اگر آبنائے ہرمز مزید دس دن بند رہتی، تو امریکہ میں گیسولین کی قیمتیں دوگنی ہو جاتیں، جس کا سارا ملبہ نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم الیکشن پر گرتا۔ ٹرمپ نے بعد میں خود اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا:’’دنیا معاشی طور پر الٹ پلٹ ہو جاتی۔ اگر ہم اس راستے پر چلتے رہتے تو ہمارے اپنے ملک کے اندر پٹرول پمپوں پر لائنیں لگ جاتیں اور امریکی معیشت تباہ ہو جاتی۔‘‘یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں نیتن یاہو کا مشرقِ وسطیٰ کو فوجی طاقت سے بدلنے کا خواب ٹرمپ کے امریکی ووٹر کو مطمئن رکھنے کی ضرورت سے ٹکرا گیا۔ ٹرمپ نے ایک تاجر کی طرح نفع اور نقصان کا حساب لگایا اور اسرائیل کی نظریاتی جنگ پر امریکی معیشت کی بقا کو ترجیح دی۔ برجن سٹاک ریزورٹ کے پریس ہال میں پیر کی صبح جب پاکستان اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا، تو بین الاقوامی امور کے ماہرین نے اس دستاویز کی ایک ایک سطر کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا۔ یہ محض ایک روایتی جنگ بندی یا عارضی معاہدہ نہیں تھا، بلکہ ایک طے شدہ سٹریٹجک فریم ورک تھا جس نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ اس مشترکہ اعلامیے میں جس لچک اور سفارتی باریکی کا مظاہرہ کیا گیا، اس کی توقع چند روز قبل تک کوئی نہیں کر رہا تھا۔معاہدے کا سب سے اہم اور فوری قابلِ عمل حصہ وہ 60 روزہ روڈ میپ ہے، جس کے تحت دونوں فریقوں نے اگلے دو ماہ کے اندر ایک حتمی اور جامع جوہری معاہدے تک پہنچنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس عبوری دورانیے کا مقصد دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ یورینیم کے ذخائر اور پابندیوں کے خاتمے کی باریکیوں پر تفصیلی بحث کر سکیں۔سب سے بڑا بریک تھرو (Breakthrough) ایران کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے (IAEA) کے انسپکٹرز کو اپنی تنصیبات میں فوری طور پر واپس بلانے کا اصولی فیصلہ تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے امریکی حکام کو ایک بند کمرے کی بریفنگ میں بتایا کہ تہران نے نہ صرف معائنہ کاروں کی واپسی پر آمادگی ظاہر کی ہے، بلکہ افزودہ کیے گئے موادکی درجہ بندی اور نگرانی کے نئے طریقہ کار پر بھی رضامندی دی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واشنگٹن روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا:”نیوکلئیر انسپکشنز کا عمل بہت جلد، یہاں تک کہ چند گھنٹوں کے اندر اندر شروع ہو سکتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران اس بار مذاکرات میں سنجیدہ ہے۔” اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ایران افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور اس کے متبادل راستے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ اس عمل کی نگرانی کے لیے ایک ‘ہائی لیول پولیٹیکل اوور سائیٹ کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو براہ راست دونوں ممالک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کو جوابدہ ہوگی۔ اس کمیٹی کے ماتحت تین ورکنگ گروپس کام کریں گے: پہلا ایٹمی فائل پر، دوسرا پابندیوں کے خاتمے پر، اور تیسرا تنازعات کے حل کے طریقہ کار پر۔اگرچہ ایٹمی پروگرام اس پورے تنازع کا مرکزی نقطہ دکھائی دیتا تھا، لیکن برجن سٹاک میں ہونے والی گفتگو کا ایک بڑا حصہ لبنان میں جاری زمینی جنگ اور حزب اللہ و اسرائیلی افواج کے درمیان ہونے والے خونریز تصادم کے گرد گھومتا رہا۔ ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے مطابق، لبنان کے موضوع پر ہونے والی بحث اس قدر “شدید اور تناؤ سے بھرپور” تھی کہ کئی بار ایسا لگا کہ مذاکرات معطل ہو جائیں گے۔ایران نے اصرار کیا کہ جب تک لبنان پر اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے اور تہران کو اس کی سکیورٹی کی ضمانت نہیں ملتی، وہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھولنے کا حکم جاری نہیں کرے گا۔ اس گرہ کو کھولنے کے لیے ایک غیر معمولی سٹریٹجک فیصلہ کیا گیا، جسے مشترکہ اعلامیے میں لبنان ڈی کانفلکشن سیل کا نام دیا گیا ہے۔اس سیل کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان دستخط شدہ اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت لبنان میں فوجی کارروائیوں کے مکمل خاتمے کی نگرانی کرنا ہے۔ لیکن اس پورے میکانزم کی سب سے حیران کن بات اس کی رکنیت ہے۔ اس سیل میں امریکہ، ایران، پاکستان، قطر اور لبنانی حکومت شامل ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا شاید پہلا واقعہ ہے کہ اسرائیل کی سرحد پر ہونے والی جنگ بندی اور سکیورٹی انتظامات کے فیصلے واشنگٹن اور تہران مل کر کر رہے ہیں، اور اس میں تل ابیب کو شاملِ مشورہ تک نہیں کیا گیا۔ یہ وہ نکتہ ہے جس نے اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اندر خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ اسرائیل کے مقتدر ترین اخبار ‘ہاریٹز’ کے سینیئر کالم نگارگڈیون لیوی نے اس صورتحال کا ایک انتہائی گہرا تجزیہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ واشنگٹن کا اسرائیل کے ساتھ اتحاد ہمیشہ غیر مشروط نہیں ہوتا۔ جب امریکی صدر کو اپنے ملک کے اندر پٹرول کی قیمتوں، مہنگائی اور انتخابات میں شکست کا خوف سستاتا ہے، تو وہ تل ابیب کے سکیورٹی خدشات کو ایک طرف رکھنے میں دیر نہیں کرتا۔ یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ وہ کسی بیرونی طاقت کے بل بوتے پر پورے خطے کو مستقل جنگ کی آگ میں نہیں جھونک سکتا۔”اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جو پشیمانی ظاہر کی، وہ پوری اسرائیلی قیادت کی اندرونی کہانی سناتی ہے: “اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ اس فوجی مہم جوئی کا آخری نتیجہ تہران کو معاشی ریلیف اور واشنگٹن کے ساتھ اس کی براہِ راست ڈیل کی صورت میں نکلے گا، تو ہم شاید اس جنگ کا آغاز ہی نہ کرتے۔” اس معاہدے کی کامیابی کے پیچھے دوحہ اور اسلام آباد کی مہینوں پر محیط خاموش سفارت کاری اور شٹل ڈپلومیسی کا بڑا ہاتھ ہے۔ قطر نے روایتی طور پر مالیاتی اور سفارتی چینلز فراہم کیے، جبکہ پاکستان نے اپنے تزویراتی تعلقات اور علاقائی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی بحالی میں پل کا کردار ادا کیا۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ “اسلام آباد مفاہمت نامہ” دراصل اس پورے عمل کی بنیاد تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے پہلے ہی الیکٹرانک دستخطوں کے ذریعے ایک دوسرے پر حملے نہ کرنے اور مذاکرات کی میز پر آنے کا عہد کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سوئس ریزورٹ میں ٹرمپ کے بیانات کی وجہ سے تعطل پیدا ہوا، تو پاکستانی اور قطری سفارت کاروں نے تہران اور واشنگٹن میں موجود اعلیٰ ترین فیصلہ سازوں سے براہِ راست رابطے کر کے اس بحران کو سنبھالا۔(جاری ہے)
بشکریہ ٩٢ نیوز


