۔ وہ اب ایران کے ساتھ جوہری یا علاقائی سکیورٹی ڈیل کا حصہ نہیں بنا سکتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاہدے میں لبنان کے لیے تو ‘ڈی کانفلکشن سیل’ بن گیا، آبنائے ہرمز کے لیے ہاٹ لائن قائم ہو گئی، لیکن غزہ کا انسانی المیہ، وہاں کی سویلین ہلاکتیں، یرغمالیوں کی رہائی اور امدادی راہداریوں کا کنٹرول اب بھی مکمل طور پر تشنہ اور غیر واضح ہے۔ موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے نامور مورخین اور اسرائیلی دانشوروں نے تاریخ کے پنڈولم کو پیچھے گھمایا ہے۔ سنہ 1973ء کی ‘یوم کپور جنگ یاد دلاتا ہے جب مصر کے اچانک حملے نے اسرائیل کے ناقابلِ شکست ہونے کے اس غرور کو پاش پاش کر دیا تھا جو اس نے 1967ء کی چھ روزہ جنگ کی یکطرفہ فتح سے حاصل کیا تھا۔1973ء کے اسی جھٹکے کا نتیجہ تھا کہ اسرائیل بالآخر زمین کے بدلے امن کے فارمولے پر راضی ہوا، جس کے بعد مصر کے ساتھ ‘کیمپ ڈیوڈ معاہدہ’ طے پایا اور بعد ازاں فلسطینیوں کے ساتھ ‘اوسلو امن معاہدے’ کی راہ ہموار ہوئی۔ (جاری)
بشکریہ ٩٢ نیوز


