الباما ڈائریز- آپریشن پیپر کلپ(2)-احمر نعمان

دوسری جنگ عظیم کے بعد نازی جرمنی کی جنگی مہارت اور ٹیکنالوجی نے دنیا کو پریشان کر دیا۔ اتحادی طاقتوں کو احساس ہوا کہ جرمن سائنسدان راکٹ ٹیکنالوجی ، جیٹ انجن، بائیو ویپنز اور ایرو ڈائنامکس میں باقی دنیا سے بہت آگے تھے۔ امریکا اور سوویت یونین دونوں ان سائنسدانوں اور ان کی عسکری صلاحیتوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے اور ایک نئی دوڑ شروع ہو گئی۔
امریکا نے ۱۹۴۴ میں آپریشن پیپر کلپ کے عنوان سے ایک خفیہ مشن کا آغاز کیا جس کا مقصد جرمن ہتھیاروں کی تلاش تھا مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ محض ہتھیار سے زیادہ اصل سرمایہ تو ہتھیار بنانے والی مہارت ہے۔ اس وجہ سے ۱۶۰۰ نازی سائنسدانوں اور انجینئرز کو پرکشش مراعات دے کر یا بزور بازوجرمنی سے امریکا منتقل کیا گیا تاکہ ان کی مہارت دشمن یعنی سوویت یونین کے ہتھے نہ چڑھ جائے۔ دستاویزات میں ملتا ہے کہ ہٹلر اس دور میں ایک کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار پر بھی کام کرا رہا تھا جس سے مصنوعی طریقہ سے طاعون اور پلیگ پھیلائی جا سکتی تھی۔ ان جنگی جرائم میں براہ راست ملوث بیشتر نازی سائنسدان SS کے رکن بھی تھے، امریکی حکام نے ان کی فائلوں پر پیپر کلپ لگانا شروع کر دیا تاکہ ان کی بھرتی آسانی سے ہو سکے اور ان کا جرائم پیشہ ہونا اور خوفناک ماضی ان کے یہاں لانے میں رکاوٹ نہ بن سکے، اسی وجہ سے اس عمل کو ہی آپریشن پیپر کلپ کا نام دے دیا گیا۔ اس پر ظاہر ہے تنقید بھی ہوئی کہ سرد جنگ میں برتری پانے کے لیے امریکا نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کیا ہے اور بہت بڑے مجرموں کے ماضی کو یا تو فراموش کر دیا ہے یا انہیں چھپا دیا گیا ہے۔ اس کے اہم ترین رکن یا لیڈر کہہ لیں نازی سائنسدان وان بران Wernher von Braun تھے جنہوں نے جدید دنیا کا پہلا راکٹ V2 ایجاد کیا تھا۔
انہیں پہلے ٹیکساس اور ملحقہ ریاست نیو میکسیکو رکھا گیا، مگر یورپ کی حسیں فضاؤں سے ٹیکساس اور نیومیکسیکو جیسی بیکار جگہوں پر جا کر ان کی چیخیں نکل گئیں۔ اسی وجہ سے ۱۹۵۰ میں تمام نازی سائنسدانوں کو ہنٹس ول الباما لا کر بسایا گیا اور انہوں نے امریکا کے پہلے بیلسٹک میزائل پروگرام کی بنیاد یہآں رکھی۔ اس شہر کا نام ہی راکٹ سٹی ہو گیا۔ وان بران نے یہاں ریڈ آرسنل red arsenal آباد کیا جہاں امریکا کے پہلے لائیو میزائل کا تجربہ ہوا اور یہ ابھی تک جاری ہیں۔ ہر بدھ کو ہفتہ وار تجربہ ہوتا ہے، پہلے چند ہفتے تو مجھے سمجھ نہیں آئی پھر معلوم ہوا کہ یہاں زوردار دھماکے معمول ہیں۔
بران ۱۹۵۰ سے ۱۹۷۰ تک دو دھائیاں یہیں رہے، خلا میں امریکا کا پہلا مصنوعی سیارہ Explorer 1 اور اس کا مددگار راکٹ juno1یہیں تیار ہوئے تھے، یہ کولڈ وار میں سوویت یونین کے سپتنک کا جواب تھے۔
وان بران اپنے ماضی سے قطع نظر اس معاملہ میں وژنری تھے، عظیم روسی سائنسدان سالکوسکی نے انسان کو خلا میں بھیجنے کا جو خواب دیکھا تھا، بران اس سے متاثر تھے۔ ۱۹۶۰ میں ناسا نے اسی ٹیم کی بنا پر ہنٹس ول میں مارشل سپیس سنٹر قائم کیا اور وان بران اور اس کی ٹیم ملٹری ڈیفینس سے ناسا منتقل ہو گئی، چاند پر جانے والے اپالو مشن کی بنیاد رکھی گئی، جنہیں خلائی پروگراموں سے دلچسپی ہے، وہ جانتے ہی ہوں گے کہ اپالو مشن کی اہم ترین ‘چیز ‘Saturn Vراکٹ تھا جو ہنٹس ول میں وان بران اور ان کی ٹیم نے ہی ڈیزائن اور پروگرام کیا تھا۔ ابھی حالیہ چاند پر مشن والا راکٹ بھی یہیں تیار کیا گیا ہے۔ اور اب امریکی خلائی ہیڈکوارٹر space headquarters ہی یہیں بنا دیا گیا ہے۔ اسی طرح انٹی بیلسٹک میزائلوں کا پروگرام اور امریکی میزائل ڈیفینس ایجنسی بھی یہیں پر based ہے۔ اسی وجہ سے تھیڈ Thaadانٹرسیپٹر میزائل سسٹم کی تحقیق اور ڈیزائن یہیں کے ہیں، دوسرا معروف پیٹریاٹ کا تعلق بھی یہیں سے ہے۔ ان دنوں ہائپر سونک میزائل سسٹم سے دفاع پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ گولڈن ڈوم پروجیکٹ کا دل بھی یہیں ہے۔
ریاست الباما کی عمومی خاندانی اقدار، روایات، مویشی اور روایتی کھانوں کے ساتھ ساتھ ، اس شہر کا ماحول الباما کی ساکھ کے برعکس ، کم تعصب رکھتا ہے اور معیار زندگی امریکا کے شاید اچھے خاصے معروف شہروں سے کہیں بہتر ہے۔ شہر میں نواحی علاقوں سے آنے والےجارج، سمتھ اور ٹونی، چیچو کی ملیاں اور نارووال میں رہنے والے ماجھے گامے اور ساجے سے زیادہ مختلف نہیں۔ اس لیے شہر میں دلچسپ سا متضاد ماحول ہے ، پہلے ہفتے میں ہی دفتر میں ایک اور خاتون سے تعارف ہوا جو یہاں کی مقامی ہیں مگر گزشتہ دو دھائیوں سے ایسٹ کوسٹ میں تھیں، اب اپنے پوتے پوتیوں کے قریب رہنے کے لالچ میں واپس لوٹی ہیں، مگر ہنستے ہوئے فرما رہی تھیں کہ دو دہائیاں الباما سے باہر رہ کر آئی کیو بیس تیس پوائنٹ بڑھایا تھا مگر یہاں آ کے دو ماہ میں چالیس پوائنٹ گر گیا ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ گائے بکریاں مرغیاں پالنے والے ہیں۔ یعنی کہ دنیا کی سب سے بڑی ہتھیار ساز کمپنی کے اس اہم ترین سنٹر کے سامنے والے گھروں میں مرغ بانگ دے رہے ہوتے ہیں۔
یہ تمام علاقہ ٹیکسس، اوکلاہوما، مسی سپی، ٹینیسی، کینٹکی، الباما وغیرہ بائبل بیلٹ کہلاتا ہے۔ اس میں یہاں شدھ مذہبی بستے ہیں۔ اس پر بات اگلی بار کرتے اختتام کرتے ہیں۔۔۔ جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں