کربلا کا اصل سبق: مشروع ریاست، خلافت اور اسلامی سیاسی فکر/زاہد سرفراز

کربلا کا واقعہ محض ظلم کے خلاف ایک جذباتی احتجاج نہیں تھا، بلکہ اسلامی ریاست، مشروع اقتدار اور دینی قیادت کے سوال سے جڑا ہوا ایک نہایت اہم تاریخی باب ہے۔ افسوس کہ اس واقعے کی تعبیر میں اکثر جذبات کو علمی اصولوں پر ترجیح دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں امت آج تک فکری انتشار کا شکار ہے۔
اگر اسلام کو محض اخلاقی تعلیمات کا مجموعہ سمجھ لیا جائے، جیسا کہ بعض معاصر مفکرین کا رجحان محسوس ہوتا ہے، تو پھر اسلام کے قانونی، سیاسی اور ریاستی نظام پر گفتگو بے معنی ہو جاتی ہے۔ حالانکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں اخلاق کے ساتھ ساتھ قانون، سیاست، معیشت اور اجتماعی نظم بھی شامل ہے۔
ہمارے غامدی صاحب کا شمار بھی انہی مفکرین میں ہوتا ہے جو اسلام کو محض ایک ضابطہ اخلاق سمجھتے ہیں پھر انکو تو اصولاً اسلام کے قانونی اور سیاسی نظام سے بحث کرنی ہی نہیں چاہیے بنیادی طور پر اسلام میں خلافت کی اتھارٹی قائم کیے بغیر کسی بھی طرح کی کوئی سیاسی یا دینی جہدوجہد ممکن ہی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم کی وفات کے فوری بعد انکی تجہیز وتکفین اور جنازہ پڑھائے جانے سے بھی قبل سب سے پہلے خلافت کی اتھارٹی قائم کی گئی تھی چنانچہ امام حسین کو کوفہ جانے کے بجائے معاویہ کی وفات کے فوراً بعد مدینے میں ہی رہ کر سب سے پہلے تمام صحابہ کی مشاورت سے خلافت کی اتھارٹی قائم کرتے ہوئے انھی میں سے کسی ایک کو خلیفہ منتخب کر لینا چاہیے تھا اور اسکے بعد اگر وہ اپنی جہدوجہد کا آغاز کرتے تو اسلامی تاریخ کا دھارا ہی بدل چکا ہوتا اور اس تاریخ کے نتائج یکسر مختلف ہوتے جو آج ہمارے سامنے ہے مگر یہاں ان سے بہت بڑی اجتہادی غلطی سرزد ہوئی جسکا خمیازہ صرف انکو ہی نہیں بھگتنا پڑا بلکہ ان کے بعد آج تک صدیوں سے پوری امت مسلسل بھگت رہی ہے واضح رہے کہ اسلامی سلطنت کی بنیاد رب کی ملکیت پر اٹھائی گئی ہے جس کے تحت زمین پر موجود کسی بھی انسان کو ملکیت کا حق نہیں دیا گیا بلکہ انسان کے پاس جو بھی ہے وہ سب رب کی ملکیت اور اسکی امانت ہے جسکا وہ کسٹوڈین ہے سوال یہ ہے کہ اسلام میں ملکیت خاص رب کی کیوں قرار دی جاتی ہے کیونکہ اس نے انسان سمیت ہر چیز کو پیدا کیا ہے گویا فقط پیدا کرنے والا ہی مالک ہو سکتا ہے کوئی دوسرا نہیں انسانی ملکیت کا دعویٰ تو رب کے ساتھ شراکت کا دعویٰ ہے جو سب سے بنیادی شرک ہے جس سے تمام سماجی حرکیات ترتیب پاتی ہیں لہذا ملکیت رب کی ہے تو حاکمیت بھی اسی کی قائم ہو گی چنانچہ اسلامی ریاست کا سپریم لاء قرآن ہے جسکی ذیلی قانون سازی پارلیمنٹ نہیں بلکہ اہل علم لوگ قرآن و سنت کے آفاقی اصولوں کے تحت کریں گے اور اسلام کے مطابق ریاستی مشروعیت یعنی legitimacy رب کے دین اسکے نظام میں تلاش کی جاتی ہے جو اسکے میزان پر پورا اترے گا وہی آپکا جائز خلیفہ اور رب کا حقیقی نمائندہ یعنی ریاستی منتظم اعلیٰ کہلائے گا جسے عام عوام نہیں بلکہ علماء کی ایک کونسل قرآنی معیار کے تحت منتخب کرے گی اور عوام معاشرتی عدل سے مشروط خلیفہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا حلف دیتی ہے جسے دوسرے لفظوں میں بیعت کہتے ہیں جمہوریت نبی اکرم سے کہیں پہلے عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ماقبل ایتھنز میں موجود تھی مگر نہ تو انھوں نے یونان کی اس پسماندہ ترین فکر کا ہی کبھی ذکر کیا اور نہ ہی کبھی ہمیں اس فراڈ سرمایہ دارانہ جمہوریت کو اختیار کرنے کا درس دیا مگر ہمارے ہاں غامدی صاحب اور ان جیسے دوسرے کہیں سکالرز جنھیں شاید جدید سیاسی نظریات سے مکمل آگاہی نہیں وہ ہمیں ظلم پر مبنی اسی سرمایہ دارانہ جمہوریت کو ایمان کا حصہ بنا لینے کا درس دیتے ہیں جس میں کوئی اہل علم اور پرہیزگار شخص حکمران نہیں بنتا بلکہ ایک حرس زدہ متکبر اور متلون مزاج سرمایہ دار ہی حکمران بنتا ہے جو عوام کے حقوق کا نہیں بلکہ اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے جس میں عوام سے consent لیا نہیں جاتا بلکہ فراڈ الیکشن مہم اور میڈیا کے ذریعے باقاعدہ ایک پروگرام کے تحت آپ کا consent تشکیل دیا جاتا ہے پھر جب وہ سرمایہ دار اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جاتا ہے تو ظلم پر مبنی غیر انسانی قانون سازی کے ذریعے عوام کے بنیادی انسانی حقوق تک چھین لیتا ہے اور یوں ہم کولہوں کے بیل کی طرح خود کو آزاد سمجھتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کی انہی غلام گردشوں میں زندگی بھر ذلیل و خوار رہتے ہیں اس میں زیادہ سے زیادہ ہمیں احتجاج کا حق دیا جاتا ہے وہ بھی اکثر صورتوں میں ریاستی جبر سے مکمل ختم کر دیا جاتا ہے اور ہم محض ایک بے بس اور لاچار تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں اگر موجودہ سیاسی تناظر میں دین کی بات کریں تو یہ جان لیں کہ سیکولر ازم کے نام پر ریاست کو دین سے ہی جدا کر دیا گیا ہے اب کر لو جو آپ نے کرنا ہے کیونکہ سیکولرزم آپکے دین کو تو علم ہی نہیں مانتا پھر آپکے معاشرے میں عدل و انصاف کہاں سے آئے گا جس جمہوریت میں ٹرمپ جیسا عقل سے پیدل شخص بھی سرمائے کے زور پر حکمران بن سکتا ہے ایسی جمہوریت سے سو بار الحذر اسلام تو سب سے پہلے ارتکاز سرمایہ پر پابندی لگاتا ہے وہ قارون کو ابلیس کا نمائندہ بتاتا ہے پھر ایمان اور صلاة کے فوری بعد رب کے دیے ہوئے رزق سے دوسروں کی بھلائی میں خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے مگر ہم اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ ہمیں غلط اور صحیح کی تمیز ہی باقی نہیں رہی تو پھر ہم سیاسیات یا دین پر کیا ہی کلام کریں گے واضح رہے کہ ملکیت کی بحث اٹھائے بغیر کسی ریاست کا قیام ہی ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ولمر، جان لاک، کارل مارکس اور دیگر کہیں دوسرے سیاسی مفکرین نے بھی اپنے سیاسی نظریات میں سب سے پہلے ملکیت کو ہی زیر بحث لایا ہے کیونکہ جسکی ملکیت ہو گی حاکمیت بھی اسی کی قائم ہو گی اگرچہ نظریاتی اعتبار سے جمہوریت میں ملکیت عوام کو تفویض کی جاتی ہے مگر عملی طور پر بظاہر آزاد مگر کنٹرولڈ معیشت کے ذریعے بتدریج اس قدر محدود کر دی جاتی ہے کہ زندگی ایک نوالے کو ترستی ہے بھر آپ کمانے کھانے کے اسی ٹریپ میں پھنسے رہتے ہیں جبکہ سرمایہ دار مطلق ملکیت کا حامل ہوتا ہے جو اپنے اثاثوں میں مسلسل اضافہ کرتا چلا جاتا ہے اور یوں وہ سرمائے کے زور پر آپکی زندگی کا بھی مالک بن جاتا ہے چاہے تو آپکو مستقل غلام بنائے رکھے چاہے تو آپکو زندگی کے قفس سے ہی آزاد کر دے جو چاہے اسکی نظر کرشمہ ساز کرے سرمایہ اسکا خدا ہے اور وہ آپکا خدا بن بیٹھا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں