کربلا: ایک ایسی داستان جو ختم ہونے سے انکار کرتی ہے/ڈاکٹر اختر علی سید

۔کربلا نے صدیوں زندہ رہ کر یہ دکھایا ہے کہ وہ کسی ایک مذہبی برادری یا کسی ایک رسم کی وجہ سے نہیں باقی نہیں رہی بلکہ اس کی اصل بقا اس حقیقت میں ہے کہ اس نے انسانی وجود کے کسی نہایت بنیادی اور گہرے احساس کو چھوا۔ اسے عموماً ایک مذہبی واقعہ سمجھا جاتا ہے، مگر اس کی اخلاقی طاقت ہمیشہ عقیدے کی حدود سے آگے نکلی ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ محض تاریخ کا واقعہ نہیں بلکہ اپنے عہد کے پاور سینٹر کے مقابل ایک پُراثر ردِعمل ہے، جسے مشل فوکو طاقت کے خلاف ایک فطری مزاحمت کی صورت قرار دیتا ہے۔ یہی پہلو اسے جدید لبرل اور سیکولر فکر کے لیے بھی اتنا ہی بامعنی بناتا ہے جتنا ایمان والوں کے لیے۔ اپنی اصل میں کربلا ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جس نے اپنی آخری آزادی سے دستبردار ہونے سے انکار کیا۔ ژاں پال سارتر کے الفاظ میں یہ “نہیں” کہنے کی وہ آزادی ہے جسے اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

دنیا کے اس نظام میں جہاں جبر اور استبداد اکثر ہر دروازہ بند کر دیتے ہیں، وہاں فقط یہ انکار ہی انسانی ارادے کا سب سے بامعنی اظہار بن جاتا ہے۔ خاموشی ہمیشہ ایک راستہ ہوتی ہے۔ سمجھوتا بھی ممکن ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہ آدمی اپنی بقا کو نجی دائرے تک محدود کر لے۔ امام حسین ان میں سے کوئی راستہ اختیار کر سکتے تھے۔ بہت سے لوگوں نے یہی کیا، وہ یزید کے تحت زندگی گزارتے رہے اور اپنے عمل کے اخلاقی نتائج کا سامنا کرنے سے بچتے رہے۔ مگر امام حسین نے ایک مختلف راہ چنی۔ ان کا انکار صرف مذہبی نہیں تھا اس لیے کہ کوئی شرعی حکم جان کی قیمت پر ایسے انکار کو لازمی قرار نہیں دیتا۔ یہ خالصتاً اخلاقی انکار تھا جو انسان کو مہیا بنیادی حق پر استوار ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسے نظام کو جائز قرار دینے سے انکار کر دیا جو جبر، بدعنوانی اور موروثی اقتدار پر قائم تھا۔ یہ فیصلہ انسانی ضمیر کے سب سے خالص ترین رویوں میں شمار ہوتا ہے۔
جدید تحقیق نے بھی اس پہلو کو نمایاں کیا ہے۔ مینو مرشہوَلاد جیسے محققین نے واضح کیا ہے کہ کربلا کو بارہا ایسے سیاق و سباق میں سمجھا اور پیش کیا گیا ہے جو اس کے اصل تاریخی پس منظر سے بہت دور ہیں۔ اس واقعے نے نسلا بعد نسلا مختلف معاشروں اور ثقافتوں کی تحریکوں، ادب اور سیاسی تصورات کو متاثر کیا، حتیٰ کہ بعض اوقات یہ اثرات ایک دوسرے سے متضاد بھی رہے۔ یہی تنوع ہمیں بتاتا ہے کہ کربلا کسی ایک مذہبی تصور کی ملکیت نہیں رہی بلکہ ایک ایسی اخلاقی زبان بن چکی ہے جس تک ہر وہ شخص رسائی حاصل کر سکتا ہے جو پاور سنٹرز کی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کرنا چاہتا ہے۔

اسی وسعت کے باعث ماہرِ بشریات مائیکل ایم۔ جے۔ فشر نے “کربلا پیراڈائم” کی اصطلاح وضع کی۔ ان کے نزدیک کربلا محض ایک ماضی کا واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا فکری سانچہ ہے جو مختلف زمانوں کہ پاور سینٹرز کے جبر و استبداد کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ یہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ جب وہ دانستہ طور پر پیدا کردہ ناانصافی کا سامنا کرے تو کیسے عمل کرے۔ یوں کربلا صرف یاد نہیں کی جاتی بلکہ ہر عہد میں نئے معنی کے ساتھ دوبارہ زندہ ہوتی ہے لیکن جب اس کے معنی محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کربلا سمجھ میں آنا بند ہو جاتی ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ کوئی بھی پیراڈائم جامد نہیں ہوتا۔ حالات کے مطابق اس سے مختلف اور بسا اوقات متضاد نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔ چنانچہ کربلا کبھی خاموش صبر کا جواز بنتی ہے تو کبھی کھلی بغاوت کا۔ یہ کوئی جامد نظریہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی زبان ہے جو انسان کو اپنے حالات سمجھنے اور اپنا ردِعمل طے کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ کربلا فطرت کے عطا کردہ اس عطیہ کا استعارہ ہے جو ہر دور میں جبر و استبداد کے خلاف انسان میں فطری طور پر پیدا ہوتا ہے۔
علی شریعتی نے اسی سوچ کے تحت امام حسین رضی اللہ عنہ کو محض ایک تاریخی یا رسوماتی شخصیت کے بجائے ایک زندہ علامتِ بغاوت کے طور پر پیش کیا۔ ان کے نزدیک کربلا ایک دائمی “نہیں” ہے جسے کوئی پاور سینٹر مکمل طور پر جذب نہیں کر سکتا۔
بعد کے محققین، جیسے کہ کامران اسکاٹ آغائی، نے بھی واضح کیا کہ کربلا کی یہی ہمہ گیری اور تنوع اس کی اصل قوت ہے۔ مختلف ادوار میں یہ کبھی موجودہ نظام کو سہنے کا ذریعہ بنی اور کبھی اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ۔
یہی تنوع کربلا کو متنازع بھی بناتا ہے۔ اس کو مختلف گروہوں نے اپنے اپنے مخصوص نظریات کے تحت سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
ایک گروہ وہ ہے جو کربلا کا انکار کرتا ہے۔ یہ پاور سینٹر اور اس کے وکیلوں کا ابتدائی فطری ردِعمل ہوتا ہے، کیونکہ ہر جابر نظام سب سے پہلے مزاحمت کے استعاروں کو مٹانا چاہتا ہے۔ کربلا کا انکار دراصل ایک اخلاقی مثال کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ ظاہر ہے یہ اسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے تاریخ کے صفحات تبدیل کرنے پڑتے ہیں۔ انسان کی توقیر کے بنیادی اصولوں کو فرقہ واریت میں لپیٹ کر دیکھنا اور دکھانا پڑتا ہے۔ انسانی المیہ راویوں کے نقطہ نظر سے دیکھنا پڑتا ہے۔

جب انکار ممکن نہ رہے تو اس کی حیثیت اور اہمیت گھٹا کر اسے ناقابل اعتنا اور معمولی بنا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے نزدیک کربلا محض ایک سیاسی اختلاف تھا۔ اس طرح مزاحمت کی اخلاقی شدت کو کمزور کر دیا جاتا ہے۔ تاریخ کو محض غلط فہمیوں کا مجموعہ بنا دیا جاتا ہے تاکہ اس کی معنویت ختم ہو جائے۔ کبھی اس کو حادثہ بنا کر اگے بڑھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور کبھی اس کو احمق حکومتی اہلکاروں کی کار گزاری۔ اس کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ ایک تو امام حسین کی قربانی کی عظمت زائل ہو جاتی ہے اور دوسرے یزید کا گناہ تحلیل ہو جاتا ہے۔ انہی میں وہ فقیہ بھی شامل ہیں جو فقیہانہ موشگافیوں سے کربلا کی عظمت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان دو گروہوں کے بارے میں ایک بات یہ تو یقین سے کی جا سکتی ہے کہ یہ دونوں مسلمانوں کے گروپس ہیں۔ کسی اہم اور قابل ذکر غیر مسلم مصنف یا مفکر نے کربلا پر وہ نقطہ نظر اختیار نہیں کیا جو مندرجہ بالا دو گروہوں نے اختیار کیا ہے۔ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ جس طرح امام حسین کا قتل مسلمانوں کے ہاتھوں انجام پایا اسی طرح ان کے کام پر اعتراض بھی صرف اور صرف مسلمانوں نے ہی کیا۔
تیسرا گروہ وہ ہے جس نے کربلا کو اپنی عقیدت میں محفوظ رکھا۔ مرثیے، عزاداری اور اجتماعی یاد کے ذریعے انہوں نے اسے زندہ رکھا۔ ان کی کوششوں کے بغیر شاید یہ واقعہ اپنی اس جذباتی شدت کے ساتھ باقی نہ رہتا۔ بعض اوقات اس گروہ کی کوششوں کو حکومتوں کا مرہون منت قرار دیا جاتا ہے۔ ایسا کہنے والے افریقہ، چین عرب ملکوں اور ملائشیا جیسے ملکوں میں منائی جانے والی کربلا کی یاد کو بھول جاتے ہیں یہاں یہ کام حکومتوں کے جبر کے باوجود آج بھی جاری و ساری ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات یہی عقیدت کربلا کو ایک محدود گروہی دائرے میں قید کر دیتی ہے۔
چوتھا گروہ سیکولر اور لبرل تعبیر کرنے والوں کا ہے۔ ان کے نزدیک کربلا انسان کی آزادی اور مزاحمت کی علامت ہے۔ امام حسین کا انکار آزاد ارادے کا اعلیٰ ترین اظہار ہے جس کو حضرت زینب اور حضرت سجاد کی گواہی نے مرنے نہیں دیا۔ اس زاویے سے کربلا صرف غم نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی ذمہ داری کا احساس ہے۔
پانچواں زاویہ سیاسی فکر رکھنے والوں کا ہے جو کربلا کو اقتدار، جواز اور مزاحمت کے مطالعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے لیے یہ سوالات آج بھی زندہ ہیں کہ اقتدار کو جواز کہاں سے ملتا ہے، اطاعت کب جرم بن جاتی ہے، اور مزاحمت کی قیمت کیا ہوتی ہے۔
ان تمام تعبیرات سے ایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کربلا ایک کھلا ہوا آج تک وقوع پذیر ہوتا ہوا اخلاقی منظرنامہ ہے۔ یہ کسی ایک کی ملکیت نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ورثہ ہے۔
آج کے دور میں جب جبر مختلف شکلوں میں موجود ہے، کربلا ہمیں کئی راستے دکھاتی ہے۔
پہلا سبق انکار کا ہے۔ یہ اس فیصلے سے شروع ہوتا ہے کہ ناانصافی کو جواز نہیں دیا جائے گا۔ ہر پاور سینٹر اپنی طاقت کے استعمال کے جواز ڈھونڈتا ہے۔ جابر سے جابر حکمران اپنے کو جائز اور اخلاقی طور پر راست ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ قدیم بادشاہوں سے لے کر جدید استعمار تک سب کی یہی کوشش رہی ہے اور رہتی ہے۔ مزاحمت کا پہلا کام ان کو جائز سمجھنے سے انکار ہے اور یہی وہ پہلا قدم تھا جس کے ساتھ امام حسین نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔
دوسرا سبق اخلاقی وضاحت کو برقرار رکھنے کا ہے، یعنی اس بات پر قائم رہنا کہ اگر تم دنیا کو بدل نہیں سکتے تو کم از کم دنیا کو اپنے آپ کو بدلنے کا موقع نہ دو۔ اخلاقی زندگی کا یہ وہ مقام ہے جہاں پاور سینٹر جان کا خوف دے کر ضمیر خریدتا ہے۔
تیسرا پہلو پاور سنٹر کے خلاف گواہی کی تشکیل ہے، جس کی سب سے طاقتور مثال واقعہ کربلا میں حضرت زینب اور حضرت سجاد کے کردار ہیں، جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ مزاحمت صرف تلوار تک محدود نہیں رہتی بلکہ کلام، یاد اور سچی شہادت کے ذریعے بھی جاری رہتی ہے۔
چوتھا سبق اجتماعیت کی تعمیر ہے، یہ شعور کہ مزاحمت تنہا نہیں پروان چڑھتی بلکہ ایک ایسے معاشرے میں مضبوط ہوتی ہے جہاں لوگ ایک مشترکہ ضمیر اور احساس کے ساتھ جڑے ہوں۔ یوں مزاحمت ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک گروہ کا عمل بن جاتی ہے۔
پانچواں سبق وقار کا اثبات ہے، وہ وقار جسے امام حسین اور ان کے اہلِ خانہ نے اسیری اور مصیبت کے عالم میں بھی برقرار رکھا اور کسی بھی وقت کسی سے بھی کمپرومائز یا مفاہمت کرنے سے انکار کر دیا۔ اور یوں ظالم کو یہ موقع نہ دیا کہ وہ ان کی تذلیل کو اپنی کامیابی بنا سکے۔ اسوہ شبیری کی یہ روش امام حسین کی شہادت کے بعد سے آج تک قائم ہے۔ جب بھی کوئی محکوم پاور سنٹر کے ساتھ مفاہمت سے انکار کرتا ہے تو وہ اصل میں اسوہ شبیری کا ہی پھیلا ہوتا ہے۔
چھٹا سبق امید نا امیدی کہ گہرے اور تاریک گڑھے میں گرنے سے انکار ہے، یہ یقین ہے کہ اخلاقی عمل اپنی جگہ معنی رکھتا ہے، چاہے اس کے نتائج فوری طور پر ظاہر نہ ہوں۔
ساتواں سبق پاور سینٹر پر مکمل عدمِ اعتماد ہے اور یہ یقین کہ طاقت انسانی آزادی اور اختیار کی دشمن ہے۔ اور وہ داخلی بیداری جو انسان کو مجبور کرتی ہے کہ جب طاقت انسانوں کے درد اور رنج کو مٹانے کا تقاضا کرے تو اس پر سوال اٹھائے۔ اس کو شک کی نگاہ سے دیکھے۔ اس کی دی گئی ہر رعایت کو لینے سے انکار کردے۔
اور آٹھواں سبق ضبط، خاموشی اور حکمت کا ہے، یہ سمجھ کہ کب خاموشی اختیار کرنی چاہیے اور کب مزاحمت اور خاص طور پر اس وقت جب تنازعات محض طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان کشمکش ہوں، نہ کہ حقیقی انصاف کی جدوجہد۔۔۔۔۔

استعماری ذہنیت کے تناظر میں دیکھا جائے تو کربلا ایک انقلابی قوت بن جاتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ طاقت کے ساتھ نہیں بلکہ سچ کے ساتھ کھڑے ہونا اصل معیار ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کامیابی صرف جیت کا نام نہیں بلکہ کردار کی سچائی بھی ایک کامیابی ہے۔ مزاحمت کی اس قوت کے حامل افراد کے لیے طاقت کے ہاتھوں قتل ہوجانا کامیابی ہے اور طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابی، ناکامی ہے۔ یہ غلبے کی ہر اس تھیوری کے خلاف ہوں گے جس کا بنیادی طریقہ طاقت کے ایوانوں سے برامد ہوتا ہو۔
آخرکار کربلا کی اصل قوت اس کی سادگی میں ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کے پاس ہمیشہ انتخاب موجود ہوتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی محدود کیوں نہ ہوں۔ امام حسین کا ایک فیصلہ صدیوں تک اسی لیے زندہ رہا کہ اس نے یہ ثابت کیا کہ جبر کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ انسان کے اندر ہمیشہ ایک جگہ باقی رہتی ہے جہاں وہ “نہیں” کہہ سکتا ہے۔
کربلا کو صرف ایک مذہبی واقعہ بنا دینا اس کی وسعت کو کم کرنا ہے۔ یہ دراصل انسان کی اس جرأت کا نام ہے جو اسے ہر دور میں جھکنے سے روکتی ہے۔ یہ جرات ہر دور کے انسان کو ودیعت ہوئی ہے۔ ہر دور میں اس فطرت نے اظہار کے مختلف پیرائے اختیار کیے ہیں۔ کربلا اس پیرائہ اظہار کی ایک روشن ترین مثال ہے۔ یہ ہمیں ایک سادہ مگر گہرا سبق دیتی ہے کہ اخلاقی وضاحت خود ایک فتح ہے، چاہے ظاہری شکست ہی کیوں نہ ہو۔ سچ خاموشی میں پرورش پاتا ہے، یاد میں واپس آتا ہے، اور بالآخر عمل میں ڈھل کر بغاوت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس کو کسی خاص دور، گروہ اور نظریے تک محدود کرنا اس کی تفہیم کو ناممکن بنا دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں